مرجع دینی اعلیٰ نے ایران اور لبنان میں جنگ سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے حقوقِ شرعیہ، بالخصوص خمس، کے استعمال کی اجازت دے دی ہے
حرمِ امام حسینؑ میں امورِ دینیہ کے مسئول جناب شیخ احمد صافی نے عید الفطر کے روز اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مرجعیتِ علیا نے مومنین کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے شرعی حقوق (خمس) کو متاثرین کی خدمت اور امداد کے لیے صرف کر سکتے ہیں
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امدادی سرگرمیاں مستند ذرائع کے ذریعے انجام دی جائیں، جیسے کہ اپنے اپنے ممالک میں مرجعِ اعلیٰ کے نمائندگان، یا قم و نجف میں موجود دفاترِ مرجعیت، یا براہِ راست مستحقین تک رسائی ہو
اسی طرح دیگر مراجعِ کرام نے بھی جنگ سے متاثرہ افراد، خصوصاً فلسطین اور لبنان کے عوام، کی فوری مدد کے لیے شرعی حقوق (خمس کا حصہ، زکوٰۃ اور عطیات) کے استعمال کی خصوصی اجازت دی ہے،متاثرین کو خوراک، علاج اور رہائش فراہم کرنا ایک واجبِ شرعی اور دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے
یہ اقدام موجودہ مشکل حالات میں مومنین کی مدد اور اسلامی اخوت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں بے گناہ شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں اور بے گھر افراد کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں مومنین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر متاثرین کی مدد کریں
مرجعیتِ دینیہ کی اس اپیل کے بعد دنیا بھر سے مومنین اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں، ذرائع کے مطابق وادیٔ کشمیر کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں لوگوں نے نقدی، طلائی زیورات، تانبے کے برتن اور دیگر قیمتی اشیاء عطیہ کرنا شروع کر دی ہیں
رضاکاروں کے مطابق اتوار سے اب تک بچوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد نے نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء عطیہ کی ہیں، اگرچہ بعض رپورٹس میں عطیات کی مالیت 500 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے کیونکہ سونے اور دیگر اشیاء کی گنتی اور قیمت کا تخمینہ ابھی جاری ہے



