مسکراہٹ جناب سیدہ زہراءسلام اللہ علیہا کی نظر میں

ایک خوبصورت زندگی مسکراہٹ کے بغیر ناممکن ہےکیونکہ اگر کسی کی زندگی میں تبسم نہ ہو تو وہ زندگی موت لگنا شروع ہو جاتی ہے عام طور پر مسکراہٹ کو ایک عام سا رویہ سمجھا جاتا ہے جبکہ سنجیدگی کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اسی طرح زیادہ تر مسکراتے ہو ئے چہروں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور مسکراہٹ کے بغیرچہروں کو بارعب اور باوقار گردانا جاتا ہے

 حضرت علی علیہ السلام کی ہشاشت کے لیے بھی کسی نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ خلیفہ کو سنجیدہ مزاج ہونا چاہیے جبکہ حضرت تو ایسے نہیں

حالانکہ اگر مسکراہٹ کے نفسیاتی اور سماجی فوائد کو مد نظر رکھا جائے تو یہ ایک نہایت قیمتی رویہ ہے کیونکہ مسکراہٹ انسانی تعلقات میں گرمجوشی اور قُرب پیدا کرتی ہے ،مسکراہٹ کی ایک خاص جاذبیت ہوتی ہے جو مقابل کو راحت اور قربت عطاء کرتی ہے جس کے نتیجہ میں مقابل کے دل میں آپ کی محبت جاگزین ہو جاتی ہے

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ آپ بہت سے ایسے لوگوں کا احترام کرتے ہیں جن کو آپ جانتے تک نہیں بلکہ آپ اس شخص کو صرف ایک مسکراتے ہو ئے چہرے کے طور پر یاد رکھے ہو ئے ہوتے ہیں اس کی مسکراہٹ کے علاوہ آپ اس کے بارے میں بالکل آشنا نہیں ہوتے لیکن یہ شخص آپ کے دل کے بہت قریب ہوتا ہے

اس کی وجہ مسکراہٹ کا نفسیاتی اثر ہے یہ رویہ متکلم اور مخاطب میں سکون اور دلی قربت کا باعث بنتا ہےیہ ہشاش بشاش رہنے کا ایک نفسیاتی پہلو ہے

اور ایک اور نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ اگر انسان آپ کے ساتھ مسکرا کر ملتا ہے تو محبت اور دوستی میں اور بھی مٹھاس پیدا ہو جاتی ہے اور اگر دشمن سے مسکرا کر ملا جائے تو عداوت اور مخالفت میں کمی واقع ہوتی ہے اور دشمن کے دل میں آپ کے لیے نرم گوشہ جاگزیں ہوتا ہے اور اس کے غصے میں کمی ظاہر ہوتی ہے مسکراہٹ اور باحد دلچسپ پہلو تنازعات کے حل کی مدد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے کسی بھی تنازع کے حل کے لیے اگر طرفین کو مسکرانے کی دعوت دی جائے اور تنازع حل کرانے والا شخص اگر طرفین سے مسکرا کر بات کرے تو مشکل سے مشکل اختلاف بھی انتہائی آسانی سے حل ہو جاتا ہے

آج کی جدید سائنس مسکراہٹ کو بہت سی جسمانی بیماریوں کے حل کے طور پر پیش کرتی ہے مثال کے طور پر بہت ساری بیماریوں کی وجہ سٹریس بتائی جاتی ہے اور ان بیماریوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سٹریس کو کنٹرول کرنے کا کہا جاتا ہے اور اس کو قابو میں رکھنے بلکہ ختم کرنے کے لیے مسکراہٹ کو لازمی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ مسکرانے سے ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پریشانی میں کمی آتی ہے اور یوں انسان کے جسم پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انسان صحت مند اور توانا رہتا ہے یہ مسکراہٹ کے چند مادی فوائد ہیں

اور مسکراہٹ کے روحانی اور ایمانی فوائد میں سے ہے کہ مسکراہٹ یا انسان کو جنت میں لے جاتی ہے یا جہنم کی آگ سے بچاتی ہے اور جناب زہراء سلام اللہ علیہا اس حقیقت کو اس انداز میں پیش فرماتی ہیں کہ البشر في وجہ المؤمن یوجب لصاحبہ الجنۃ و بشر في وجہ المعاند یقي صاحبہ النار ( مستدرک الوسائل 12/262)

