امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی وصیتیں ،زندگی گزارنے کے رہنما اصول

2026-03-11 00:55

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا کلام دراصل کتابِ خداوندی کے نور کی تفسیر ہے۔ یہ صرف رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی کی نصیحتیں ہی نہیں بلکہ وہ نورانی کلمات ہیں جو آپؑ نے اپنی بابرکت زندگی کے دوران ارشاد فرمائے اور اپنے وفادار و مخلص اصحاب کو عطا کیے

اگرچہ تاریخ سید البلغاء اور وصی مصطفیٰؐ کے حکیمانہ اقوال اور عظیم کارناموں سے بھری ہوئی ہے، لیکن یہاں ہم ان نورانی کلمات کا ذکر کریں گے جو آپؑ نے نہایت قیمتی تحفے کی مانند اپنے مخلص اور جلیل القدر صحابی کمیل بن زیاد رضوان اللہ علیہ کو عطا فرمائے

اگرچہ ان وصیتوں کے ابواب تیس سے بھی زیادہ ہیں، مگر یہاں ہم ان میں سے چند کا ذکر کریں گے، خصوصاً وہ وصیتیں جنہیں آج کے دور میں یاد کرنا اور اپنی زندگی کا اصول بنانا امتِ اسلامی کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ موجودہ زمانے میں امت مختلف آزمائشوں اور مشکلات سے گزر رہی ہے

یہ وصیتیں سعید بن زید بن ارطاة نے نقل کی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کمیل بن زیاد سے ملاقات کی اور ان سے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی فضیلت کے بارے میں پوچھا

انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ وصیت نہ بتاؤں جو ایک دن امیر المؤمنینؑ نے مجھے فرمائی تھی اور جو دنیا و مافیہا سے بہتر ہے؟

میں نے کہا: کیوں نہیں۔

تو انہوں نے فرمایا: ایک دن امیر المؤمنینؑ نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے کمیل بن زیاد!

ہر دن کا آغاز اللہ کے نام سے کرو، لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھ کر اللہ پر توکل کرو، ہمارا ذکر کرو، ہمارے ناموں کو پکارو، ہم پر درود بھیجو اور اللہ سے پناہ طلب کرو، تو اللہ کے حکم سے اس دن کی برائی تم سے دور رہے گی

اے کمیل! رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ادب سکھایا، انہوں نے مجھے ادب سکھایا اور میں مومنین کو ادب سکھاتا ہوں، اور یہ ادب بزرگان تک وراثت کے طور پر منتقل ہوتا ہے

اے کمیل! کوئی علم ایسا نہیں جس کا دروازہ میں نے نہ کھولا ہو، اور کوئی راز ایسا نہیں جس پر قائم علیہ السلام مہر نہ لگائیں گے

اے کمیل! ہمارے علاوہ کسی سے علم حاصل نہ کرو تاکہ تم ہم میں سے شمار ہو جاؤ۔

اے کمیل! مال میں برکت زکوٰۃ ادا کرنے، مومنین کے ساتھ ہمدردی کرنے اور قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے میں ہے۔

اے کمیل! مومن کے حسنِ اخلاق کا زیور عاجزی ہے، اس کی خوبصورتی پاکدامنی ہے، اس کی شرافت شفقت ہے اور اس کی عزت فضول باتوں کو چھوڑ دینے میں ہے

اے کمیل! منافقوں سے دور رہو اور خائن لوگوں کی صحبت اختیار نہ کرو

اے کمیل! اگر تمہارا راز لوگوں کو معلوم نہ ہو تو اس میں بہتری ہے

اے کمیل! لوگوں کے سامنے اپنی محتاجی اور مجبوری ظاہر نہ کرو بلکہ عزت اور پردہ داری کے ساتھ صبر کرو۔

اے کمیل! ہر سختی کے وقت کہو:

لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم تو وہ مشکل آسان ہو جائے گی

ہر نعمت پر الحمدللہ کہو تو وہ بڑھ جائے گی اور اگر رزق میں تاخیر ہو تو استغفار کرو، اللہ اس میں وسعت عطا کرے گا

اے کمیل! جب شیطان تمہارے دل میں وسوسہ ڈالے تو کہو: اعوذ باللہ القوی من الشیطان الغوی، واعوذ بمحمد الرضی من شر ما قدر وقضی، واعوذ بإلہ الناس من شر الجنۃ والناس اجمعین

تو اس طرح شیطان اور اس کے لشکروں کا شر تم سے دور ہو جائے گا

اے کمیل! تم اس وقت ہی ثابت قدم رہنے کے مستحق ہو گے جب تم اس واضح اور سیدھے راستے پر قائم رہو گے جو نہ تمہیں ٹیڑھے پن کی طرف لے جائے اور نہ اس راستے سے ہٹائے جس کی ہم نے تمہیں تعلیم دی اور جس کی طرف ہم نے تمہاری رہنمائی کی۔

اے کمیل! زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے اور دل اسی غذا سے قوت حاصل کرتا ہے جو اسے ملتی ہے۔ لہٰذا غور کرو کہ تم اپنے دل اور جسم کو کس چیز سے غذا دے رہے ہو۔ اگر وہ حلال نہ ہو تو اللہ تمہاری تسبیح اور شکر کو قبول نہیں کرے گا

اے کمیل! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن مجھ سے فرمایا، جب مہاجرین و انصار نصف رمضان کو عصر کے بعد منبر کے پاس جمع تھے اور آپ کھڑے تھے علی مجھ سے ہے اور میرے دونوں بیٹے علی سے ہیں۔ پاکیزہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ وہ اپنی ماں کے بعد پاکیزہ ہستیاں ہیں۔ وہ کشتی ہیں؛ جو اس میں سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا ہلاک ہو گیا۔ نجات پانے والا جنت میں ہوگا اور ہلاک ہونے والا جہنم میں ہوگا۔

یہ قیمتی وصیتیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا مکتبِ فکر انسان کی روحانی تربیت اور مومن انسان کی شخصیت سازی میں کس قدر گہرا اور جامع ہے

ان وصایا میں توحید، ذکرِ الٰہی، اخلاق، معاملات، فتنوں سے بچاؤ اور اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت پر ثابت قدمی سب کچھ جمع ہے۔ اسی لیے یہ وصیتیں ہر دور کے لیے ہدایت کا چراغ، مشکلات کے زمانوں میں روحانی رہنما اور ایک ایسا عملی دستورِ حیات ہیں جس کی افادیت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

پس سلام ہو امیر المؤمنینؑ پر اس دن جب آپ مقدس ترین مقام پر پیدا ہوئے، سلام ہو اس دن جب آپ بیت اللہ میں شہید ہوئے، اور سلام ہو اس دن جب آپ دوبارہ زندہ اٹھائے جائیں گے اور اپنے محبّوں اور پیروکاروں کو حوضِ کوثر سے سیراب کریں گے۔

جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا علی! تم جنت اور جہنم کے تقسیم کرنے والے ہو، اور قیامت کے دن تم میرے حوض کے صاحب ہو

العودة إلى الأعلى