ماہِ رجب کی فضیلت روایاتِ معصومین علیہم السلام کی روشنی میں
اسلامی معارف میں اگرچہ تمام زمان و مکان تقربِ الٰہی کا ذریعہ ہیں، لیکن ان میں بعض اوقات اور مقامات کو خصوصی فضیلت اور امتیازی مقام عطا کیا گیا ہے
اسی طرح بعض مہینے اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ، عنایت اور رحمت کے مظہر قرار پائے ہیں۔ انہی منتخب مہینوں میں سے ایک ماہِ مبارک رجب المرجب ہے جسے روایاتِ معصومین علیہم السلام میں غیر معمولی عظمت و شرافت حاصل ہے۔ یہ مہینہ براہِ راست ذاتِ پروردگار سے منسوب کیا گیا ہے، جیسا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے:
رجبٌ شہرُ اللہ، و شعبانُ شہرِی، و رمضانُ شہرُ امَّتی۔
یعنی رجب اللہ کا مہینہ ہے، شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رجب کو ایک خاص الٰہی نسبت حاصل ہے جو اسے دیگر مہینوں سے ممتاز بناتی ہے
روایات میں ماہِ رجب کو رحمتِ الٰہی کے نزول اور فیضانِ ربانی کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
رجبٌ شہرُ اللہ الاصبُّ، یصبُّ اللہ فیہ الرحمۃ علی عبادہ۔
یعنی رجب اللہ کا وہ مہینہ ہے جس میں وہ اپنے بندوں پر رحمتیں انڈیل دیتا ہے
یہاں لفظ الاصبّ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس مہینے میں رحمتِ الٰہی مسلسل، فراواں اور ہمہ گیر انداز میں نازل ہوتی ہے، اور ہر وہ بندہ جو صدقِ دل سے اللہ کی طرف رجوع کرے، اس رحمت کا مستحق بن جاتا ہے۔
اسی بنا پر اہلِ بیت علیہم السلام نے اس مہینے کو توبہ، استغفار اور روحانی تطہیر کا خاص زمانہ قرار دیا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
رجبٌ شہرُ الاستغفار لامَّتی، فاکثروا فیہ من قولِ استغفراللہ و اسالہ التوبة۔
یعنی رجب میری امت کے لیے استغفار کا مہینہ ہے، پس اس میں کثرت سے کہو: میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس سے توبہ طلب کرتا ہوں۔ اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ ماہِ رجب کا بنیادی پیغام انسان کو گناہوں سے پاک کر کے اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف لے جانا ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے ایک اور عظیم الشان روایت منقول ہے: انَّ اللہ تبارک و تعالی نصب فی السماء السابعة ملکاً یقال له الداعی، فإذا دخل شهر رجب ینادی ذلک الملک کلَّ لیلہٍ منه الی الصباح: طوبی للذاکرین، طوبی للطائعین، ویقول اللہ تعالی: انا جلیس من جالسنی، و مطیع من اطاعنی، و غافر من تغفرنی، الشہر شہرِی و العبد عبِدی و الرحمه رحمتی، فمن دعانی فی هذا الشہر اجبته، و من سألنی اعطیتہ، و من استہدانی ہدیته، و جعلت هذا الشہر حبلاً بینِی و بین عبادی، فمن اعتصم بہ وصل الیّ۔
جس میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان میں ایک فرشتہ مقرر فرمایا ہے جسے داعی کہا جاتا ہے۔ جب ماہِ رجب داخل ہوتا ہے تو وہ فرشتہ رات بھر ندا دیتا ہے: خوش نصیب ہیں ذکر کرنے والے، خوش نصیب ہیں اطاعت کرنے والے! پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اس کا ہم نشین ہوں جو میرا ہم نشین بنے، میں اس کا مطیع ہوں جو میری اطاعت کرے، میں اس کی مغفرت کرنے والا ہوں جو مجھ سے مغفرت طلب کرے۔ یہ مہینہ میرا مہینہ ہے، بندہ میرا بندہ ہے اور رحمت میری رحمت ہے۔ جو اس مہینے میں مجھے پکارے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا، جو مجھ سے مانگے گا میں اسے عطا کروں گا، اور جو ہدایت طلب کرے گا میں اسے ہدایت دوں گا۔ میں نے اس مہینے کو اپنے اور بندوں کے درمیان ایک مضبوط رسی قرار دیا ہے، جو اس سے وابستہ ہو گیا وہ مجھ تک پہنچ گیا۔
