اہلِ سنت کی مستند کتب میں خطبۂ فدک کاتذکرہ

خطبہ فدک کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ خطبہ حقیقت میں شیعیوں نے تیسری یا چوتھی ، صدی میں وضع کیا تھا لیکن یہ بات حقیقت کے بالکل برعکس ہے اس سی مختصرتحریر میں ایسے تاریخی شواہد پیش کیے جا رھے ہیں جن سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ خطبہ برابر تاریخی تسلسل کے ساتھ ہر دور کے جید سنی علماء و محققین نے نقل کیا ہے ۔ اور اہل تشیع کے یہاں تو یہ خطبہ تواتر سے ثات ہے

یہ خطبہ جناب زھراء سلام اللہ علیھا نے پہلی صدی ہجری میں پیش فرما یا تھااور اس صدی کے فوراً بعد سے مسلسل اس خطبے کو نقل کیا جاتا رہا ہے۔

دوسری صدی ہجری : أبو مخنف أزدی(157م ھ)

 اس صدی میں سب سے پہلے سنی گراں قدر محقق أبو مخنف أزدی نے( خطبۂ زہراء سلام اللہ علیہا )کے عنوان سے ایک مستقل کتاب تصنیف کی تھی لیکن یہ کتاب مفقود ہو گئی۔ (الذریعہ، جلد 7، صفحہ 253) ان کا اصلی نام لوط بن یحیی تھااور انکی وفات(157ھ) میں ہوئی ۔ اور معروف تاریخ دان طبری نے ابو مخنف کی کتابوں کو بطور حوالہ ذکر کیا ہے۔ اور خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کے مقتل کی بہت سی روایات طبری نے ابو مخنف کی کتاب سے اخذ کی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسری صدی ہجری ہی سے اس خطبہ کو نقل کیا جانا شروع ہو چکا تھا۔

اگریہ خطبہ تیسری یا چوتھی صدی ہجری کے شیعہ علماء نے گھڑا ہوتا، تو پھر دوسری صدی ہجری کے اوائل میں ہی یہ خطبہ کیسے نقل ہونا شروع ہو گیاتھا؟

خلیل بن احمد فراہیدی( 170م ھ)

دوسری صدی ہجری کے ایک عظیم لغت ‌شناس، خلیل بن احمد فراہیدی، جن کا انتقال 170 ہجری میں ہوا، نے اپنی مشہور کتاب «العین» میں اس خطبے کی طرف تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا ہے، جو الفاظ اس خطبے کی معروف روایت میں موجود ہیں۔ خلیل بن احمد فراہیدی ان الفاظ کے ساتھ اس خطبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (وفي الحديث: جاءت فاطمة إلى أبي بكر في لميمة من حفدها ونساء قومها) (8/323)کتاب العین

تیسری صدی ھجری: عمر بن شبّة (ت/262 هـ )

 كما قال الجوهري في كتاب السقيفة  ترجمہ: عمر بن شَبَّة (وفات: 262 ہجری) کے بارے میں [یہ روایت] الجوَہَری نے اپنی کتاب 'السقیفہ' میں ذکر کی ہے۔

اس اعتبار سے وہ پہلے راوی ہیں جن کے ذریعے یہ خطبہ ہم تک سنی روایتی مصادر میں پہنچا ہے

عمر بن شَبَّة کی وثاقت:خطيب بغدادی فرماتے ہیں: کہ وہ ثقہ، سیرت اور تاریخِ ایامِ عرب کے ماہر تھے، اور ان کی تصانیف بے حد زیادہ ہیں۔ (الخطيب البغدادي: تاريخ بغداد، ج11 ص208 رقم الترجمة/5914. الناشر: دار الكتب العلمية ـ بيروت)

ذہبی لکھتے ہیں: عمر بن شَبَّة بن عُبَیدہ، حافظ، علّامہ، اخباری، ثقہ، ابو زید نميری بصری تھے۔ (الذهبي: تذكرة الحفاظ، 2ج ص516 رقم الترجمة/533.)

