حقیقتِ دعا

ہر وہ دعا جو زبان پر جاری ہوتی ہے ضروری نہیں کہ وہ حقیقتِ دعا کے درجے تک پہنچ سکے

(حصہ دوم)

بسا اوقات انسان الفاظ کی صورت میں دعا تو کرتا ہے مگر اس کے دل میں وہ کیفیت اور روحانی وابستگی موجود نہیں ہوتی جو دعا کو حقیقی معنوں میں دعا بناتی ہے۔ درحقیقت دعا صرف الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک روحانی کیفیت، قلبی توجہ اور بندگی کے گہرے احساس کا اظہار ہے۔ اسی لیے ہر دعا کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان بنیادی اجزاء اور باطنی کیفیات پر مشتمل ہو جن کے بغیر دعا اپنی اصل حقیقت سے خالی رہ جاتی ہے

گزشتہ مضمون میں آئمۂ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کی روشنی میں دعا کے چند اہم اصولوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان اصولوں کا مقصد یہ تھا کہ انسان دعا کے آداب اور اس کی روح کو بہتر انداز میں سمجھ سکے۔ زیرِ نظر تحریر میں انہی اصولوں کی مزید توضیح پیش کی جا رہی ہے تاکہ دعا کے حقیقی مفہوم کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھا جا سکے

4۔ بارگاہِ الٰہی میں لاچاری اور احتیاج کا اظہار

دعا کی حقیقت کا ایک بنیادی جز یہ ہے کہ انسان اپنے ربِ کریم کے سامنے اپنی بے بسی، فقر اور محتاجی کا اعتراف کرے۔ جب بندہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس حقیقت کا گہرا احساس ہونا چاہیے کہ اس کائنات میں حقیقی عطا کرنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں سے اپنے رب کے حضور یہ عرض کرے کہ اے میرے مالک! تیرے سوا میرا کوئی نہیں جس کے سامنے میں اپنی حاجات پیش کروں۔ تو ہی قادرِ مطلق ہے، تو ہی کریمِ بے نیاز ہے اور تو ہی وہ ذات ہے جو پوری کائنات کو عطا کرنے والی ہے۔ لہٰذا میں بھی صرف تیری ہی بارگاہ میں دستِ سوال دراز کرتا ہوں

جب بندہ اس احساسِ احتیاج کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اس کی دعا میں ایک خاص روحانی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو دعا کو محض رسمی الفاظ سے نکال کر ایک حقیقی مناجات میں تبدیل کر دیتی ہے

حدیثِ قدسی میں ارشاد ہوتا ہے:أدعني دعاء الحزین الغریق الذی لیس لہ مغیث، یاعیسیٰ سلني ولا تسأل غیري فحسن منک الدعا وفی الإجابۃ (وسائل الشیعہ، ج 7، ص 143)

ترجمہ:مجھ سے اس شخص کی طرح دعا مانگو جو غمگین اور ڈوبتا ہوا ہو اور جس کا کوئی مددگار نہ ہو۔ اے عیسیٰ! مجھ سے مانگا کرو اور میرے سوا کسی سے نہ مانگا کرو۔ تمہارا کام اچھے انداز میں دعا کرنا ہے اور میرا کام اسے قبول کرنا ہے

یہ حدیث دراصل اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ دعا کی قبولیت کا راز انسان کے دل میں پیدا ہونے والی اسی عاجزی اور تضرع کی کیفیت میں پوشیدہ ہے۔

5۔ خداوندِ کریم کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا

دعا کے آداب میں سے ایک اہم ادب یہ بھی ہے کہ انسان اپنے رب کے بارے میں ہمیشہ حسنِ ظن رکھے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم دعا مانگ رہے ہوتے ہیں تو ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ نہ جانے ہماری دعا قبول ہوگی یا نہیں۔ پھر اگر بظاہر دعا کی قبولیت میں تاخیر ہو جائے تو انسان مایوس ہو جاتا ہے، اس کا دل شکستہ ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی وہ دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے یا خدا سے شکوہ و شکایت کرنے لگتا ہے

حالانکہ ایک مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کے بارے میں حسنِ ظن رکھے اسے یقین ہونا چاہیے کہ اس کا پروردگار نہایت مہربان، رحیم اور بندوں سے محبت کرنے والا ہے۔ اگر دعا کی قبولیت میں بظاہر تاخیر ہو جائے تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے جسے انسان اپنی محدود عقل کے باعث سمجھ نہیں پاتا

حدیثِ قدسی میں ارشاد ہوتا ہے:أنا عند ظن عبدي بي فلا یظن بي إلا خیراً (بحار الانوار، ج 90، ص 368)

ترجمہ:میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں، لہٰذا میرے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھو

اسی طرح رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل ہوئی ہے:أدعوا اللہ وأنتم موقنون بالأجابۃ(وسائل الشیعہ، ج 7، ص 53)

ترجمہ:جب بھی دعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ وہ قبول ہوگی۔

یہ یقین اور حسنِ ظن دراصل دعا کی روح کو مضبوط بناتا ہے اور بندے کو اپنے رب کے ساتھ ایک گہرا روحانی تعلق عطا کرتا ہے۔

