عراقی وزارتِ منصوبہ بندی کا کچی آبادیوں کے مسائل کے حل کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کا اعلان
ایک سروے کے مطابق پورے عراق میں 35 لاکھ سے زائد افراد کچی آبادیوں میں زندگی گزار رہے ہیں
عراقی وزارتِ منصوبہ بندی کے ترجمان عبد الزہرہ الہنداوی نے کہا ہے کہ وزارت کی جانب سے کیے گئے سرویز اور مردم شماری کے مطابق عراق بھر میں 4679 سے زائد کچی آبادیاں موجود ہیں، جبکہ ان میں رہائش پذیر افراد کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے
انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کے وژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں متعدد عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں پہلا مرحلہ مردم شماری کے اعداد و شمار کی روشنی میں کچی آبادیوں کی درست تعداد اور صورتحال کا تعین کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں ایک جامع اور مستند معلوماتی ڈیٹا بیس تشکیل دیا جا رہا ہے، تاکہ رہائشی سہولیات اور بنیادی خدمات سے متعلق مؤثر اور حقیقت پسندانہ پالیسیاں مرتب کی جا سکیں۔
عبد الزہرہ الہنداوی کے مطابق تیسرے مرحلے میں ان کچی آبادیوں کو منظم کیا جائے گا جن کی اصلاح ممکن ہے۔ اس منصوبے کے تحت وہاں بنیادی سہولیات اور ضروری انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا، جبکہ زرعی اور سرکاری اراضی پر قائم تجاوزات کو قانونی و انتظامی طریقۂ کار کے تحت حل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چوتھا مرحلہ نئی رہائشی بستیوں اور جدید شہروں کی تعمیر پر مشتمل ہے، تاکہ بڑے شہروں کے مراکز پر بڑھتے ہوئے آبادی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ شہروں کے بنیادی ماسٹر پلانز کو بھی ازسرِنو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں حالیہ مردم شماری میں سامنے آنے والے آبادی کے نمایاں اضافے کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
عبد الزہرہ الہنداوی نے بتایا کہ کچی آبادیوں کے حوالے سے بغداد سرفہرست ہے جہاں ایک ہزار سے زائد غیر منظم بستیاں موجود ہیں، جبکہ بصرہ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ دیگر صوبے بھی اس مسئلے سے متاثر ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں کچی آبادیوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خصوصی قوانین اور مؤثر ضوابط کی تیاری ناگزیر ہے



