پاکستان: جامعہ کراچی میں سالانہ عظیم الشان "یومِ حسینؑ" کا انعقاد

2026-07-22 15:46

کراچی پاکستان: جامعہ کراچی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) کے زیرِ اہتمام سالانہ عظیم الشان یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام اور دینی و ملی جذبے کے ساتھ منعقد ہوا

کراچی پاکستان: جامعہ کراچی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام سالانہ عظیم الشان یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام اور دینی و ملی جذبے کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں جامعہ کراچی کے اساتذہ، طلبہ، مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، دانشوروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد حضرت امام حسینؑ کی حیاتِ مبارکہ، فلسفۂ کربلا اور ان کی عالمگیر تعلیمات کو نئی نسل تک پہنچانا، امتِ مسلمہ میں اتحاد و اخوت کو فروغ دینا اور نوجوانوں میں کردار سازی، اخلاق اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کو بیدار کرنا تھا۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ اکرم ﷺ اور بارگاہِ امام حسینؑ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے سے ہوا، جس کے بعد مقررین نے حضرت امام حسینؑ کی سیرت، فلسفۂ کربلا اور عصرِ حاضر میں حسینی فکر کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔

تقریب کی پہلی نشست سے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید فرخ عباس رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ انسانیت کے لیے حق، عدل، آزادی اور عزتِ نفس کا ہمیشہ زندہ رہنے والا منشور ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی حقیقی روح کے تحفظ، ظلم و استبداد کے خاتمے اور انسانی اقدار کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی، جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ امام حسینؑ کی سیرت کو اپنی عملی زندگی کا نمونہ بناتے ہوئے صداقت، دیانت، شجاعت اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائیں۔

تقریب کی دوسری نشست سے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کرتے ہوئے فلسفۂ کربلا، سیرتِ امام حسینؑ اور عصرِ حاضر میں حسینی فکر و کردار کی اہمیت کو نہایت مدلل اور مؤثر انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں امام حسینؑ کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ دنیا کو عدل، انصاف، حق گوئی، استقامت اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جا سکتی ہے، مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔

اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی شخصیت پوری انسانیت کے لیے حق، انصاف، دیانت، شجاعت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا روشن نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات صرف پیشہ ورانہ تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی اور فکری تربیت کی درسگاہیں بھی ہیں، اور یومِ حسینؑ جیسے علمی و فکری پروگرام نوجوان نسل میں مثبت سوچ، برداشت، رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد پر آئی ایس او جامعہ کراچی یونٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی علمی سرگرمیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

تقریب سے داعیِ اتحادِ امتِ مسلمہ مفتی فضل ہمدرد نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی کسی ایک مسلک، گروہ یا طبقے کی میراث نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور تمام انسانیت کے لیے حق، عدل، صبر، استقامت اور دینِ اسلام کی سربلندی کا ابدی پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ حق کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر ظلم اور باطل کے سامنے سر تسلیمِ خم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سیرتِ امام حسینؑ سے اخلاص، اخلاق، اتحادِ امت، خدمتِ انسانیت اور باہمی احترام کا درس حاصل کریں اور معاشرے میں محبت، رواداری، امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

مقررین نے اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ حضرت امام حسینؑ کی تعلیمات کسی خاص زمانے، علاقے یا قوم تک محدود نہیں بلکہ ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کربلا ہمیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے، مظلوم کا ساتھ دینے، عدل و انصاف کے قیام اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے۔ آج کے دور میں امتِ مسلمہ کو اختلافات سے بالاتر ہو کر امام حسینؑ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اتحاد، اخوت، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔

پروگرام کے اختتام پر امتِ مسلمہ کے اتحاد، پاکستان کی سلامتی، امن، استحکام اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ 


المرفقات

العودة إلى الأعلى