کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

قائد مقاومت سید حسن نصر اللہ کی المناک شہادت پر مرجع اعلیٰ سید سیستانی دام ظلہ العالی کے بیان کا اردو ترجمہ:

2024-09-28 15:16

بسم اللہ الرحمن الرحیم (من المومنین رجال صدقو ما عاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نخبہ و منھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا) (سورۃ الاحزاب: 23) ترجمہ: "مومنین میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے بعض نے اپنی ذمہ داری کو پورا کیا اور ان میں سے بعض انتظار کر رہے ہیں اور وہ ذرا بھی نہیں بدلے۔

ہم نے انتہائی افسوس اور غم کے ساتھ یہ خبر سنی کہ علامہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن نصر اللہ اور ان کے برادران جو کہ مقاومت شریفہ (لبنانی مقاومت) کا حصہ تھے، اور درجنوں معصوم شہری، عزیز بیروت کے علاقے میں اسرائیلی دشمن کی جانب سے کیے گئے المناک قتل عام میں شہید ہو گئے ہیں۔ یہ عظیم شہید ایک بے نظیر قائد تھے کہ جس کی مثال حالیہ دہائیوں میں بہت ہی کم ملتی ہے۔ شھید نے اسرائیلی قبضے کے خلاف فتح حاصل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور لبنان کی سرزمین کو آزاد کرایا۔ انہوں نے عراقیوں کی بھی جو مدد ہو سکتی تھی وہ مدد کی اور ان کو داعش کے دہشت گردوں سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں انہوں نے بڑی شجاعت کا مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ اپنی قیمتی جان اس راستے میں قربان کر دی۔

ہم معزز لبنانی قوم، اور دنیا بھر کی تمام مظلوم اقوام کو اس عظیم سانحے پر تعزیت پیش کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی وسیع رحمت اور رضا میں جگہ دے اور انہیں اپنے اولیاء، محمد اور ان کی پاک آل کے ساتھ اعلیٰ علیین میں جمع فرمائے اور ان کے اہل خانہ اور تمام سوگواروں کو صبر اور تسلی عطا فرمائے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

تاریخ:24 ربیع الاول 1446ھ، مطابق 28 ستمبر 2024

مکتب سید سیستانی - نجف اشرف

العودة إلى الأعلى