صلوات؛ رحمتِ الٰہی کا دروازہ

2026-08-26 11:52

اللھم صل علی محمد وآل محمد

صلوات صرف چند الفاظ کا ورد نہیں، بلکہ محبتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تعظیمِ مقامِ نبوت اور قربِ الٰہی کا ایک حسین وسیلہ ہے

جب ایک مؤمن اپنی زبان کو محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر درود و صلوات سے معطر کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے دل کو محبتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام سے منور اور اپنے نامۂ اعمال کو رحمتِ الٰہی سے آراستہ کرتا ہے

احادیثِ مبارکہ میں صلوات کی بے شمار فضیلتیں بیان ہوئی ہیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت سے صلوات بھیجنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: أكثروا الصلاة علی فإن صلاتکم علی معفرہ لذنوبکم (کنز العمال، ج ۱، ص ۴۳۶)

یعنی مجھ پر کثرت سے صلوات بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا مجھ پر صلوات بھیجنا تمہارے گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے

اس فرمان میں مؤمن کے لیے ایک عظیم خوشخبری پوشیدہ ہے کہ صلوات محض محبت اور عقیدت کا اظہار نہیں، بلکہ مغفرتِ الٰہی کا ذریعہ بھی ہے

صلوات کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ انسان جب ایک مرتبہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوات بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ہے: من صلی علی واحدة صلی اللہ علیہ عشرا (صحیح مسلم)

یعنی بندے کی طرف سے ایک صلوات، اور ربّ کی طرف سے دس رحمتیں! اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے؟

صلوات انسان کے درجات بھی بلند کرتی ہے

ایک مرتبہ صلوات کے بدلے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور دس درجات بلند کیے جاتے ہیں۔ روایت میں ہے: یا مُحَمَّدُ! مَنْ صَلَّى عَلَیكَ مَرَّةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ (کنز العمال، ج ۱، ص ۴۳۶-۴۴۷؛ ج ۲، ص ۱۷۹)

یوں صلوات ایک ایسا نورانی عمل ہے جو مؤمن کے ماضی کو پاک کرنے، حال کو سنوارنے اور مستقبل کو روشن و بلند کرنے کا ذریعہ بنتا ہے

صلوات کا تعلق شفاعتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ہے۔ روایت میں آیا ہے: مَنْ صَلَّى عَلَی حِینَ يُصْبِحُ عَشْرًا وَحِينَ يُمْسِی عَشْرًا أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِی (کنز العمال، ج ۱، ص ۴۳۹)

یعنی جو شخص صبح و شام دس مرتبہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوات بھیجے، اسے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی

اس لیے صلوات کو صرف زبان کا معمول نہ بنایا جائے، بلکہ اسے شفاعتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امید اور محبتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علامت بنایا جائے

کتنی خوبصورت بات ہے کہ انسان جہاں کہیں بھی ہو اور جس حال میں بھی ہو، صلوات کے ذریعے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے اپنا تعلق قائم کرسکتا ہے۔ اسے کسی خاص جگہ، وقت یا ظاہری وسائل کی ضرورت نہیں

ایک لمحہ، ایک پاکیزہ دل اور چند مقدس الفاظ کافی ہیں

صلوات دعا کی روح اور اس کے آداب میں سے بھی ہے

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دعا کرتے ہوئے دیکھا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوات بھیجے بغیر دعا شروع کردی

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے متوجہ فرمایا کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرو، پھر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوات بھیجو اور اس کے بعد دعا کرو (سنن ابی داود، ج ۲، ص ۷۷، حدیث ۱۴۸۰؛ سنن ترمذی، ج ۱۳، ص ۲۱)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صلوات دعا کے آداب میں ایک بلند مقام رکھتی ہے اور بندے کو اپنے رب کے حضور زیادہ ادب، معرفت اور خشوع کے ساتھ حاضر ہونے کا ذریعہ بنتی ہے

صلوات کی عظمت کا اندازہ اس روایت سے بھی ہوتا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بخیل قرار دیا جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہو اور وہ آپؐ پر صلوات نہ بھیجے: الْبَخِیلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَی (مسند احمد، ج ۱، ص ۲۰۱؛ سنن ترمذی، کتاب الدعاء، ج ۱۳، ص ۶۲-۶۳؛ کنز العمال، ج ۱، ص ۴۳۷)

یعنی جس دل میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہو، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہو تو زبان صلوات سے محروم نہیں رہ سکتی

محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر صلوات دراصل محبت کا وہ چراغ ہے جو دل میں عشقِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کو ہمیشہ روشن رکھتا ہے۔ یہ زبان کو پاکیزگی، دل کو نرمی، روح کو نورانیت اور زندگی کو معنویت عطا کرتی ہے

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے دن رحمتوں سے معمور ہوں، ہماری راتیں عبادت سے منور ہوں، ہماری دعاؤں میں برکت آئے، ہمارے گناہ بخشے جائیں اور ہمارے درجات بلند ہوں، تو ہمیں صلوات کو اپنی زندگی کا مستقل معمول بنانا چاہیے

آئیے! اپنے گھروں، محفلوں، دعاؤں، تنہائیوں اور روزمرہ زندگی میں صلوات کو زندہ کریں۔ جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس نام آئے تو دل محبت سے جھک جائے اور زبان بے اختیار پکار اٹھے اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

یہ چند الفاظ ہیں، مگر اپنے اندر رحمتوں کا ایک سمندر سموئے ہوئے ہیں۔ یہ مختصر سا ذکر ہے، مگر مغفرت، بلندیِ درجات، شفاعت اور محبتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امید اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے

صلوات بھیجتے رہیے؛ شاید یہی ایک صلوات آپ کے نامۂ اعمال میں وہ نور لکھ دے، جس کی روشنی آخرت کے اندھیروں میں آپ کے راستے کو منور کردے۔

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَهُمْ

العودة إلى الأعلى