اربعینِ حسینی کی فضیلت: قرآن و احادیث کی روشنی میں

2026-08-03 02:24

اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے بعض اوقات، مقامات، شخصیات اور اعمال کو شعائرِ الٰہی قرار دے کر ان کی تعظیم کو ایمان اور تقویٰ کا حصہ بنایا ہے

شعائر سے مراد وہ تمام نشانیاں ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے برگزیدہ بندوں کی یاد دلاتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب

اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو بے شک یہ دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے (سورۂ حج: 32)

امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ اقدس، آپؑ کی شہادت، سرزمینِ کربلا اور آپؑ کی زیارت یقیناً شعائرِ الٰہی میں شامل ہیں، کیونکہ یہ سب انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، دینِ اسلام کی سربلندی اور ظلم کے خلاف قیام کی یاد دلاتے ہیں

اربعینِ حسینی اسی شعیرۂ الٰہی کی عظیم ترین تجلی ہے، جہاں دنیا بھر سے کروڑوں عاشقانِ اہلِ بیتؑ پیدل کربلا پہنچ کر امام حسین علیہ السلام سے اپنی محبت، وفاداری اور تجدیدِ عہد کا اظہار کرتے ہیں

اہلِ بیت علیہم السلام نے بالخصوص زیارتِ اربعین کی اس قدر تاکید فرمائی ہے کہ اسے ایمان کی علامت، مغفرتِ الٰہی کا ذریعہ، رزق میں برکت، درجات کی بلندی اور قربِ الٰہی کا وسیلہ قرار دیا ہے

زیارتِ امام حسین علیہ السلام کی اہمیت

ایک روایت میں معصوم علیہ السلام فرماتے ہیں: زِیارَةُ الْحُسَینِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مَنْ يُقِرُّ لِلْحُسَيْنِ بِالْإِمَامَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہر اس شخص پر لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؑ کی امامت کا اقرار کرتا ہو

اس روایت میں واجب سے مراد فقہی وجوب نہیں، بلکہ انتہائی تاکید اور غیر معمولی اہمیت ہے۔ امام صادق علیہ السلام اس ارشاد کے ذریعے واضح فرماتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت محض ایک مستحب عمل نہیں، بلکہ اہلِ ولایت کے ایمان کا تقاضا ہے۔ جو شخص امام حسین علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا حجت اور برحق امام مانتا ہے، اس کے دل میں آپؑ کی زیارت کی آرزو اور آپؑ کے مشن سے وابستگی لازماً ہونی چاہیے۔ درحقیقت زیارت، امام حسین علیہ السلام کے مقصد، آپؑ کی عظیم قربانی اور دینِ محمدی ص سے وفاداری کا عملی اعلان ہے

زیارتِ اربعین؛ مؤمن کی نشانی

امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ: صَلَاةُ الْإِحْدَى وَالْخَمْسِینَ، وَزِیارَةُ الْأَرْبَعِینَ، وَالتَّخَتُّمُ فِي الْیمِینِ، وَتَعْفِیرُ الْجَبِینِ، وَالْجَهْرُ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں: اکاون رکعت نماز، زیارتِ اربعین، دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، سجدے میں پیشانی کو خاک پر رکھنا اور 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' بلند آواز سے پڑھنا

اس حدیث میں زیارتِ اربعین کو مؤمن کی شناخت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اربعین محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے وابستگی کی عملی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال کروڑوں افراد تمام تر مشکلات کے باوجود کربلا کا رخ کرتے ہیں

معرفت کے ساتھ زیارت کا اجر

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: مَنْ زَارَ الْحُسَيْنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَارِفًا بِحَقِّهِ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ

جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت ان کے حق اور مقام کی معرفت کے ساتھ کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کو بخش دیتا ہے

اس روایت میں عارفاً بحقه بنیادی شرط ہے۔ محض سفر کرنا کافی نہیں، بلکہ زائر کو یہ معرفت حاصل ہونی چاہیے کہ امام حسین علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برحق امام اور حجت ہیں، آپؑ نے کس مقصد کے لیے قیام فرمایا، کیوں قربانی دی اور دینِ اسلام کو کس طرح محفوظ کیا۔ جب انسان اس معرفت کے ساتھ زیارت کرتا ہے تو اس کی روح میں انقلاب برپا ہوتا ہے، وہ گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے

