شیخ کربلائی: شعائرِ حسینی، شعائرِ الٰہی کی تعظیم اورعاشورائی شعور کی بیداری کا نمایاں ترین مصداق ہیں

2026-06-17 09:23

مرجعِ دینیِ اعلیٰ کے نمائندے، شیخ عبد المہدی کربلائی نے گنبدِ امام حسینؑ پر پرچم کی تبدیلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واقعۂ عاشورا سے درس و عبرت حاصل کرنے اور اس کے پیغام و مقاصد کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا

انہوں نے کہا کہ اس عظیم مناسبت کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ بلند انسانی، اخلاقی اور ایمانی اقدار کی ترجمان ہے، جبکہ عاشورا قربانی، اصلاحِ امت اور حق پر استقامت کا ایک مکمل مکتبِ فکر ہے

شیخ کربلائی نے اس بات پر زور دیا کہ امت کو یہ جاننا چاہیے کہ امام حسینؑ اپنی عظیم تحریک کے ذریعے انسانیت کو کیا پیغام دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم شعائرِ الٰہی کی تعظیم کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ یہ انسان کو خداوندِ متعال کے قریب کرتی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ شعائرِ حسینی، شعائرِ الٰہی کی تعظیم کے نمایاں ترین مصادیق میں شمار ہوتی ہیں اور ان کا تقوائے قلبی سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ یہ شعائر تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہیں اور ان کا مقصد ایمانی اقدار، دینی شعور اور رسالتی آگاہی کو فروغ دینا ہے

شیخ کربلائی نے کہا کہ مرجعیتِ دینیہ نے ہمیشہ منبرِ حسینی کو خصوصی اہمیت دی ہے، کیونکہ یہ اعلیٰ اسلامی اہداف کے حصول، باشعور معاشرے کی تشکیل اور نہضتِ حسینی کے اصولوں کو عام کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر تاکید کی کہ ہماری ذمہ داری ایک ایسی امت کی تشکیل ہے جو مکتبِ عاشورا کو صحیح معنوں میں سمجھے، اس سے اصلاح، ذمہ داری، حق پسندی اور اعلیٰ انسانی اقدار کا درس حاصل کرے اور ان تعلیمات کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں نافذ کرے


العودة إلى الأعلى