پاکستان: پنجاب کی جامعات کے آئی ٹی طلبہ کا امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد کا دورہ
لاہور: پنجاب کی مختلف جامعات میں زیرِ تعلیم شعبۂ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے طلبہ کے ایک وفد نے امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد کا مطالعاتی دورہ کیا۔
لاہور: پنجاب کی مختلف جامعات میں زیرِ تعلیم شعبۂ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے طلبہ کے ایک وفد نے امام حسینؑ ثقافتی سنٹر اسلام آباد کا مطالعاتی دورہ کیا۔
سنٹر آمد پر امام حسینؑ ثقافتی سنٹر کے مدیر جناب محمد عسکری نے وفد کا استقبال کیا اور طلبہ کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر طلبہ کو سنٹر کے قیام کے اغراض و مقاصد، علمی و ثقافتی سرگرمیوں اور مختلف جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفد کو امام حسینؑ ثقافتی سنٹر کی جانب سے منعقد ہونے والی مختلف علمی و فکری نشستوں، سیمینارز، کانفرنسز، تربیتی پروگرامز، تحقیقی و اشاعتی سرگرمیوں اور نوجوانوں سے متعلق خصوصی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سنٹر کی سرگرمیوں کا مقصد امام حسینؑ کی سیرت و تعلیمات، معارفِ اہل بیتؑ اور اسلامی و انسانی اقدار کو علمی، فکری اور ثقافتی انداز میں معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل تک پہنچانا ہے۔
اس موقع پر وفد کو حرمِ امام حسینؑ کی جانب سے جاری مختلف تعلیمی، علمی، تحقیقی اور ثقافتی منصوبوں کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ طلبہ کو ان منصوبوں کے اغراض و مقاصد، تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں اور معاشرے، خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ان کی افادیت سے آگاہ کیا گیا۔ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اسلامی و ثقافتی پیغام کو نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچانے کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ طلبہ کے لیے ٹیکنالوجی کے ذریعے علمی، تعلیمی اور ثقافتی مواد کی ترویج کے امکانات اور اس حوالے سے نوجوانوں کے کردار پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفد کے ارکان نے امام حسینؑ ثقافتی سنٹر کی مختلف سرگرمیوں اور منصوبوں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا اور ادارے کے کام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سوالات کیے، جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ طلبہ نے دورے کو علمی، فکری اور معلوماتی اعتبار سے مفید قرار دیتے ہوئے سنٹر کی خدمات کو سراہا۔
دورے کے اختتام پر امام حسینؑ ثقافتی سنٹر کی جانب سے وفد میں شامل تمام طلبہ کو کتاب ’’سیرتِ امام حسینؑ‘‘ بطور تحفہ پیش کی گئی۔ طلبہ نے کتاب کے تحفے پر سنٹر کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور اس علمی و ثقافتی دورے کو اپنے لیے مفید اور یادگار قرار دیا۔