ترجمہ: مؤمن کے چہرے پر مسکراہٹ اپنے صاحبِ کے لیے جنت لازم کر دیتی ہے، اور ضدّی (یا معاند) کے چہرے پر مسکراہٹ اپنے صاحب کو دوزخ کے عذاب سے بچا دیتی ہے

جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان کی خوش اخلاقی اور خوش مزاجی صرف اور صرف مادی فوائد تک منحصر نہیں ہے بلکہ ایک مسکراہٹ جو اپنے مومن بھائی کے لیے ہو وہ انسان کو جنت تک لے جاتی ہے اور مسکراہٹ کی طاقت یہ ہے کہ اگر دشمن کے سامنے بھی ہو تو خداوند کریم اس کے صدقے میں انسان کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھتا ہے

لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسکراہٹ اور ہشاشت و بشاشت کے کئی مادی فوائد موجود ہیں جو انسانی زندگی  پر مختلف اعتبار سے مثبت اثرات مترتب کرتی ہے لیکن سیدۂ کونین سلام اللہ علیہا نے صرف ایمانی اور أخروی فوائد کی طرف ہی کیوں اشارہ فرمایا ہے ؟

اس سوال کا جواب کئی زاویوں سے دئیے جا سکتے ہے لیکن اس سوال کے جواب کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اگر کسی بھی چیز کے مختلف فوائد اور ثمرات کا موازنہ کیا جائے تو ان میں سے سب سے اہم فائدہ کون سا ہوگا با الفاظ دیگر اگر کسی بھی شئے کے کچھ فوائد ایسے ہیں کہ جو کچھ وقت کے لیے ہیں اور کچھ فوائد دیر پا ہیں تو ان میں سے کون سے فوائد اہم ہوں گے؟ تو یقینا وہ فوائد سب سے زیادہ اہم ہیں جو دیر پا ہیں

خوش مزاجی کے تمام تر فوائد اور ثمرات میں سے سب سے زیادہ دیرپا بلکہ ابدی فوائد اخروی أجر و ثواب کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں جناب زھرا سلام اللہ علیہا کی اس حدیث کی روشنی میں انسان کو یا جنت میسر آتی ہے یا انسان جہنم کی آگ سے محفوظ رہتا ہے اور یہ أجر و ثواب ابدی ہے یہ انسان کو أخروی زندگی میں ہمیشہ میسر رہیں گے

جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی اس مذکورہ حدیث سے یہ نتیجہ أخذ کیا جا سکتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ زندگی کو مسکرا کر گزار دے اس لیے کہ مسکراہٹ ہر حالت میں سود مند ہے کیونکہ جب مسکراہٹ چہرۂ مومن سے ٹکراتی ہے تو ان میں محبت اور رفاقت وصداقت مٹھاس کو اوج تک لے جاتی ہے اور جب مسکراہٹ کے ساتھ مل کر دشمن کا سامنے کیا جائے تو یہ عداوت کی کڑواہٹ کو اپنی شیرینی کے ذریعے رام کرتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسکراتا ہوا چہرہ صرف دنیا میں ہی نہیں مسکراتا بلکہ آخرت میں بھی کبھی حصول جنت کی صورت میں مسکرائے گا اور کبھی نارِ جہنم سے دوری پرمسکرا دے گا ۔نماز کی بھی مسکراہٹ طرح ہے بلکہ لبوں کی نماز ہی مسکراہٹ ہے جس طرح نماز جنت میں لے جاتی ہے اسی طرح مسکراہٹ بھی وہ عبادت ہے جو انسان کو بھی جنت میں لے جاتی ہے اور کبھی نارِ جہنم سے دور کردیتی ہے

 خداوند کریم کی ذات ہمیں مسکرانے اور مسکراہٹیں بھانتے ہو ئے مسکراتے ہو ئے زندگی گزار کر آخرت میں ایک مسکراتی ہوئی خوبصورت سی ابدی زندگی عطا فرمائے بحق محمد و آل محمد علیھم السلام

العودة إلى الأعلى