الوارث فاؤنڈیشن نے گلیلیو گلیلی عالمی ایوارڈ اپنے نام کر لیا
حرم امام حسین ع کے زیرِ اہتمام الوارث انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے جدید اور تخلیقی حل کے لیے گلیلیو گلیلی عالمی ایوارڈ 2025 اپنے نام کر لیا
وارث انٹرنیشنل کینسر فاؤنڈیشن نے اسپین کے شہر ویلنسیا میں عراق کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک نمایاں علمی کامیابی حاصل کی ہے
فاؤنڈیشن کی جانب سے پیش کی گئی سائنسی تحقیق نے گلیلیو گلیلی ایوارڈ 2025 (Galileo Galilei Award 2025) حاصل کیا، جو جدید اور تخلیقی حل کے لیے دیا جانے والا عالمی اعزاز ہے۔ یہ ایوارڈ یورپی جرنل آف میڈیکل فزکس (Physica Medica) میں سال کے دوران شائع ہونے والی بہترین تحقیق کو دیا جاتا ہے
حرم امام حسین علیہ السلام سے وابستہ فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں بتایا کہ یہ کامیابی اسپین کے شہر ویلنسیا میں منعقد ہونے والی یورپی کانفرنس برائے میڈیکل فزکس کی اختتامی تقریب کے دوران حاصل ہوئی۔ بیان کے مطابق اس تحقیق میں دنیا کے 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے محققین اور ماہرین نے شرکت کی
فاؤنڈیشن کے مطابق ایوارڈ یافتہ سائنسی تحقیق کا مقصد جدید کون بیم کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی (CBCT) ٹیکنالوجی کے ذریعے کینسر کے مریضوں کے ریڈی ایشن تھراپی کے دوران حاصل ہونے والی شعاعی خوراک کی پیمائش کے لیے ایک زیادہ درست اور عملی طریقہ تیار کرنا تھا، تاکہ علاج کے دوران شعاعوں کی فراہمی میں زیادہ سے زیادہ تحفظ اور تکنیکی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے
بیان میں مزید کہا گیا کہ حرم امام حسین علیہ السلام سے وابستہ وارث فاؤنڈیشن کی اس بین الاقوامی علمی فورم میں شرکت اور تحقیق کا پہلی پوزیشن حاصل کرنا، میڈیکل فزکس اور ریڈی ایشن تھراپی کے شعبے میں عالمی سطح پر ہونے والی جدید پیش رفت سے ہم آہنگ رہنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس سے عالمی سائنسی و عملی میدان میں عراق کے مقام کو بھی مزید تقویت ملتی ہے
واضح رہے کہ ایوارڈ یافتہ تحقیق کا عنوان "ریڈی ایشن تھراپی میں کون بیم کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی: بین الاقوامی تناظر میں ایک عملی طریقہ کار کے ذریعے خوراک کا جائزہ ہے، جس کی تیاری میں ڈاکٹر حسام رجب نے بھی حصہ لیا ہے
یہ تحقیق حرم امام حسین علیہ السلام سے وابستہ طبی اور صحت کے اداروں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی اور مستند سائنسی تحقیقات کو مریضوں کی خدمت کے لیے بروئے کار لانے اور عالمی معیار کے مطابق بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں کی ایک نمایاں مثال ہے



