پاکستان: ولادتِ صادقینؑ کی مناسبت سے اسلام آباد میں "عشقِ پیغمبرِ اعظمؐ مرکزِ وحدتِ مسلمین‘‘ کانفرنس کا انعقاد
اسلام آباد: ولادتِ باسعادتِ حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادقؑ کی مناسبت سے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیرِ اہتمام ’’عشقِ پیغمبرِ اعظمؐ، مرکزِ وحدتِ مسلمین‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی
اسلام آباد: ولادتِ باسعادتِ حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادقؑ کی مناسبت سے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیرِ اہتمام ’’عشقِ پیغمبرِ اعظمؐ؛ مرکزِ وحدتِ مسلمین‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس کی میزبانی مجلسِ وحدتِ مسلمین نے کی۔
کانفرنس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء و مشائخ، مذہبی و سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے اراکین اور مختلف مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں سیرتِ طیبہ، محبتِ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں اتحادِ امت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عشقِ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مسلمانوں کو باہم جوڑنے والا مشترکہ اور مضبوط مرکز ہے، جس کی بنیاد پر امتِ مسلمہ اپنے باہمی اختلافات کو کم کرکے اتحاد، اخوت اور یکجہتی کو فروغ دے سکتی ہے۔
علماء کرام نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو فرقہ وارانہ اور مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ اسلامی اقدار کے تحفظ اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایمان کا بنیادی تقاضا قرار دیتے ہوئے اس محبت کو عملی زندگی میں اخوت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام کی صورت میں ظاہر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کانفرنس کے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ اور مذہبی و سیاسی جماعتیں وحدتِ امت، بین المسالک ہم آہنگی اور پاکستان میں مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گی۔ کانفرنس کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ عشقِ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امتِ مسلمہ کی وحدت کا مرکز ہے اور اس مقدس نسبت کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان محبت، اخوت اور اتحاد کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔


