کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

مرجع اعلی سید علی سیستانی دام ظلہ الوارف سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمایندے کی ملاقات

2024-11-04 09:31

آج بروز پیر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے اور عراق میں اس کے مشن کے سربراہ محمد الحسان نے مرجع دینی اعلیٰ سید علی سیستانی دام ظلہ الوارف سے نجف اشرف میں ان کے مرکزی دفتر میں ملاقات کی۔

مرجع اعلیٰ سید علی سیستانی نے نجف اشرف میں اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران جو گفتگو فرمائی، اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:

مرجع اعلیٰ نے اس ملاقات میں عراق کو درپیش بڑے چیلنجوں اور مختلف شعبوں میں عراقی عوام کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔

سید سیستانی نے کہا کہ عراقی عوام، خصوصاً باشعور افراد کو اپنے گزرے ہوئے تجربات سے سبق لینا چاہیے اور ان ناکامیوں سے نکلنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ انہیں اپنے وطن کے بہتر مستقبل کے لیے انتھک محنت کرنی چاہیے تاکہ ہر شخص امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی زندگی گزار سکے۔

سید سیستانی نے زور دیا کہ یہ مقاصد بغیر علمی و عملی منصوبہ بندی کے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی قیادت میرٹ اور دیانت داری کی بنیاد پر ہو، بیرونی مداخلت کو روکا جائے، قانون کی حکمرانی قائم کی جائے، اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہو، اور ہر سطح پر کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔

سید سیستانی نے لبنان اور غزہ میں جاری مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ اس بحران کو روکنے یا کم از کم عام شہریوں کو جارحیت کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔

ابو علی

منسلکات

العودة إلى الأعلى