زیارت کے دنیوی و اخروی فوائد

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:مُرُوا شِيعَتَنَا بِزِيَارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامِ، فَإِنَّ إِتْيَانَهُ يَزِيدُ فِي الرِّزْقِ، وَيَمُدُّ فِي الْعُمُرِ، وَيَدْفَعُ مَدَافِعَ السُّوءِ

ہمارے شیعوں کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا حکم دو، کیونکہ اس سے رزق میں برکت ہوتی ہے، عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور بلائیں دور ہوتی ہیں

یہ روایت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ زیارت صرف آخرت کی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا میں بھی اس کے بے شمار آثار و برکات ہیں

اللہ تعالیٰ زائر کے رزق میں وسعت عطا فرماتا ہے، اس کی زندگی میں خیر و برکت پیدا کرتا ہے اور اسے بہت سی آفات و مشکلات سے محفوظ رکھتا ہے

پیدل زیارت کا عظیم اجر

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: مَنْ أَتَى قَبْرَ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَاشِيًا، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ، وَمَحَا عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ، وَرَفَعَ لَهُ أَلْفَ دَرَجَةٍ

جو شخص پیدل امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے آئے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم پر ایک ہزار نیکیاں لکھتا ہے، ایک ہزار گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے ایک ہزار درجات بلند فرماتا ہے

اربعین کا پیدل سفر محض جسمانی مشقت کا نام نہیں بلکہ عشقِ حسینی، صبر، اخلاص اور ایثار کا عملی اظہار ہے۔ اس سفر کا ہر قدم انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور اس کے دل میں امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے باوفا اصحاب کی محبت کو مزید راسخ کر دیتا ہے

دور سے زیارت کا ثواب

اہلِ بیت علیہم السلام نے ان افراد کو بھی محروم نہیں رکھا جو کسی مجبوری کے باعث کربلا حاضر نہیں ہو سکتے۔ روایات میں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص دور سے اخلاص کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کو سلام پیش کرے اور زیارت پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی زیارت کا اجر عطا فرماتا ہے

یہ تعلیم اس حقیقت کی دلیل ہے کہ اصل معیار انسان کا خلوص، محبت اور ولایت سے وابستگی ہے۔ اگر جسم کربلا نہ پہنچ سکے لیکن دل ہمیشہ کربلا سے وابستہ رہے تو اللہ تعالیٰ اس محبت کو بھی قبول فرماتا ہے

پس اربعینِ حسینی دنیا کا سب سے بڑا روحانی اور انسانی اجتماع ہے، لیکن اس کی عظمت صرف اس کے شرکاء کی تعداد میں نہیں بلکہ اس عظیم پیغام میں ہے جو امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں پیش فرمایا

اربعین ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا مؤمن کی شان نہیں، بلکہ حق، عدل، آزادی، عزت اور دین کی سربلندی کے لیے ہر قربانی پیش کرنا ہی حقیقی حسینیّت ہے

اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ زیارتِ امام حسین علیہ السلام ایمان کی علامت، گناہوں کی مغفرت، رزق و عمر میں برکت، درجات کی بلندی اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے

بالخصوص زیارتِ اربعین کو مؤمن کی نشانی قرار دے کر اہلِ بیت علیہم السلام نے اس کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر فرمایا ہے

اسی لیے ہر سال دنیا بھر سے کروڑوں انسان رنگ، نسل، زبان اور قومیت کے تمام امتیازات سے بالاتر ہو کر ایک ہی مقصد کے لیے کربلا پہنچتے ہیں اور اپنے عمل سے اعلان کرتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا

اللہ تعالیٰ ہمیں امام حسین علیہ السلام کی صحیح معرفت، آپؑ کی سچی محبت، زیارتِ اربعین کی سعادت اور آپؑ کے مقدس مشن پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے

اللهم ارزقنا زيارة الحسين عليه السلام في الدنيا، وشفاعته في الآخرة، وثبتنا على ولايته وولاية أهل بيته الطاهرين. آمين

العودة إلى الأعلى