کربلا: عتبۂ عباسیہ نے سولر پینلز کی تیاری کے لیے النور فیکٹری کا افتتاح کر دیا آنکھوں کے ساحلوں پر ہے اشکوں کا ہجوم شاید غم حسینؑ کا موسم قریب ہے فتویٰ دفاعِ کفائی نے عراق کو تباہی سے بچایا اور ایک نئے انسانی و تہذیبی دور کا آغاز کیا، سید احمد اشکوری قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی کربلا: تیسرے سالانہ فتویٰ دفاعِ کفائی فیسٹیول کا آغاز کربلا: نئی نسل کو جدت، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھانے کے لیے منفرد منصوبے کا آغاز حرمِ امام حسینؑ میں سالانہ مبلغین کانفرنس، ملک بھر سے 1000 سے زائد مبلغین و مبلغات کی شرکت وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد ترکیہ میں عیدِ غدیر کے موقع پر عظیم الشان جشن کا انعقاد دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی قرآنی ہفتے کا آغاز، 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت

کربلاء میں بحرینی موکب زائرینِ امام حسین (ع) کی خدمت میں مصروف

2024-08-21 09:13

بحرینی مومنین کی جانب سے کربلاء معلی میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے لئے آنے والے زائرین کی خدمت کے لئے موکب کا اہتمام کیا گیا ہے

بحرینی مومنین کی جانب سے کربلاء معلی میں چہلم امام حسین علیہ السلام کے لئے آنے والے زائرین کی خدمت کے لئے موکب کا اہتمام کیا گیا ہے۔

موکب کے ایک مخلص کارکن عادل عبداللہ نے کربلاء انٹرنیشنل نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سالوں سے کربلاء میں مملکت بحرین کی جانب سے لگائے گئے موکب الحسن المجتبیٰ (علیہ السلام)، میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر عمر کے رضاکار خدمت انجام دے رہے ہیں"

انہوں نے مزید کہا کہ امام حسین علیہ السلام کے زائرین کی خدمت ایک عظیم سعادت اور نعمت ہے جس کا ہمیں ہر سال شرف حاصل ہوتا ہے اور ہم اس پر بہت خوش ہیں۔

موکب کے ایک اور رضا کار ابو علی الہادی کا کہنا ہے کہ ہمارے موکب میں زائرین کے لئے تین ٹائم(ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا) دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ دن کے مختلف اوقات میں جوس ،شربت مٹھائیاں اور سعودیہ کی اعلی کوالٹی کی کھجور تقسیم کی جاتی ہے۔ 

انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ اربعین حسینی کے زائرین کی خدمت میں جو سکون ملتا ہے وہ ناقابل بیان ہے، اور یہ لمحات ہماری زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔

 ہم کتنی ہی خدمات کریں اس کو بہت ہی کم سمجھتے ہیں 

العودة إلى الأعلى