پاکستان: جامعہ کراچی میں سالانہ عظیم الشان "یومِ حسینؑ" کا انعقاد امام حسینؑ میڈیکل کمپلیکس میں 50 فیصد رعایت کے ساتھ خصوصی میڈیکل کیمپ کا آغاز حرمِ امام حسینؑ کی دعوت پر پاکستانی وفد کی نجفِ اشرف میں حاضری، علمی و دینی مراکز کا دورہ کردستان ریجن سے کربلا تک: عزاداری و جلوس، عراقی اتحاد کی روشن علامت دارالقرآنِ کریم کے ہونہار طلبہ کی شیخ عبدالمہدی کربلائی سے ملاقات پاکستان: جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق امیر جناب سراج الحق صاحب کا کربلا عراق میں حرمِ مطہر امام حسینؑ کے تعلیمی اداروں کا دورہ ونڈسر انٹرنیشنل ڈائیلاگ 2026: نجف اشرف کا مذہبی ہم آہنگی اور انسدادِ دہشت گردی کا ماڈل عالمی فورم پر نمایاں حرمِ امام حسینؑ کی دعوت پر پاکستان کے سیاسی، مذہبی اور میڈیا شخصیات کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورۂ کربلا حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت کی تاریخی پیش رفت، بوسٹن چلڈرنز ہسپتال کے تعاون سے حیاتیاتی، خلیاتی اور جینیاتی علاج کی ٹیکنالوجی عراق منتقل کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط ماہِ صفر المظفر: اہم تاریخی واقعات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی اہمیت

اربیل میں 6 ہزار سال پرانے آثارِ قدیمہ کی دریافت

2025-07-16 10:59

اربیل کے علاقے شمامک کے میدان میں واقع "تل مطراب" میں کرد و امریکی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی مشترکہ ٹیم نے چوتھے مرحلے کی کھدائی کے دوران کئی اہم تاریخی نوادرات دریافت کیے ہیں، جن کی عمر چھ ہزار سال سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

یہ منصوبہ اربیل کے محکمہ آثار و ثقافت اور امریکی یونیورسٹی "برین ماور" کے باہمی تعاون سے جاری ہے۔ اس دریافت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بین النہرین (میسوپوٹیمیا) کے دیہی معاشرے دو اہم تاریخی ادوار میں آباد رہے: دیرینہ نحاسی دور (Late Chalcolithic) اور ہیلینسٹک دور

اس وقت کھدائی کا عمل "تل" کے چار مختلف مقامات پر جاری ہے، جو درحقیقت چار چھوٹی پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اس مقام کا کل رقبہ تقریباً 3 ہیکٹر ہے۔ یہ منصوبہ 2022 میں شروع ہوا اور اب تک چار مختلف سیزنوں میں کھدائی کی جا چکی ہے

محکمہ آثارِ قدیمہ اربیل کے نمائندے علی بانی شاری کے مطابق تل مطراب ایک نہایت اہم تاریخی مقام ہے، جو عراق اور اقلیم کردستان کے نقشہ آثار پر باقاعدہ طور پر درج ہے

انہوں نے مزید بتایا کہ کھدائی کے دوران کئی اہم تعمیراتی باقیات دریافت ہوئی ہیں، جن میں چھ کمرے شامل ہیں, جن میں سے ایک کو بطور باورچی خانہ استعمال کیا جاتا تھا نیز ایک بڑی عمارت کا ڈھانچہ بھی ملا ہے، جسے ممکنہ طور پر ایک شاہی محل تصور کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کے سربراہ پروفیسر روکو بالیرمو کے مطابق تحقیق کا مرکزی نکتہ دو بڑے تاریخی ادوار ,پتھریلا (Neolithic/Chalcolithic) اور ہیلینسٹک , پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دیہی معاشروں نے تہذیبوں کے ابھار اور سلطنتوں کے قیام جیسے بڑے تغیرات کا کس انداز میں سامنا کیا

پروفیسر نے مزید وضاحت کی کہ اس سال کی سب سے اہم دریافت یہ ہے کہ پتھریلے دور کی ایک بستی کو اچانک چھوڑ دیا گیا، اور غالب گمان ہے کہ اس کی وجہ کوئی زلزلہ تھا، کیونکہ نہ وہاں کسی قسم کے تشدد کے آثار ملے اور نہ ہی جلاؤ گھیراؤ کے۔ بلکہ وہاں سے سینکڑوں کی تعداد میں مکمل حالت میں برتن اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ملی ہیں، جو اس دور کی طرزِ زندگی کا ایک نایاب اور واضح نقشہ پیش کرتی ہیں

ٹیم اپنی تحقیق میں جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہی ہے، جن میں زیرِ زمین ممکنہ مقامات کی نشاندہی کے لیے جیو فزیکل سروے شامل ہے، تاکہ آئندہ مرحلے کی کھدائی کے لیے موزوں جگہوں کا تعین کیا جا سکے۔ چوتھے سیزن کے اختتام پر ٹیم آئندہ برس ایک طویل سیزن کے ساتھ دوبارہ واپسی کی تیاری کر رہی ہے تاکہ پتھریلے دور کی اس بستی میں مزید تحقیق کی جا سکے۔

منسلکات

مطلوبہ الفاظ : آثار قدیمہ الموصل

العودة إلى الأعلى