پاکستان کے مختلف شہروں میں یومِ عاشور کے جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر
پاکستان بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی یاد میں نکالے گئے ماتمی جلوس اور مجالسِ عزا پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہو گئے
کراچی میں نواسۂ رسول حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی 61 ہجری میں سرزمینِ کربلا پر عظیم قربانی کی یاد میں شبیہِ علم، تابوت اور ذوالجناح کے مرکزی جلوس برآمد کیے گئے۔ چودہ سو برس قبل پیش آنے والے سانحۂ کربلا کی یاد میں ملک بھر میں مجالسِ عزا، ماتمی جلوس، نیاز اور سبیلوں کا وسیع انتظام کیا گیا
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیتؑ پر کربلا میں ڈھائے گئے مظالم کی یاد میں مختلف شہروں میں عزائی اجتماعات منعقد ہوئے، جہاں حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا
کراچی میں مرکزی جلوس حسینیہ ایرانیان کھارادر سے برآمد ہوا، جبکہ لاہور میں نثار حویلی سے نکلنے والا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا
اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی جلوس اور مجالسِ شامِ غریباں منعقد ہوئیں، جن میں عزاداروں نے شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا
روہڑی میں تقریباً 550 سال قدیم ضریح نو ڈھالہ کا تاریخی جلوس 36 گھنٹے جاری رہنے کے بعد شہدا قبرستان پہنچ کر اختتام پذیر ہوا، جبکہ جھنگ اور سرگودھا میں روایتی تعزیوں کے جلوس نکالے گئے
ملتان میں عالمی شہرت یافتہ استاد اور شاگرد کے تعزیوں کے جلوس برآمد ہوئے۔ اسی طرح حیدرآباد، لاڑکانہ، مٹیاری، فیصل آباد، گوجرانوالہ، مری، رحیم یار خان، بہاول پور، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، پاراچنار، نصیر آباد، حب، گلگت، اسکردو، استور، مظفرآباد اور میرپور سمیت ملک کے متعدد شہروں میں عزاداروں نے خانوادۂ رسولؐ کو پرسہ پیش کیا
یومِ عاشور کے موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کے لیے پوری طرح متحرک رہے



