منہاجُ القرآن لاہور کے زیرِ اہتمام 43ویں عالمی میلاد کانفرنس کا انعقاد

2026-08-26 06:52

لاہور پاکستان: تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام ۴۳ ویں عالمی میلاد کانفرنس گریٹر اقبال پارک مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہوئی۔

لاہور پاکستان: تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام ۴۳ ویں عالمی میلاد کانفرنس گریٹر اقبال پارک مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ملک بھر سے علماء مشائخ، اسکالرز، مختلف مذہبی، سیاسی جماعتوں کے قائدین اور وفود بھی شریک ہوئے،جبکہ بیرونِ ملک سے بھی ممتاز مذہبی شخصیات اور مہمانوں نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خطابات میں سیرتِ نبوی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مختلف انفرادی، معاشرتی، اخلاقی اور روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ رسولِ اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی حیاتِ مبارکہ پوری انسانیت کے لیے ایک کامل اور جامع نمونۂ حیات ہے، جس میں امن و سلامتی، عدل و انصاف، محبت و رحمت، رواداری، اخوت، خدمتِ خلق اور حسنِ اخلاق کے لیے واضح رہنمائی موجود ہے۔ کانفرنس کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما و مشائخ کی بھرپور شرکت تھی۔

مقررین نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، بین المسالک ہم آہنگی، باہمی احترام اور مذہبی رواداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے لیے باہمی اختلافات اور فاصلے کم کرکے مشترکہ دینی و ملی اقدار کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سیرتِ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  محبت، اخوت، اعتدال اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے سب سے مؤثر اور جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

مقررین نے نوجوان نسل کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت کو عصرِ حاضر کی اہم ترین ضروریات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روشناس کرانا اور اسوۂ حسنہ کو ان کی عملی زندگی کا حصہ بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ نوجوانوں کے لیے علم و عمل، کردار و دیانت، صبر و استقامت، خدمتِ خلق، احساسِ ذمہ داری اور حسنِ اخلاق کا بہترین عملی نمونہ ہے۔ اگر نوجوان نسل سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی زندگی کا عملی دستور بنائے تو معاشرے میں مثبت، تعمیری اور پائیدار تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر امتِ مسلمہ کے اتحاد و سربلندی، پاکستان کے امن و استحکام، عالمِ اسلام کی سلامتی و خوش حالی اور پوری انسانیت کے لیے امن و خیر کی خصوصی دعائیں کی گئیں۔

المرفقات

العودة إلى الأعلى