نبی اکرم ﷺکی امام حسین ؑ سے محبت و عقیدت
کوئی انسان اس وقت تک مسلمان اور کوئی مسلمان اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کاملاً اس کا عقیدہ یہ نہ ہو کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زبان مبارک سے اس وقت تک ایک لفظ کیا، ایک حرف بھی برآمد نہیں ہوتا، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا نزول نہ ہوتا ہو
جس شخص کا قرآن کریم پر ایمان ہے، وہ اس قرآنی آیت پر بھی کامل و اکمل یقین رکھتا ہے، جس میں سید الانبیاء کے بارے میں فرما دیا گیا ہے کہ میرا نبی ﷺاس وقت تک نطق نہیں کرتا، یعنی بولتا ہی نہیں، بات ہی نہیں کرتا، جب تک اس پر اس کے اللہ کی طرف سے وحی کا نزول نہ ہو۔ اس عقیدے کی روشنی میں تمام اہل ایمان اور اہل اسلام کو قرآن کریم کے بعد اپنے پیارے نبی ﷺکی زبان سے نکلی ہر بات اور ہر حدیث پر بھی ویسا ہی یقین، ایمان اور اعتقاد رکھنا پڑتا ہے، جس طرح قرآن عظیم کی آیات پر
لامحالہ ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہمارے عظیم نبی ﷺجو احکام بیان فرما دیں، انہیں من و عن تسلیم کرنا ہوگا۔ جن عبادات کی ادائیگی کا حکم دے دیں، انہیں ویسے ہی ادا کرنا ہوگا۔ جس چیز یا امر کو حلال فرما دیں، اسے ہی حلال ماننا ہوگا اور جسے حرام قرار دے دیں، اسے حرام ہی رکھنا ہوگا
اسی طرح یہی پیغمبر ﷺاگر کسی شخص کی فضیلت بیان فرما دیں تو اسے بغیر کسی تاویل کے تسلیم کرنا ہوگا اور اگر کسی شخص کو جھوٹا، پست یا فاسق وغیرہ فرما دیں تو اسے بھی بناء کسی تردد کے قبول کرنا ہوگا
قرآنی آیات اور سیرت نبوی ﷺ کا دقت سے مطالعہ کیا جائے تو حضور اکرم ﷺ نے بعض صحابہ کے بارے میں اپنی محبت کا اظہار فرمایا ہے، اسی محبت کو دلیل بنا کر اہل اسلام ان اصحاب سے محبت کرتے ہیں، لیکن قطعی تاریخی شواہد اس بات کو عیاں کرتے ہیں کہ ہمارے عظیم نبی ﷺ نے جس طرح اپنے اہل خانہ یعنی اہل بیت کے ساتھ اپنی قربت، محبت اور فضیلت کا ذکر کیا ہے، ویسا کسی اور کے ساتھ نہیں کیا
ان میں مزید خصوصیت کے ساتھ اپنے بھائی حضرت علی علیہ السلام، اپنی بیٹی سیدہ فاطمة الزہرا سلام اللہ علیھا اور اپنے نواسوں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے فضائل و مناقب اور ان کے مقام و مرتبے سے امت کو آگاہ کیا ہے۔ ان شخصیات کو اپنا لازمی حصہ اور نفس قرار دیا۔ بھائی کو اپنی طرح امت کا مولا و آقا قرار دیا، بیٹی کو کائنات کی عورتوں اور جنتی عورتوں کی سردار قرار دیا اور نواسوں کو جوانان ِجنت کا سردار اور اپنے میں سے قرار دیا۔ ذیل کی احادیث کا ہم اپنے نبی کی وحی ترجمان زبان کے تناظر میں دیکھنے کے علاوہ خود نبی اکرم ﷺکی طرف سے معروف و مستند فرمان ’’حسین و منی وانا من الحسین‘‘ یعنی میرا نواسہ "حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں" کی روشنی میں دیکھیں گے، تاکہ مطلوبہ نتیجہ تک پہنچا جا سکے
