کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

پاکستان: مؤسسہ امام حسین علیہ السلام برائے مکالمہ و فروغ امن کی جانب سے جشنِ ولادتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انعقاد

2024-09-24 10:45

عتبہ حسینیہ مقدسہ سے وابستہ مؤسسہ امام حسین علیہ السلام برائے مکالمہ و فروغ امن نے پاکستان میں پیغمبر اکرم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کے موقع پر ایک عظیم الشان جشن کا انعقاد کیا، جس میں 350 سے زائد شخصیات نے شرکت کی

اس موقع پر مؤسسہ کے ڈائریکٹر، احسان صالح حکیم نے بتایا کہ "یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں اس نوعیت کا جشن منعقد ہوا، جس میں مختلف اسلامی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات کے ساتھ ساتھ حکومتی اور سفارتی شخصیات، بشمول عراقی سفیر، نے شرکت کی

انہوں نے مزید کہا کہ شرکاء نے اپنے خطابات میں پاکستان میں مختلف مسالک کے درمیان پرامن باہمی بقاء، مکالمے اور وسیع النظری کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور نفرت و ظلم کو مسترد کرنے کی اپیل کی۔

احسان حکیم نے وضاحت کی کہ کچھ خطابات میں فلسطینی عوام پر صہیونی قبضے کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کا تذکرہ بھی کیا گیا اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ ظلم کا خاتمہ ہو سکے۔

انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ عتبہ حسینیہ مقدسہ اور پاکستان میں عراقی سفارت خانے کے تعاون سے اس جشن کے انعقاد میں پیش آنے والی مشکلات کو دور کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا گیا اور اس بابرکت موقع کے احیاء میں یہ تعاون کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔

ابو علی

منسلکات

العودة إلى الأعلى