ابنِ حجر کہتے ہیں: ابنِ ابی حاتم نے بیان کیا کہ میں نے ان سے اپنے والد کے ساتھ روایت لکھی، وہ صدوق تھے، عربیت اور ادب کے صاحب تھے۔ دارقطنی نے انہیں ثقہ کہا۔ ابنِ حبان نے انہیں الثقات میں ذکر کیا اور کہا کہ ان کی حدیث مستقيم ہے۔ وہ ادب، شعر، تاریخ اور ایام الناس کے عالم تھے۔ (ابن حجر العسقلاني: تهذيب التهذيب، ج7 ص405)

اسے ان سے ابن ابی الحدید (وفات 656 ہجری) نے 'شرح نہج البلاغہ' میں روایت کیا ہے، جہاں انہوں نے اس کا ایک حصہ ذکر کیا ہے۔ نیز ابو الحسن الأرَبِلی (وفات 693 ہجری) نے 'کشف الغمہ' میں اسے روایت کیا ہے اور کہا ہے: "میں نے اسے [الجوہری کی] کتاب السقیفہ سے عمر بن شَبَّة کے حوالے سے ایک قدیم نسخے سے نقل کیا ہے جسے مؤلف کے سامنے پڑھا گیا تھا، اور یہ نسخہ مؤلف کے سامنے سنہ 322 ہجری کے ربیع الآخر میں پڑھا گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے راویوں سے متعدد طرق کے ساتھ روایت کی ہے۔ (كشف الغمة، ج2ص108-114)

ابو الفضل ابن طیفور بغدادی (م 280ھ) :

انہوں نے اپنی مشہور کتاب بلاغات النساء میں یہ خطبہ پوری سند کے ساتھ نقل کیا ہے، اور اس کے الفاظ تقریبا وہی ہیں جو شیعہ کتب میں منقول ہیں۔ بلاغات النساء، ص14ـ19. الناشر: مكتبة بصيرتي. قم المقدسة

ابنِ طیفور کی وثاقت: وہ ابو الفضل الکاتب احمد بن أبی طاہر ہیں، اور ابو طاہر کا نام طَیفور تھا۔ ان کا اصل وطن مرو تھا

خطيب بغدادی نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:وہ بلیغ ادیب، شاعر، معتبر راوی اور اہلِ فہم و دانش میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی ایک معروف کتاب بغداد ہے جو خلفاء کی سیرت اور ان کے حالات و واقعات پر مشتمل ہے۔" (تاريخ بغداد، ج4ص211 رقم الترجمة/1900)

چوتھی صدی ھجری :ابوبکر احمد بن عبدالعزیز الجوهری (وفات 323ھ)

ابوبکر احمد بن عبدالعزیز الجوهری نے پورا خطبہ فدک اپنی کتاب «السقفیة» میں صفحہ 97 تا 101 پر نقل کی ہے۔ اور اس خطبے کو ان سے بعد کے متعدد ممتاز اہلِ علم نے بھی روایت کیا ہے، جیسے ابنِ ابی الحدید نے شرحِ نہج البلاغہ میں اور اربلی نے کشف الغمّة میں۔

ابو منصور ازہری (م 370ھ)

أبو منصور الأزهري نے اپنی کتاب تہذیب اللغہ میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہو ئے کہا: وروي عن فاطمة البتول أنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها، حتى دخلت على أبي بكر الصديق، أي في جماعة من نسائها۔

ترجمہ:روایت ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چند خواتین کے ساتھ تشریف لائیں، اپنا دامن سنبھالتی ہوئی ابوبکر صدیق کے پاس داخل ہوئیں

پانچویں صدی ھجری: ابو سعد بن الحسن الآبی (متوفی 421ھ):

ابو سعد بن الحسن الآبی نے یہ خطبہ اپنی کتاب نثر الدُر میں روایت کیا ہے، اور ابو سعد بن الحسن الآبی کی وثاقت:

