حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت کی تاریخی پیش رفت، بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط ماہِ صفر المظفر: اہم تاریخی واقعات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت پاکستان: سابق امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کا امام حسین ثقافتی سنٹر کا دورہ نجف اشرف: حوزۂ علمیہ کے زیرِ اہتمام مواکبِ حسینی کا تیرہواں سالانہ اربعین کانفرنس، حرمِ امام علیؑ میں منعقد بصرہ سے المثنیٰ تک 838 حسینی مواکب زائرینِ اربعین کی خدمت کے لیے تیار مرکز امام حسینؑ استنبول کی اربعین حسینی کی کوریج کے حوالے سے ترک میڈیا نمائندگان کے ساتھ اہم ملاقات بصرہ: مجمع الثقلین میں مستحق اور یتیم خاندانوں کے لیے مزید 250 رہائشی مکانات کی تعمیر کا آغاز عراق اور ایران کے درمیان منذریہ بارڈر سے ہر گھنٹے 2 ہزار زائرین کی آمد پر اتفاق حرمِ امام حسینؑ نے الثقلین کینسر اسپتال بصرہ میں مریضوں کے مفت علاج پر اب تک 65 ارب عراقی دینار خرچ کیے اسلام آباد: او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے دو سالہ سربراہی سنبھال لی

اربیل میں 6 ہزار سال پرانے آثارِ قدیمہ کی دریافت

2025-07-16 10:59

اربیل کے علاقے شمامک کے میدان میں واقع "تل مطراب" میں کرد و امریکی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی مشترکہ ٹیم نے چوتھے مرحلے کی کھدائی کے دوران کئی اہم تاریخی نوادرات دریافت کیے ہیں، جن کی عمر چھ ہزار سال سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

یہ منصوبہ اربیل کے محکمہ آثار و ثقافت اور امریکی یونیورسٹی "برین ماور" کے باہمی تعاون سے جاری ہے۔ اس دریافت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بین النہرین (میسوپوٹیمیا) کے دیہی معاشرے دو اہم تاریخی ادوار میں آباد رہے: دیرینہ نحاسی دور (Late Chalcolithic) اور ہیلینسٹک دور

اس وقت کھدائی کا عمل "تل" کے چار مختلف مقامات پر جاری ہے، جو درحقیقت چار چھوٹی پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اس مقام کا کل رقبہ تقریباً 3 ہیکٹر ہے۔ یہ منصوبہ 2022 میں شروع ہوا اور اب تک چار مختلف سیزنوں میں کھدائی کی جا چکی ہے

محکمہ آثارِ قدیمہ اربیل کے نمائندے علی بانی شاری کے مطابق تل مطراب ایک نہایت اہم تاریخی مقام ہے، جو عراق اور اقلیم کردستان کے نقشہ آثار پر باقاعدہ طور پر درج ہے

انہوں نے مزید بتایا کہ کھدائی کے دوران کئی اہم تعمیراتی باقیات دریافت ہوئی ہیں، جن میں چھ کمرے شامل ہیں, جن میں سے ایک کو بطور باورچی خانہ استعمال کیا جاتا تھا نیز ایک بڑی عمارت کا ڈھانچہ بھی ملا ہے، جسے ممکنہ طور پر ایک شاہی محل تصور کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کے سربراہ پروفیسر روکو بالیرمو کے مطابق تحقیق کا مرکزی نکتہ دو بڑے تاریخی ادوار ,پتھریلا (Neolithic/Chalcolithic) اور ہیلینسٹک , پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دیہی معاشروں نے تہذیبوں کے ابھار اور سلطنتوں کے قیام جیسے بڑے تغیرات کا کس انداز میں سامنا کیا

پروفیسر نے مزید وضاحت کی کہ اس سال کی سب سے اہم دریافت یہ ہے کہ پتھریلے دور کی ایک بستی کو اچانک چھوڑ دیا گیا، اور غالب گمان ہے کہ اس کی وجہ کوئی زلزلہ تھا، کیونکہ نہ وہاں کسی قسم کے تشدد کے آثار ملے اور نہ ہی جلاؤ گھیراؤ کے۔ بلکہ وہاں سے سینکڑوں کی تعداد میں مکمل حالت میں برتن اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ملی ہیں، جو اس دور کی طرزِ زندگی کا ایک نایاب اور واضح نقشہ پیش کرتی ہیں

ٹیم اپنی تحقیق میں جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہی ہے، جن میں زیرِ زمین ممکنہ مقامات کی نشاندہی کے لیے جیو فزیکل سروے شامل ہے، تاکہ آئندہ مرحلے کی کھدائی کے لیے موزوں جگہوں کا تعین کیا جا سکے۔ چوتھے سیزن کے اختتام پر ٹیم آئندہ برس ایک طویل سیزن کے ساتھ دوبارہ واپسی کی تیاری کر رہی ہے تاکہ پتھریلے دور کی اس بستی میں مزید تحقیق کی جا سکے۔

منسلکات

مطلوبہ الفاظ : آثار قدیمہ الموصل

العودة إلى الأعلى