حضرت رسول خدا ﷺاپنے فرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے آپ کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی شان و منزلت اور کیا مقام تھا اس سلسلہ میں آپ کی بعض احادیث مندرجہ ذیل ہیں
جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول کا فرمان ہے من اراد ان ینظرالیٰ سید شباب اھل الجنۃ فلینظرالیٰ الحسین بن علی
ترجمہ : جوشخص جنت کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چا ہتا ہے وہ حسین بن علی کے چہرے کو دیکھے
ابو ہریرہ سے روایت ہے :میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ امام حسین ؑ کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے یہ فرما رہے تھے اللھم انی احِبُّہ فاحبّہ پروردگار میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر
یعلی بن مرہ سے روایت ہے :ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں جا رہے تھے تو آنحضرت نے دیکھا کہ حسین ؑ سکوں سے کھیل رہے ہیں تو آپ نے کھڑے ہوکر اپنے دونوں ہاتھ امام ؑ کی طرف پھیلادئے ،آپ مسکرارہے تھے اور کہتے جا رہے تھے، بیٹا ادھر آؤ ادھرآؤیہاں تک کہ آپ نے امام حسین ؑ کو اپنی آغوش میں لے لیاایک ہاتھ سے ان کو تھام لیا اور دوسرے سے سر پکڑ کر ان کے بوسے لئے اور فرمایاحسین منی وانامن حسین،احب اللّٰہ من احب حسینا،حسین سبط من الاسباط ترجمہ :حسین ؑ مجھ سے ہے اور میں حسین ؑ سے ہوں خدایاجو حسین ؑ محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسین ؑ بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے
یہ حدیث نبی اکرم ﷺ اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان عمیق رابطہ کی عکا سی کرتی ہے، لیکن اس حدیث میں نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان کہ حسین منی حسین مجھ سے ہے اس سے نبی اور حسین ؑ کے مابین نسبی رابطہ مراد نہیں ہے چونکہ اس میں کو ئی فا ئدہ نہیں ہے بلکہ یہ بہت ہی گہری اور دقیق بات ہے کہ حسین ؑ نبی کی روح کے حا مل ہیں وہ معاشرۂ انسا نی کی اصلاح اور اس میں مسا وات کے قا ئل ہیں۔لیکن آپ کا یہ فرمان: وانا من حسین اور میں حسین سے ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام مستقبل میں اسلام کی راہ میں قربا نی دے کر رہتی تاریخ تک اسلام کو زندۂ جا وید کریں گے ، لہٰذا حقیقت میں نبی حسین ؑ سے ہیں کیونکہ امام حسین ؑ نے ہی آپ کے دین کو دوبارہ جلا بخشی ، ان طاغوتی حکومتوں کے چنگل سے رہا ئی دلائی جو دین کو مٹا نا اور زند گی کو جا ہلیت کے دور کی طرف پلٹانا چا ہتے تھے ، امام حسین ؑ نے قر بانی دے کر امویوں کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکا اور مسلمانوں کو ان کے ظلم و ستم سے آزاد کرایا
