ماہِ خدا
اس کائنات میں جو کچھ ہے، سب مخلوقِ خدا ہے، اور ہر مخلوق اپنی خاموشی میں بھی ذاتِ خداوندِ کریم کی فیاضی پر ایک روشن اور چیختی ہوئی دلیل ہے
اس عالمِ ہستی کا ذرّہ ذرّہ اعلان کر رہا ہے کہ میں خود بخود وجود میں نہیں آیا، بلکہ مجھے پیدا کرنے والی ذات حکیم بھی ہے اور علیم بھی
ہر مخلوق کے شعور کی اپنی ایک سطح ہے، اور وہ اسی درجۂ شعور کے مطابق اپنے انداز میں ربِ کریم کی بارگاہ میں مصروفِ عبادت ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ۔ (سورۂ جمعہ: 1)
ترجمہ: جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اس اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو بادشاہ، نہایت پاکیزہ، غالب اور حکمت والا ہے
اور سورۂ مبارکہ رعد میں ارشاد ہوتا ہے: وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۔ (سورۂ رعد: 15)
ترجمہ: اور آسمانوں اور زمین میں بسنے والے سب، خوشی سے یا مجبوری سے، اور ان کے سائے بھی صبح و شام اللہ ہی کے لیے سجدہ ریز ہیں
گویا ہر ذرّہ، ہر کنکر، ہر پتھر، ہر پہاڑ؛ ہر بوند، ہر قطرہ، ہر شبنم؛ ہر چشمہ، ہر جھیل، ہر دریا اور ہر سمندر الغرض اس کائنات کی ہر شے اپنے درجۂ شعور پر ربِ کریم کے حضور سجدہ ریز ہے
اس حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بظاہر حقیر سا ذرّہ بھی، سجدے کی نسبت سے، اس انسان سے افضل ہو جاتا ہے جو عقل رکھنے کے باوجود سجدہ نہیں کرتا
اللہ تعالیٰ نے اس صفحۂ ہستی کی بنیاد جس طرح تنوع پر رکھی ہے، اسی طرح فضیلت کو بھی تنوع کا تابع قرار دیا ہے۔ ہر مخلوق اپنی خصوصیات کے اعتبار سے دوسری سے مختلف اور اپنی جگہ منفرد ہے۔ ممکن ہے ہمیں ان خصوصیات کا علم نہ ہو جن کی بنا پر کسی کو کسی پر افضلیت عطا کی گئی ہے، لیکن حکمتِ الٰہی کسی امر کو بلا سبب نہیں چھوڑتی
انسان بھی ایک جیسے نہیں۔ بعض، بعض سے علم میں بڑھ کر ہیں؛ بعض شجاعت میں؛ بعض تقویٰ میں۔ تمام انسانوں سے افضل انبیاء علیہم السلام ہیں، مگر ان کے درمیان بھی درجات کا فرق رکھا گیا۔ ارشادِ ربانی ہے: تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْض (سورۂ بقرہ: 253)
ترجمہ: ان رسولوں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی
پس جس طرح اشخاص میں فرق ہے، اسی طرح مقامات بھی یکساں نہیں۔ گھر کی نماز سے مسجد کی نماز افضل، عام مسجد سے جامع مسجد افضل، مسجد اقصیٰ کی نماز اس سے بڑھ کر، مسجد کوفہ کی اس سے افضل، مسجد نبویؐ کی اس سے بڑھ کر، اور حرمِ کعبہ کی نماز سب سے افضل قرار دی گئی
کیا یہ افضلیت بلا سبب ہے؟ ہرگز نہیں خدا حکیم ہے، اور حکیم کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اگرچہ ہمیں ہر فضیلت کی علت معلوم نہیں، مگر ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہر فرق کے پس منظر میں کوئی حکمت ضرور کارفرما ہے
جس طرح مقامات میں تفاوت ہے، اسی طرح زمانے بھی یکساں نہیں۔ کچھ اوقات کو خدا نے خصوصی شرف عطا فرمایا ہے۔ انہی میں سے ایک ماہِ رمضان المبارک ہے یہ وہ مہینہ جسے خداوندِ کریم نے اپنی نسبت سے شہرُ اللہ قرار دیا۔
یوں تو ہر لمحہ اور ہر زمانہ اللہ ہی کی مخلوق ہے، مگر رمضان کو خاص نسبت عطا کی گئی۔ اس کی عظمت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ اس کے فضائل اپنے محبوب نبی ص کی زبانِ مبارک سے بیان کروائے گئے:
أیھا الناس إنه قد أقبل إليكم شھر الله بالبركة والرحمة والمغفرة…
ترجمہ: اے لوگو! تمہاری طرف اللہ کا مہینہ برکت، رحمت اور مغفرت کے ساتھ آرہا ہے وہ مہینہ جو اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے؛ اس کے دن تمام دنوں سے افضل، اس کی راتیں تمام راتوں سے افضل، اور اس کی گھڑیاں تمام گھڑیوں سے افضل ہیں تمہیں اس میں اللہ کی ضیافت کی دعوت دی گئی ہے… تمہاری سانسیں تسبیح، تمہاری نیند عبادت، تمہارا عمل مقبول اور تمہاری دعا مستجاب قرار دی گئی ہے
گویا ماہِ رمضان روحانیت کی بہار ہے۔ جیسے بہار میں خشک شاخوں پر کونپلیں پھوٹتی ہیں، باغات مہکتے ہیں اور زمین سبزہ اوڑھ لیتی ہے، ویسے ہی اس مہینے میں دلوں کی زمین سرسبز ہو جاتی ہے، ایمان کی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور بندگی کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے
یہ خدا کا مہینہ ہے۔ اس میں خدا میزبان ہے اور انسان مہمان۔ اور جب کوئی بندہ کسی سخی کے دسترخوان سے سیر ہو کر اٹھتا ہے تو ربِّ کریم کے دسترخوان سے محروم کیسے لوٹ سکتا ہے؟
رمضان دراصل بندگی کی معراج ہے، دعا کی قبولیت کا موسم ہے، اور دل کے زنگ کو اتارنے کا سنہرا موقع۔ جو اس مہینے میں خود کو سنوار لے، وہ گویا پورے سال کی راہوں کو روشن کر لیتا ہے