انکی وثاقت کے بارے میں الکتبی نے ان کا تذکرہ کرتے ہو ئے ان کی توثیق کی ہے اور کہا ہے: منصور بن الحسین، استاد، ابو سعد الآبی، جنہوں نے ریّ میں وزارت کا منصب سنبھالا۔ انہیں الوزیر الکبیر ذوالمعالی زین الکفاة کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ وہ نہایت ماہر ادیب، خوب صورت نثر نگار، بلند ہمّت اور شریف النفس شخصیت تھے۔ ثعالبی نے الیتیمہ میں ان کا ذکر کرتے ہو ئے ان کی تعریف کی ہے۔ ان کی کتاب نثر الدُر سات جلدوں پر مشتمل ہے، جس کی نظیر کسی نے جمع نہیں کی۔ ہر جلد ایک خطبے پر مشتمل ہے اور ہر جلد میں ایسے ابواب ہیں جن کی مثال نثری ادب میں کسی نے اس طرح جمع نہیں کی"۔ محمد بن شاكر الكتبي: فوات الوفيات، ج2 ص526 رقم الترجمة/531. الناشر: دار الكتب العلمية.

چھٹی صدی ھجری: محمود بن عمر الزمخشري (م 538ھ)

أشار إلى الخطبة في كتابه الفائق في غريب الحديث، قال: انہوں نے اپنی کتاب الفائق فی غریب الحدیث میں یہی مضمون نقل کیا کہ( وفي حديث ،فاطمة رضي الله تعالى عنها: إنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها، حتى دخلت علی ابی بکر) الفائق3-331

ترجمہ:حضرت فاطمہؑ اپنی چند خواتین کے ہمراہ تشریف لائیں، اوراپنے لباس کا کنارہ اٹھائے ہو ئے ابوبکر کے پاس گئیں۔

محمد بن حمدون (م 562ھ)

انہوں نے اپنی معروف تصنیف التذکرۃ الحمدونیۃ میں پورا خطبہ فدک نقل کیا ہے۔

الخوارزمی (وفات 568ھ)

انہوں نے اپنی کتاب مقتل الحسینؑ میں اس خطبے کا ایک حصہ ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: اسی سند کے ساتھ … الزہری سے، اور وہ عروہ سے، اور وہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں. ( الخوارزمي: مقتل الحسين ع، ص121 ـ 123 ح 59)

الخوارزمی کی وثاقت:

امام ذہبی نے تاریخ الإسلام میں ان کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: موفّق بن احمد بن محمد ابو المؤیَّد المکی، علّامہ، خطیبِ خوارزم؛ نہایت بلیغ، فصیح اور عمدہ مقرر تھے۔ انہوں نے طویل عرصے تک خوارزم میں خطابت کے فرائض انجام دیے، خطبوں کا ایک مجموعہ تیار کیا، لوگوں کو پڑھایا، اور ایک جماعت ان سے فارغُ التّحصیل ہوئی۔ انہیں خطیبِ خوارزم کہا جاتا تھا۔" (تاريخ الإسلام، ج39 ص327)

عبدالرحمن بن جوزی (م 597ھ)

انہوں نے اپنی کتاب غریب الحدیث میں اس کا ذکر کیا کہ: (وفى الحديث أن فاطمة خرجت في لمة من نسائھا الی ابی بکر) غریب الحدیث 2-333

ترجمہ:حضرت فاطمہؑ چند خواتین کے ساتھ ابوبکر کے پاس آئیں ۔

ساتویں صدی ھجری: ابن الاثیر الجزری (م 606ھ)

انہوں نے النہایہ فی غریب الحدیث والاثر میں فرمایا "في حديث فاطمة: «أنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي بكر، فعاتبته»، أي في جماعة من نسائها، قيل : هي ما بين الثلاثة إلى العشرة"۔ النہایہ فی غریب الحدیث والاثر4-557

