حوزہ علمیہ: ہزار سال طوفانوں، حملہ آوروں، سلاطین اور برطانوی قبضے کے درمیان
حوزہ علمیہ نجف اشرف کی تاریخ شیخ طوسی کے نجف آمد سے وابستہ ہے، جبکہ اس کا ایک ہزار سال تک تسلسل مختلف حالات و واقعات اور سیاسی سطح پر رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں سے نمٹنے کی ایک طویل داستان بھی ہے
نجف نے مختلف ریاستوں اور خاندانوں کے ادوار دیکھے، جبکہ عراق نے حملوں، جنگوں، قبضوں اور گہری سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کیا۔ اس کے باوجود یہ علمی مرکز ہر دور میں درپیش چیلنجز اور تبدیلیوں کے بعد خود کو ازسرنو منظم کرنے اور تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھنے میں کامیاب رہا
شیخ طوسی کے بعد کا ابتدائی دور حوزہ کے علمی وجود کو مستحکم کرنے کا مرحلہ تھا۔ طولِ تاریخ میں صرف نجف ہی مذہبی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز نہیں رہا، بلکہ دیگر شہر بھی اس کے ساتھ علمی مراکز کی حیثیت سے نمایاں رہے، جن میں بالخصوص حلہ، کربلا اور قم شامل ہیں
تاہم امیر المؤمنین علیہ السلام کے روضۂ مبارک سے اپنی گہری وابستگی کے باعث نجف نے اپنی دینی حیثیت برقرار رکھی اور مختلف ادوار میں یہاں علماء بابِ مدینۃ العلم سے کسبِ فیض کرتے رہے
656ھ/1258ء میں عراق پر منگول حملے کے نتیجے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اگرچہ بغداد کو وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم نجف اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ تاریخی اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض منگول اور ایلخانی حکمرانوں نے شہر کے بعض امور پر توجہ دی، جن میں ساتویں صدی ہجری میں نجف تک پانی پہنچانے کا منصوبہ بھی شامل تھا
یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بغداد میں عباسی سیاسی نظام کے خاتمے کے باوجود نجف علمی نقشے سے غائب نہیں ہوا
بعد کے ادوار میں عراق عثمانی اور صفوی سلطنتوں کے درمیان کشمکش کے دائرے میں داخل ہوا، جس کا مقدس شہروں پر براہِ راست اثر پڑا۔ نجف عثمانی حکومت کے تحت آگیا، جبکہ صفوی ایران میں ایک بڑی شیعہ طاقت کے طور پر موجود تھے۔ اس کے باوجود نجف کے علماء نے اپنی علمی خودمختاری کی ایک حد برقرار رکھی اور عثمانی حکومت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت مختلف ہونے کے باوجود اپنی علمی سرگرمیاں جاری رکھیں
عثمانی حکومت اگرچہ ایک سنی ریاست تھی، تاہم بعض ادوار میں اس نے عتبات اور مزارات کی تعمیر و ترقی پر بھی توجہ دی۔ دوسری جانب عراق میں شیعہ مخالف گروہوں کو بھی بعض اوقات جابرانہ اقدامات اور سیاسی کشمکش کا سامنا کرنا پڑا
انیسویں صدی میں نجف کو براہِ راست سکیورٹی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں عراق کے مقدس شہروں پر وہابی تحریک کی جانب سے حملے ہوئے اور تاریخی ذرائع میں 1806ء میں نجف پر ہونے والے حملوں کے حوالے بھی ملتے ہیں
اسی دوران نجف میں ایک اہم علمی تبدیلی بھی رونما ہوئی۔ انیسویں صدی تک نجف ایک مستحکم علمی مرکز بن چکا تھا اور یہاں علماء و طلبہ کی تعداد نمایاں طور پر بڑھنے لگی تھی۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق اٹھارہویں صدی کے اختتام پر جہاں شہر میں علماء و طلبہ کی تعداد نسبتاً کم تھی، وہیں انیسویں صدی کے اختتام تک یہاں ہزاروں علماء اور طلبہ موجود تھے۔ اس کے علاوہ ایران، لبنان، برصغیر اور دیگر علاقوں سے بھی علماء نجف آتے رہے
اس کے بعد پہلی جنگِ عظیم اور عثمانی حکومت کے خاتمے کے ساتھ نجف ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ 1918ء میں نجف شہر برطانوی قبضے میں آگیا اور حوزہ علمیہ کو اپنی تاریخ کے حساس ترین سیاسی مراحل میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا
