ستمبر 2026 میں ترکی آنے والے عرب سیاحوں میں عراق سرفہرست الوارث پرنٹنگ پریس: ایک خواب، ایک عزم، ایک روشن تعبیر روحانیت میں ڈوبے سنہری گنبد اور آسمان سے باتیں کرتے بلند و بالا مینار، ایسا دلکش اور نورانی منظر پیش کرتے ہیں کہ نگاہیں عقیدت سے جھک جاتی ہیں اور دل محبت و وارفتگی سے لبریز ہو جاتے ہیں مرجعیتِ اعلیٰ کے نمائندے کا قرآنی پروگراموں میں وسعت اور عملی تعلیم کے فروغ پر زور حوزۂ علمیہ نجف اشرف کی ہزار سالہ تاریخ کے اعتراف میں خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا قدیم مخطوطات کی حفاظت کے لیے حرم امام حسینؑ کا خصوصی شعبہ سرگرم حرم امام حسینؑ کا ہالینڈ کی زرعی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر غور پاکستان: برطانیہ سے مومنین کے وفد کا امام حسینؑ ثقافتی مرکز اسلام آباد کا دورہ ویٹیکن کے سفیر کی کربلا میں مرجعیتِ دینیہ اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی سے ملاقات حرم امام حسینؑ بجلی کے نظام کی ترقی اور پیداوار میں اضافے کے لیے سرگرم

عراق نے لبنان کے لیے اپنی سرحدیں کھول دیں

2024-09-25 08:52

عراقی حکومت نے آج، منگل کو، عراق میں موجود لبنانی شہریوں کے لیے ویزا کی مدت میں توسیع کا اعلان کیا ہے اور انہیں غیر ملکیوں کے قیام کے قانون سے استثنا دیا ہے، جو کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے پیش نظر کیا گیا ہے

عراقی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ لبنانی شہریوں کی ویزا کی مدت میں 30 دن کی توسیع کی گئی ہے اور اس کی دوبارہ توسیع بھی کی جائے گی۔

یہ توسیع قانون نمبر (76 ،سال 2017) کے تحت، لبنان کی موجودہ جنگی حالات کے پیش نظر کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ وقت میں لبنانی شہریوں کو قانون کے مطابق عائد کی جانے والی سزاؤں سے بھی معاف کیا جائے گا، اور عراقی سرحدی چیک پوسٹس پر پہنچنے والے لبنانی شہریوں کو ویزا مفت فراہم کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات "لبنانی عوام کی مشکل حالات" کی بنا پر کیے گئے ہیں، جو حالیہ دنوں میں اسرائیلی حملے کا شکار ہیں، اور یہ عراق کی جانب سے لبنان کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کے اظہار کے طور پر ہیں۔

یہ اقدامات مرجعیت علیا کے بیان کے بعد کیے گئے ہیں، جس میں لبنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی حملے کے فوری خاتمے اور لبنانی عوام کی حفاظت کی درخواست کی گئی تھی۔

مرجعیت علیا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنانی عوام اس وقت اسرائیلی حملوں کا سامنا کر رہے ہیں، جو کہ بڑے پیمانے پر، وحشیانہ طریقوں سے کیے جا رہے ہیں، جن میں ذاتی مواصلاتی آلات کی تباہی، شہری مکانات کی تباہی حتی بچوں اور عورتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جنوبی اور بقاع کے کئی گاؤں اور قصبوں پر کثیر بمباری شامل ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہادتیں، زخمی اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

 مرجعیت علیا نے لبنانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ ان کی حفاظت فرمائے، شہداء کو رحمت عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی دے۔

انہوں نے اس وحشیانہ حملے کو روکنے اور لبنانی عوام کو اس کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کی اپیل کی، اور مؤمنین کو انسانیت کی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کی دعوت دی

منسلکات

العودة إلى الأعلى