ترجمہ: "حضرت فاطمہؑ چند خواتین کے ساتھ، اپنا دامن سمیٹے ہو ئے، ابوبکر کے پاس گئیں اور اسے عتاب کیا۔ ‘لمة’ سے مراد تین سے دس افراد کی جماعت ہے

سبط ابن الجوزی (م 654ھ)

انہوں نے اپنی کتاب مرآة الزمان میں اس خطبے کے بعض حصے نقل کیے، "لما منعت فاطمة ميراثها دخلت على أبى بكر وقد لاثت خمارها على رأسها، ثم حمدت الله وأثنت عليه ووصفت رسول الله باوصاف، فكان مما قالت: كان كلما فغرت فاغرة من المشركين أو نجم قرن من الشيطان وطأ روقه بأخمصه، وأحمد لهبه بسيفه، وكسر قرنه بعزيمته۔۔۔"( مراة الزمان4-275)

ترجمہ "جب فاطمہؑ اپنے وراثت کے مطالبے کے لیے آئیں تو انہوں نے اپنا خمار (اوڑھنی) سر پر باندھا، اللہ کی حمد و ثنا کی، رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان کیں اور فرمایا کہ:

جب بھی مشرکین کی کوئی جماعت یا شیطانی قوت سر اٹھاتی، رسول اللہ ﷺ اپنی عزیمت اور شمشیر سے اس کا سر جھکا دیتے

ابن ابی الحدید معتزلی (م 656ھ)

انہوں نے شرح نہج البلاغہ میں یہ خطبہ مکمل طور پر نقل کیا، اس کی متعدد اسناد بیان کیں اور مشکل الفاظ کی توضیح بھی کی۔

آٹھویں صدی ھجری: ابن منظور افریقی (م 711ھ)

انہوں نے لسان العرب میں فرمایا: قال: وفي حديث فاطمة رضوان الله عليها أنها خرجت في لمة من نسائها تتوطأ ذيلها إلى أبي بكر، فعاتبته، أي في جماعة من نسائها. لسان العرب(12-547) حدیث حضرت فاطمہؑ میں ہے کہ آپ چند خواتین کے ہمراہ ابوبکر کے پاس گئیں اور اسے عتاب کیا

نویں صدی ھجری:

علامہ شمس الدین محمد الباعونی الشافعی (متوفی 871ھ) نے اپنی کتاب جواهر المطالب میں اسے نقل کیا ہے۔

دسویں صدی ھجری: مجد الدین فَتنی (م 986ھ)

انہوں نے اپنی کتاب مجمع بحار الأنوار میں ذکر کیا کہ:" في حديث فاطمة إنها خرجت في لمة من نسائها هي ما بين الثلاثة إلى العشرة، أو المثل في السن والترب۔" مجمع بحار الأنوار4-510

ترجمہ:"روایت میں آیا ہے کہ فاطمہؑ اپنی ہم سن خواتین کے ایک چھوٹے گروہ (تین سے دس افراد تک) کے ساتھ گئیں

تیرویں صدی ھجری: مرتضیٰ الزبیدی (م 1205ھ)

انہوں نے اپنی لغوی تصنیف تاج العروس میں فرمایا:" وفي حديث فاطمة رضي الله تعالى عنها أنها خرجت في لمة من نسائها، أي في جماعة۔" تاج العروس 7896

فاطمہؑ کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ وہ اپنی چند خواتین کے ساتھ باہر تشریف لائیں’لمة‘ یعنی جماعت یا رفیقوں کے ہمراہ

ان تمام صدیوں میں خطفہ فدک مشھور رہا اور مختلف سنی علماء اور مورخین و ادباء نےاسے نقل کیا اور ان میں سے کسی عالم نے اس خطبہ کے حواے منفی تبصرہ نہیں کیا-یہ وہ تمام علماء ہیں جن کا تعلق اہل سنت سے ہے اگر ان کے شیعہ علماء کی کتب کو ساتھ ملایا جائے تو عدد بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس کا یقین آور ہونا بہت روشن ہے

العودة إلى الأعلى