نجف کے متعدد علماء نے برطانوی قبضے کو مسترد کیا اور دینی ادارے نے برطانوی موجودگی کے خلاف عوامی تحریک میں کردار ادا کیا۔ بالآخر 1920ء میں انقلابِ عراق، یعنی ثورة العشرين، رونما ہوا، جس کی تیاری اور رہنمائی میں علماء کا نمایاں کردار تھا۔ برطانوی دستاویزات پر مبنی تاریخی مطالعات بھی برطانوی انتظامیہ کے منصوبوں کے مقابلے میں حوزہ کے علماء کی واضح سرگرمیوں کی تصدیق کرتے ہیں
حوزہ کا برطانوی قبضے کے خلاف موقف محض ایک وقتی سیاسی ردِعمل تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق ملک کی خودمختاری کے وسیع تر تصور اور غیر ملکی تسلط کو مسترد کرنے سے تھا۔ اسی لیے شیخ محمد تقی شیرازی اور دیگر علماء اس دور میں نمایاں ہوئے اور نجف ان فکری مراکز میں شامل ہوگیا جہاں برطانوی قبضے کے حوالے سے دینی موقف تشکیل پایا
عراق کی جدید ریاست کے قیام کے بعد حوزہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ اب اسے براہِ راست قابض طاقت کا سامنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی قومی ریاست کے ساتھ معاملات درپیش تھے جس کے پاس جدید سیاسی ادارے موجود تھے۔ بعد ازاں اسے یکے بعد دیگرے آنے والی جمہوری حکومتوں کے ساتھ بھی مختلف نوعیت کے معاملات کا سامنا کرنا پڑا
اس مرحلے میں حوزہ کے اندر دینی مرجعیت اور ریاست کے درمیان تعلق کی حدود، نیز عمومی معاملات میں علماء کے کردار کے حوالے سے ایک نیا مباحثہ شروع ہوا
یہیں سے نجفی مکتبِ فکر کی ایک اہم خصوصیت نمایاں ہوتی ہے، یعنی علمی خودمختاری کو سیاسی تبدیلیوں سے الگ رکھنا، تاہم جب کوئی مسئلہ معاشرے، دین یا ملک کی خودمختاری سے متعلق ہو تو علماء اس میں مداخلت کا حق بھی اپنے لیے محفوظ سمجھتے رہے
بعض مراجع نے براہِ راست سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے کو اختیار کیا، جبکہ بعض دیگر نے اصلاح، دستور اور قبضے کے خلاف مزاحمت جیسے معاملات میں کردار ادا کیا
اس طویل سفر میں حوزہ محض ایسا ادارہ نہیں تھا جو حالات سے الگ تھلگ رہ کر اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہو، بلکہ بہت سے ادوار میں وہ معاشرے کا حصہ رہا، اس میں رونما ہونے والے حالات سے متاثر بھی ہوا اور ان پر اثرانداز بھی ہوا
اسی لیے حوزہ کی تاریخ کو عراق کی تاریخ سے الگ نہیں کیا جاسکتا؛ عباسی بغداد سے منگولوں تک، عثمانیوں سے برطانویوں تک، اور جدید عراقی ریاست کے قیام سے یکے بعد دیگرے آنے والی جمہوری حکومتوں تک، حوزہ نجف کی تاریخ کے اہم مراحل کا گواہ اور ان میں شریک رہا
تاہم اس تاریخ کے مشکل ترین مراحل بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں آنے والے تھے، جب ریاست اور حوزہ کے درمیان کشمکش زیادہ واضح ہوگئی اور نگرانی، تعاقب، گرفتاری، قتل اور جلاوطنی جیسے اقدامات دینی ادارے سے نمٹنے کے لیے استعمال کیے جانے لگے
مصادر
1۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا، نجف (Najaf) — خصوصاً منگول دور، عثمانی دور اور برطانوی قبضے سے متعلق ابواب
2۔ Majeed Hameed Al-Hadrawi & Ismail Taha Al-Jabri، Religious Scholars, Holy Cities, Twentieth Revolution, British Documents, Al-Hawza — مجلہ مرکز مطالعاتِ کوفہ
3۔ Kalantari، Protecting the Citadel of Islam in the Modern Era: A Case of Shiʿi Mujtahids and the Najaf Seminary in Early Twentieth-Century Iraq — The Muslim World
4۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا، Shiʿite Doctrine III: Imamite-Sunnite Relations since the Late 19th Century
5۔ SOAS، The Religious Establishment in Iraq / The School of al-Najaf — جدید عراق اور نجف کے دینی ادارے کے حوالے سے ایک علمی مطالعہ


