ایران میں جنگ کے اثرات: ماحولیاتی تباہی کا خدشہ

2026-03-19 09:58

روس کی اکیڈمی برائے قومی معیشت کے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر الیگزینڈر فوروتنیکوف نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کے جلنے سے پیدا ہونے والی آگ کے اثرات ماحولیات کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں

ان کے مطابق، ایران میں تیل ذخیرہ کرنے والی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں بھڑکنے والی آگ نہ صرف قطبِ شمالی بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے برف کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ، فضائی آلودگی میں شدت، اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی و صہیونی حملوں کے دوران ایران کے تیل مراکز کو نشانہ بنانے سے کرۂ ارض کے ماحولیاتی نظام پر نہایت گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً قطبِ شمالی پر۔ فضائی روئیں مختلف اوقات اور مقامات پر مختلف سمتوں میں حرکت کرتی ہیں، اس لیے یہ بعید نہیں کہ جلنے سے پیدا ہونے والے ذرات بالآخر قطبِ شمالی تک پہنچ جائیں

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس عمل کے نتائج انتہائی تشویشناک ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے پیدا ہونے والا مادہ بلیک کاربن (کالک) ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کالک قطبِ شمالی، بالخصوص روسی خطے میں جمع ہو سکتی ہے، جس سے برف کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو جائے گی اور وہاں کے موسمی و ماحولیاتی حالات بری طرح متاثر ہوں گے، جو بالآخر پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچاتے ہوئے جانوروں کی ہلاکت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ قطبِ شمالی کے موسمی حالات میں بگاڑ پیدا ہونا اس بحران کے خطرناک ترین نتائج میں سے ایک ہوگا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہاں درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا، اور ایسے عوامل دنیا کو ایک ممکنہ ماحولیاتی بحران کے قریب لے جا رہے ہیں

العودة إلى الأعلى