امام حسن عسکریؑ اور ظلم کے ایوانوں میں حق کی سربلندی
امام ع کی مختصر مگر نورانی زندگی گواہی دیتی ہے کہ ظلم کا اقتدار عارضی ہوتا ہے، مگر حق کا نور ہمیشہ باقی رہتا ہے
ظالم کی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، وہ ارادۂ الٰہی کے سامنے بے بس ہے۔ جس دل کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت خوف زدہ نہیں کر سکتی
تاریخِ اہلِ بیت علیہم السّلام کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت نہایت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ ائمۂ معصومین علیہم السّلام نے صرف عبادت، تعلیم اور روحانی تربیت کے ذریعے امت کی رہنمائی نہیں فرمائی، بلکہ اپنے زمانے کے ظلم، جبر، فریب اور باطل نظام کے مقابلے میں حق و حقیقت کی ایسی روشن شمع بھی جلائی، جس کی روشنی آج تک باقی ہے
امام حسن عسکریؑ کی حیاتِ مبارکہ اسی عظیم جدوجہد کا ایک درخشاں باب ہے۔ آپ علیہ السّلام نے عباسی خلفاء کی مسلسل نگرانی، ظلم، قید اور سازشوں کے باوجود اپنے مشنِ ہدایت کو ایک لمحے کے لیے بھی کمزور نہیں ہونے دیا
آپ علیہ السّلام کے عہد میں معتز، مہتدی اور معتمد جیسے خلفاء برسرِ اقتدار آئے
ظاہری طور پر ان کے انداز اور حالات میں کچھ فرق ضرور تھا، لیکن اہلِ بیت علیہم السّلام کے ساتھ ان کی بنیادی پالیسی تقریباً ایک ہی تھی: نگرانی، دباؤ، قید، دھمکی اور بالآخر ظلم و جبر
امام حسن عسکریؑ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے، مگر آپ علیہ السّلام نے جذباتی ردِعمل کے بجائے حکمت، بصیرت اور الٰہی تدبیر کو اپنا راستہ بنایا
معتز نے امام علیہ السّلام کو کوفہ لے جا کر راستے میں قتل کرنے کا ارادہ کیا، مگر امام علیہ السّلام نے اللہ کے اذن سے اس کے انجام کی خبر پہلے ہی دے دی
صرف تین دن بعد معتز کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور وہ خود بھی قتل کر دیا گیا۔ مہتدی نے بھی امام علیہ السّلام کو قید کیا اور آپ علیہ السّلام کے خلاف سخت عزائم رکھے، لیکن امام علیہ السّلام نے اس کے انجام کی بھی پیشگی خبر دی یوں تاریخ نے ثابت کیا کہ ظالم کی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، وہ ارادۂ الٰہی کے سامنے بے بس ہے
معتمد کے دور میں بھی ظلم کی شدت کم نہ ہوئی۔امام علیہ السّلام کو درندوں کے درمیان ڈالنے کی کوشش کی گئی، مگر جن درندوں سے آپ علیہ السّلام کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کی توقع تھی، وہ آپ علیہ السّلام کے گرد سکون سے بیٹھ گئے، جبکہ امام علیہ السّلام اطمینان کے ساتھ نماز ادا کرتے رہے۔ یہ منظر اس حقیقت کی علامت تھا کہ جس دل کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو، اسے دنیا کی کوئی طاقت خوف زدہ نہیں کر سکتی
امام علیہ السّلام کی عظمت کا ایک اور روشن پہلو وہ واقعہ ہے جس میں ایک عیسائی راہب کے ذریعے بارش برسنے سے لوگوں کے عقائد متزلزل ہونے لگے۔ امام علیہ السّلام نے اپنی بصیرت سے اس فتنے کا بھی خاتمہ فرمایا آپ علیہ السّلام نے راہب کے ہاتھ میں موجود ہڈی کو برآمد کیا اور واضح فرمایا کہ یہ کسی نبیِ خدا کی ہڈی ہے، جس کے سبب بارش کا ظاہری سبب پیدا ہو رہا ہے۔ اس واقعے نے مسلمانوں کے دلوں سے شک و شبہات دور کیے اور حق کی حقیقت دوبارہ نمایاں ہو گئی
امام حسن عسکری علیہ السّلام کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی حفاظت ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتی؛ کبھی حکمت، صبر، بصیرت، علم اور کردار بھی سب سے بڑی طاقت بن جاتے ہیں
آپ علیہ السّلام نے ظالم حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے شور و غوغا نہیں کیا، بلکہ اپنی پاکیزہ سیرت، علمی مقام اور الٰہی بصیرت کے ذریعے اس کے جھوٹے اقتدار کو بے نقاب کیا
آج کے انسان کے لیے امام حسن عسکری علیہ السّلام کی حیاتِ طیبہ کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، حق سے وابستگی کمزور نہیں ہونی چاہیے۔ قید، نگرانی، دھمکیاں اور سازشیں ایک مومن کے راستے کو روک سکتی ہیں، اس کے مقصد کو نہیں۔ امام علیہ السّلام کی مختصر مگر نورانی زندگی گواہی دیتی ہے کہ ظلم کا اقتدار عارضی ہے، مگر حق کا نور ہمیشہ باقی رہتا ہے