6۔ خضوع اور رقتِ قلب کے ساتھ دعا کرنا

دعا اس وقت حقیقی تاثیر پیدا کرتی ہے جب انسان کے دل میں خشوع اور رقت کی کیفیت پیدا ہو جائے۔ اگر دعا کے وقت انسان کا دل سخت ہو اور وہ اپنے رب کے سامنے عاجزی اور انکساری محسوس نہ کرے تو ایسی دعا میں وہ روحانی تاثیر پیدا نہیں ہوتی جو ایک حقیقی دعا میں ہونی چاہیے

مومن کو چاہیے کہ جب وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کا دل اپنے رب کے حضور جھکا ہوا ہو، اس کی روح میں عاجزی کی کیفیت ہو اور اس کے دل میں اپنے پروردگار کی عظمت اور جلال کا احساس موجزن ہو۔ یہی کیفیت دعا کو ایک اعلیٰ روحانی عبادت بنا دیتی ہے

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے:اغتنموا الدعاء عند الرقۃ فإنھا رحمۃ (بحار الانوار، ج 90، ص 313)

ترجمہ:جب دل میں رقت پیدا ہو تو دعا کو غنیمت جانو کیونکہ رقتِ قلب دراصل رحمتِ الٰہی کا مظہر ہے

اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے:إذا رق أحدکم فلیدع فإن القلب لایرق حتی یخلص(الکافی، ج 2، ص 477)

ترجمہ:جب تم میں سے کسی کے دل میں رقت پیدا ہو جائے تو اسے دعا کرنی چاہیے، کیونکہ دل اس وقت تک نرم نہیں ہوتا جب تک وہ خلوص سے لبریز نہ ہو جائے

یہ روایات اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ رقتِ قلب دراصل اخلاص کی علامت ہے اور یہی کیفیت دعا کو بارگاہِ الٰہی میں مقبول بناتی ہے۔

7۔ گریہ و زاری

حقیقی دعا کے لیے آنسوؤں کی بڑی اہمیت ہے۔ آنسو محض پانی کا ایک قطرہ نہیں ہوتے بلکہ یہ انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود درد، تڑپ اور خلوص کے مظہر ہوتے ہیں۔ جب بندہ اپنے رب کے حضور اشک بہاتا ہے تو دراصل وہ اپنی عاجزی، اپنی محبت اور اپنی امید کا اظہار کر رہا ہوتا ہے

کبھی کبھی ایک قطرۂ اشک بھی ایسی تاثیر رکھتا ہے جو طویل دعاؤں اور بے شمار الفاظ سے پیدا نہیں ہو پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اولیائے الٰہی نے دعا کے وقت گریہ و زاری کو ایک عظیم روحانی نعمت قرار دیا ہے۔

مولا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے روایت ہے:بکاء العیون وخشیۃ القلوب من رحمۃ اللہ تعالیٰ فإذا وجدتموھا فاغتنموا الدعاء ولو أن عبداً بکی فی أمۃ رحم اللہ تلک الأمۃ ببکاء ذلک العبد(مستدرک الوسائل، ج 5، ص 205)

ترجمہ:آنکھوں کا رونا اور دلوں کا خشیتِ الٰہی سے بھر جانا اللہ کی رحمت کی علامت ہے۔ جب تم اپنے اندر یہ کیفیت محسوس کرو تو دعا کو غنیمت جانو۔ اگر امت میں سے ایک بندہ بھی سچے دل سے رو پڑے تو اللہ تعالیٰ اس ایک بندے کے رونے کی وجہ سے پوری امت پر رحم فرما دیتا ہے

یہ روایت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دعا کے وہ لمحے جن میں دل ٹوٹ کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائے، انتہائی بابرکت اور قیمتی لمحات ہوتے ہیں

8۔ ہاتھ پھیلا کر تضرع کرنا

دعا کے دوران بعض ظاہری اعمال دراصل باطنی کیفیات کی علامت ہوتے ہیں۔ ہاتھ پھیلانا بھی انہی میں سے ایک ہے۔ جب انسان اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے تو دراصل وہ اپنی فقر و احتیاج کا اعلان کر رہا ہوتا ہے اور اپنے رب کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے

یہ عمل بندے کے دل میں موجود تضرع اور نیازمندی کو ظاہر کرتا ہے اور دعا کو ایک مکمل روحانی صورت عطا کرتا ہے۔ اسی لیے روایات میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے: إن اللہ یستحي من العبد أن یرفع إلیہ یدیہ فیردھما خائبتین (بحار، ج 90، ص 365)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس بندے سے حیا کرتا ہے جو اس کی بارگاہ میں اپنے ہاتھ اٹھائے اور وہ انہیں خالی واپس لوٹا دے

یہ روایت ہمیں یہ امید اور یقین عطا کرتی ہے کہ جب بندہ خلوصِ دل کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے تو ربِ کریم اسے مایوس نہیں کرتا بلکہ کسی نہ کسی صورت میں اس کی دعا کو ضرور قبول فرماتا ہے

آخر میں دعا ہے کہ خداوندِ کریم ہمیں حقیقتِ دعا کو سمجھنے، اس کے آداب کو اپنانے اور خلوصِ دل کے ساتھ اپنے پروردگار سے مناجات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ ہمارے دلوں کو خشوع، اخلاص اور یقین سے معمور کرے اور ہمیں ایسی دعائیں کرنے کی سعادت نصیب فرمائے جو اس کی بارگاہ میں مقبول ہوں

آمین

جاری ہے....

العودة إلى الأعلى