کربلا: حفاظِ قرآن کی متولیِ شرعی سے ملاقات
حرمِ امام حسینؑ کے متولیِ شرعی، جنابِ شیخ عبدالمہدی کربلائی (دام عزّه) نے دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی تبلیغی سفر میں شریک حفاظِ کرام سے ملاقات کی
ان حفاظ نے دارالقرآن الکریم کے زیرِ اہتمام مشہدِ مقدس میں حرمِ امام رضا علیہ السلام اور قمِ مقدسہ میں حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں منعقدہ بین الاقوامی قرآنی محافل میں شرکت کی
اس کے علاوہ، ایران کے مختلف شہروں میں دیگر قرآنی سرگرمیاں بھی منعقد ہوئیں جن میں ان باصلاحیت حفاظ نے اپنے حفظِ قرآن کے جوہر دکھائے
بین الاقوامی قرآنی تبلیغی مرکز کے ڈائریکٹر، منتظر المنصوری نے کہا کہ یہ تبلیغی دورہ اُن قرآنی منصوبوں کا تسلسل ہے جنہیں روضۂ حسینی نے بیس سال قبل شروع کیا تھا، جن کا مقصد ایک باشعور اور نورِ قرآن سے منوّر نسل تیار کرنا ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں قرآنِ کریم کی ثقافت کو عام کرے
انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے میں پندرہ حفاظِ قرآن نے شرکت کی، جو غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے، اور ان میں سے زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ تھے، جن کا تعلق میڈیکل، انجینئرنگ، تعلیم اور دیگر علمی شعبوں سے تھا
اپنے خطاب میں، جنابِ شیخ عبدالمہدی کربلائی نے حفاظِ کرام کو نصیحت کی کہ وہ اپنی علمی و تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھیں اور ساتھ ہی قرآنی طرزِ زندگی سے وابستہ رہیں
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حفاظ کو چاہیے کہ وہ اپنی جامعات اور معاشرے میں ایک بہترین نمونۂ عمل بنیں، تاکہ اُن کے اخلاق و کردار سے قرآن کے اثرات ظاہر ہوں
مزید فرمایا کہ قرآنِ کریم محض حفظ اور تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ یہ زندگی کا ایک مکمل منشور ہے جو انسان کو کمال اور اصلاح کی راہ دکھاتا ہے
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرآنی اصولوں کو روزمرہ زندگی میں نافذ کیا جائے، اور اس کی قدروں کو عملی دستور بنایا جائے علم، خدمتِ خلق اور باہمی تعلقات کے میدانوں میں
ملاقات کے اختتام پر، شیخ کربلائی نے شرکاء کے لیے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں علم و عملِ قرآنی کے راستے میں کامیابی اور توفیق عطا فرمائے، اور اس بات کی تاکید کی کہ روضۂ حسینی ہر اُس منصوبے کی مکمل حمایت جاری رکھے گا جو قرآنی ثقافت کے فروغ کے مقصد سے انجام پاتا ہے ،خواہ وہ عراق کے اندر ہو یا باہر