سلمان فا رسی سے روایت ہے :جب میں نبی کی خدمت میں حا ضر ہوا تو امام حسین ؑ آپ کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی آپ کے رخسار پر منہ ملتے ہوئے فر ما رہے تھے انت سیدُ بْنُ سَیَّد،انت امام بن امام،وَاَخُوْااِمَامٍ،وَاَبُوالاَءِمَۃِ،وَاَنْتَ حُجَّۃُ اللّٰہِ وَابْنُ حُجَّتِہِ،وَاَبُوْحُجَجٍ تِسْعَۃٍ مِنْ صُلْبِکَ،تَاسِعُھُمْ قَاءِمُھُمْ آپ سید بن سید،امام بن امام ،امام کے بھا ئی،ائمہ کے باپ ،آپ اللہ کی حجت اور اس کی حجت کے فرزند،اور اپنے صلب سے نو حجتوں کے باپ ہیں جن کا نواں قا ئم ہوگا
۵۔ابن عباس سے مروی ہے :رسول اسلام اپنے کا ندھے پر حسین ؑ کو بٹھا ئے لئے جا رہے تھے تو ایک شخص نے کہا نِعم المرکب رکبت یاغلام ،فاجا بہ الرسول : ونعم الراکب ھُوَ اچھا مرکب (سواری )ہے جو اس بچہ کو اٹھا ئے ہوئے ہے، رسول اللہ (ص)نے جواب میں فرمایا: یہ سوار بہت اچھا ہے
۶۔رسول اللہ کا فرمان ہے ھذا(یعنی :الحسین ؑ )امام بن امام ابوائمۃٍ تسعۃٍ یعنی امام حسین ؑ امام بن امام اور نو اماموں کے باپ ہیں
۷۔یزید بن ابو زیاد سے روایت ہے :نبی اکر م ﷺ عا ئشہ کے گھر سے نکل کر حضرت فاطمہ زہراؑ کے بیت الشرف کی طرف سے گذرے تو آپ کے کانوں میں امام حسین ؑ کے گریہ کرنے کی آواز آ ئی، آپ بے چین ہوگئے اور جناب فاطمہ ؑ سے فر مایا:’’اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَاءَہُ یُوْذِیْنِیْ؟ کیا تمھیں نہیں معلوم حسین کے رونے سے مجھ کو تکلیف ہو تی ہے
8۔ابن عباس سے مروی ہے :حسین ؑ نبی کی آغوش میں تھے تو جبرئیل نے کہا :کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں ؟ آنحضرت نے فرمایا:میں کیسے اس سے محبت نہ کروں یہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔جبرئیل نے کہا :’’بیشک آپ کی امت عنقریب اس کو قتل کر دے گی، کیا میں اس کی قبر کی جگہ کی مٹی دکھاؤں؟ جب آپ (جبرئیل )نے اپنی مٹھی کھولی تو اس میں سرخ مٹی تھی
یہ وہ بعض احا دیث تھیں جو رسول اسلام (ص)نے اپنے بیٹے امام حسین ؑ سے محبت کے سلسلہ میں بیان فرما ئی ہیں یہ شرافت و کرامت کے تمغے ہیں جو آپ ؑ نے اس فرزند کی گردن میں آویزاں کئے جو بنی امیہ کے خبیث افراد کے حملوں سے آپ ؑ کے اقدار کی حفاظت کر نے والا تھا
حوالہ جات
[1] سیر اعلام النبلاء ،جلد ۳،صفحہ ۱۹۰۔تاریخ ابن عساکر خطی ،جلد ۱۳،صفحہ ۵۰۔
[2] مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ ۱۷۷۔نور الابصار، صفحہ ۱۲۹:اللھم انی اُ حِبُّہ وَ أُحِبَّ کُلَّ مَنْ یُحِبُّہُ‘‘۔ ’’خدایا میں اس کو دوست رکھتا اور جو اس کو دوست رکھتا ہے اس کوبھی دوست رکھتاہوں‘‘
[3] سنن ابن ماجہ ،جلد ۱،صفحہ ۵۶۔مسند احمد، جلد ۴،صفحہ ۱۷۲۔اسد الغابہ، جلد ۲،صفحہ ۱۹۔تہذیب الکمال،صفحہ ۷۱۔تیسیر الوصول ،جلد ۳، صفحہ ۲۷۶۔مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ ۱۷۷۔
[4] حیاۃالامام حسین ؑ ، جلد ۱،صفحہ ۹۵۔
[5] تاجِ جامع للاصول ،جلد ۳،صفحہ ۲۱۸۔
[6] منہاج السنۃ جلد ۴،صفحہ ۲۱۰۔،
[7] مجمع الزوائد ،جلد ۹ ،صفحہ ۱۹۱۔