ماہِ رجب کی عظمت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں نیکیوں کے اجر کو کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
رجبٌ شہرٌ عظيمٌ، یضاعف فیہ الحسنات و یمحی فیہ السیئات۔
یعنی رجب ایک عظیم مہینہ ہے، اس میں نیکیاں دگنی کر دی جاتی ہیں اور گناہوں کو محو کر دیا جاتا ہے۔
رجب المرجب کے روزوں کی فضیلت کے بارے میں بھی متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت ہے:
رجبٌ نہرٌ فی الجنہ اشد بیاضاً من اللبن و احلی من العسل، من صام یوماً من رجب سقاہ اللہ من ذلک النہر۔
یعنی رجب جنت کی ایک نہر کا نام ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے، جو شخص رجب میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے اس نہر سے سیراب کرے گا۔
اسی طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
انَّ فی الجنہ قصراً لا یدخلہ الا صوّامُ رجب۔
یعنی جنت میں ایک ایسا محل ہے جس میں صرف رجب کے روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔
ماہِ رجب کی جامع فضیلت کو مرحوم شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب فضائل الأشہر الثلااثہ میں نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے، جہاں وہ یہ روایت نقل کرتے ہیں:
من صام یوماً من رجب فی اوّله او فی وسطه او فی اخره غفر لہ ما تقدم من ذنبه و ما تأخر، و من صام ثلاثة ایام من رجب فی اوّله و ثلاثة ایام فی وسطه و ثلاثة ایام فی اخره غفر لہ ما تقدم من ذنبه و ما تأخر، و من احیا لیلةً من لیالی رجب اعتقه اللہ من النار و قبل شفاعتہ فی سبعین الف رجل من المذنبین، و من تصدق بصّدقۃ فی رجب ابتغاءً وجه اللہ اکرمہ اللہ یوم القیامہ فی الجنة من الثواب ما لا عین رات و لا اذن سمعت و لا خطر علی قلب بشر۔
جس شخص نے ماہِ رجب کے شروع، درمیان یا آخر میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کو بخش دیتا ہے، اور جو شخص رجب کے شروع میں تین دن، درمیان میں تین دن اور آخر میں تین دن روزہ رکھے، اس کے تمام سابقہ و لاحقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو شخص ماہِ رجب کی کسی رات کو عبادت کے ساتھ زندہ رکھے، اللہ اسے جہنم کی آگ سے آزاد کر دیتا ہے اور اس کی ستر ہزار گناہگاروں کے حق میں شفاعت قبول فرماتا ہے، اور جو شخص اس مہینے میں خالص رضائے الٰہی کی خاطر صدقہ دے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن جنت میں ایسا عظیم اجر عطا فرمائے گا جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا، نہ کسی کان نے سنا ہوگا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا تصور آیا ہوگا۔
ان تمام روایات کے مجموعی مطالعے سے یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ماہِ مبارک رجب اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت، مغفرت اور قرب کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس زمانہ ہے جو انسان کو گناہوں سے نجات، باطنی اصلاح اور روحانی بیداری کا موقع فراہم کرتا ہے اور ماہِ شعبان و رمضان المبارک کی تیاری کا بہترین ذریعہ بنتا ہے۔ جو شخص اس مہینے کی قدر و منزلت کو پہچانتے ہوئے عبادت، استغفار، روزہ اور خیرات کو اپنا شعار بناتا ہے، وہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت اور قربِ الٰہی کا مستحق قرار پاتا ہے



