موصل میں داعش کے ظلم کا شکار ہونے والوں کی اجتماعی قبر دریافت
عراقی حکومت نے اُس مقام پر کھدائی کا آغاز کیا ہے جسے دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ نے اپنے مظالم کے دوران اجتماعی قبر کے طور پر استعمال کیا تھا، جہاں بے شمار بے گناہ افراد کو قتل عام کے بعد دفنایا گیا تھا
داعش کے یہ جرائم 2014 میں عراق کے وسیع علاقوں پر قبضے سے شروع ہوئے اور 2017 میں اس کی شکست تک جاری رہے
عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مقامی حکومت عدلیہ، فرانزک ماہرین، شہداء فاؤنڈیشن اور محکمۂ اجتماعی قبور کے تعاون سے جنوبی موصل کے علاقے "الخفسہ" میں کھدائی کا کام کر رہی ہے۔ یہ مقام، جس کی لمبائی تقریباً 150 میٹر اور چوڑائی 110 میٹر ہے، داعش کے اُن سنگین جرائم کی گواہی دیتا ہے جو اس نے بے گناہ شہریوں پر ڈھائے
مؤسسۂ شہداء کے شعبۂ اجتماعی قبور کے سربراہ احمد قصی الاسدی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اُن کی ٹیم نے 9 اگست سے نینویٰ صوبے کی درخواست پر کام شروع کیا۔ ابتدائی مرحلے میں صرف نظر آنے والی انسانی باقیات اور سطحی شواہد اکٹھے کیے جائیں گے، جبکہ مکمل لاشوں کی برآمدگی بعد میں ہوگی، جس کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی مدد درکار ہے
اس کے بعد مؤسسہ ایک ڈیٹا بیس تیار کرے گا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے ڈی این اے کے نمونے اکٹھے کرے گا۔ الاسدی نے واضح کیا کہ مکمل کھدائی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ماہرین کی خصوصی مدد حاصل نہ ہو، کیونکہ مقام پر سلفر والا پانی اور بغیر پھٹے بارودی مواد جیسے سنگین خطرات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ پانی کے باعث ہڈیوں کے خراب ہونے سے ڈی این اے کی شناخت بھی مشکل ہو سکتی ہے
غیر مصدقہ عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں کے مطابق، حکام کا اندازہ ہے کہ اس مقام پر تقریباً 4000 لاشیں دفن ہیں، جبکہ تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ الخفسہ، موصل کے قریب واقع ہے، جو عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے اور جس پر داعش نے 2017 میں اپنی شکست سے قبل قبضہ کر رکھا تھا
وکیل رباح نوری عطیہ، جو نینویٰ میں لاپتہ افراد کے 70 سے زیادہ مقدمات پر کام کر چکے ہیں، نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دستیاب شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ الخفسہ ’’عراق کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی قبر‘‘ ہو سکتی ہے۔ تاہم، الاسدی کے مطابق تاحال تفتیش کار اس مقام کے اصل حجم کی تصدیق نہیں کر سکے
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 70 فیصد لاشیں فوج اور پولیس کے اہلکاروں کی ہیں، جبکہ باقیوں میں عام شہری اور ایزدی برادری کے افراد شامل ہیں۔ متعدد مقامی عینی شاہدین کے مطابق، داعش کے جنگجو عام شہریوں کو بسوں میں بھر کر اس مقام پر لاتے اور انہیں قتل کرتے تھے، جن میں سے کئی کو نہایت وحشیانہ انداز میں، حتیٰ کہ سروں کو قلم کر کے مارا گیا
داعش کے دور کی قبروں کے علاوہ، عراقی حکومت اُن اجتماعی قبروں کی تلاش بھی جاری رکھے ہوئے ہے جو سابق حکومت کے زمانے کی ہیں، جسے 2003 میں امریکی حملے کے نتیجے میں ختم کر دیا گیا تھا



