فقہ جعفری سب سے بہترین فقہ کیوں ہے؟

اگر کوئی بھی مسلمان غیر جانبدار ہو کر خود سے یہ سوال کرے کہ وہ میدان عمل میں اسلام پر عمل پیرا ہونے کی خاطر کون سی فقہ کا انتخاب کرے یا باالفاظ دیگر فقہ اسلامی کا کون سا ورژن (version)سب سے اچھا اور بہترین ورژن ہے تواس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے دو راستے موجود ہیں ایک راستہ تو یہ ہے کہ وہ شخص تفصیلی طور پر اسلام کی تمام مذاہب فقہ کا مطالعہ کرے اور جو فقہ اس کو زیادہ معقول اور حقیقت کے قریب محسوس ہو اس کا انتخاب کرے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کے معاملات کو حل کرے۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ خود تجزیہ اسلامی مذاہب فقہ کا عمومی تجزیہ کرے ۔عام طور پر فقہ اسلامی میں چار مذاہب کو ذکر کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں

حصہ اول  

(1)مذہب حنفی: یہ مذہب امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب ہے

(2)مذہب مالکی: یہ مذہب مالک ابن انس کی طرف منسوب ہے

(3) مذہب شافعی: یہ مذہب امام شافعی کی طرف منسوب ہے

(4) مذہب حنبلی: یہ مذہب احمد بن حنبل کی طرف منسوب ہے

 اور ان فقہی مکاتب فکر کے لیے( مذاہب اربعہ )کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسلام کی سب سے اہم اور اسلام کی حقیقی نمائندہ فقہ، فقہ جعفری کا ذکر تک نہیں کیا جاتا جبکہ یہ فقہ باقی تمام مذاھب فقہ سے افضل ہے اور اس حقیقت کو اسلامی مذاہب کے عمومی تجزیہ کے ذریعے سے سمجھا جا سکتا ہے اس تجزیے سے مراد یہ ہے کہ تمام مذاہب فقہ کے بانیان اور ان کی روش کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اگر فقہ جعفری کی بات کی جائے تو اس کے بانی حضرت امام جعفر صادق علیہ الصلوۃ والسلام تھے اور آپ آل رسول ص کے چشم و چراغ تھے اور خانوادہ نبوت سے تعلق رکھتے تھے بلکہ مذاہب فقہ کے بانیان میں سے صرف فقہ جعفری ہی ہے کہ جس کے بانی حضرت امام جعفر صادق علیہ الصلوۃ والسلام کی رگوں میں خون رسالت گردش کر رہا تھا ۔فقہ جعفری کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حکم الہی کا مصدر یا قران ہے یا حدیث اور بس ۔باالفاظ دیگر فقہ جعفری ہی وہ واحد فقہ اسلامی ہے کہ جس میں احکام کو سمجھنے میں بشری فکر کو کوئی دخل حاصل نہیں ہے بلکہ  اس میں فکر بشری کا کام صرف اور صرف قرآن و حدیث سے مراد و مقصود کو سمجھنا ہے۔ اس اعتبار سے اس فقہ جعفری کو خالص فقہ اسلامی کہا جا سکتا ہے یعنی وہ فقہ اسلامی جس میں انسانی فکری آمیزش موجود نہیں ہے اس فقہ کے علاوہ فقہ اسلامی کے جتنے بھی (versions) موجود ہیں ان تمام میں حکم اللہ کو ثابت کرنے کے لیے بشری فکر کو براہ راست دخالت حاصل ہے کیونکہ فقہ جعفری کے علاوہ تمام مذاہب فقہ میں قیاس اور استحسان وغیرہ کو فقہی استنباط میں بطور ہتھیار بطور (tool) استعمال کیا جاتا ہے باالفاظ دیگر جب کوئی حکم قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو رہا ہو تو اس کو قیاس اور استحسان سے ثابت کیا جا سکتا ہے جبکہ قیاس اور استحسان کو فقہی استنباط میں استعمال کرنا فکر بشری کو حکم الہی کو ثابت کرنے میں مکمل اور مستقل ذریعہ قرار دینے کے مترادف ہے اور اس بات کا قائل ہونے کی مانند ہے کہ انسان بھی خداوند کریم کی طرح شریعت سازی کا حق رکھتا ہے العیاذ باللہ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقہ جعفری کے علاوہ تمام مذاہب فقہ میں اللہ تعالی کے علاوہ غیر معصوم انسان کو بھی شریعت ساز کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ہے اور حب کہ غیر معصوم انسان ہر طرح کی فکری خطا کا مرتکب ہو سکتا ہے اور ان مذاہب فقہ کا غلطی پر مبنی ہونا اسی وجہ سے بات واضح ہوجاتا ہے

اور کوئی بھی مسلمان اس حقیقت کا انکار، مدلل اور معقول انداز میں نہیں کر سکتا اور ان مذاہب اربعہ کے مقابلے میں ایک ہی فقہ ہے جو خالص فقہ اسلامی کہلوانے کی سزاوارہے۔ کیونکہ اس میں شریعت سازی  کا حق خداوند کریم کے لیے یا اس شخص معصوم کے لیے مختص ہے جس کو خود اللہ تعالی نے اس کی عصمت کی بنیاد پر شریعت سازی کا حق سونپ رکھا ہے ہر عاقل اور صاحب فہم و فراست انسان بہت آسانی سے یہ فیصلہ کرنے کی سکتا ہے کہ وہ خالص فقہ اسلامی پر عمل پیرا ہونا چاہتا ہے یا ان اسلامی  مذاہب کو اختیار کرنا چاہتا ہے کہ جو واضح طور پر ملاومت کا شکار ہیں؟ کوئی بھی خالص چیز غیر خالص چیز سے افضل ہوتی ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک انسان خالص دودھ کے حصول کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا لیکن خدا تک جانے والے راستے کے بارے میں غور نہیں کرتا کہ یہ خالص بھی ہے یا نہیں؟ فقہ جعفری کے باقی مذاہب اربعہ سے بالاتر ہونے کا ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ استاد شاگرد سے افضل ہوتا ہے اس لیے کہ شاگرد استاد کا محتاج ہوتا ہے کیونکہ اس شاگرد کے پاس وہ علم نہیں ہوتا جو استاد کے پاس ہوتا ہے بالفاظ دیگر استاد کو شاگرد پر علمی برتری حاصل ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر استاد کو افضل اور شاگرد کو مفضول گردانا جاتا ہے جس طرح استاد شاگرد سے افضل ہوتا ہے بالکل اسی طرح استاد (کہ جو علم میں زیادہ ہوتاہے) کی بنائی ہوئی کوئی بھی چیز شاگرد کی بنائی گئی کسی بھی چیز سے افضل اور برتر ہوتی ہے۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ فقہ جعفری کے علاوہ تمام مذاہب فقہ اسلامی کے بانی یا تو براہ راست حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے یا بالواسطہ ۔ ابو حنیفہ اور مالک بن انس نے براہ راست امام صادق علیہ السلام سے کسب فیض کیا تھا۔ اور امام شافعی، مالک بن انس کے شاگرد تھے اور احمد بن حنبل ، امام شافعی کے شاگرد تھے۔ انسان اپنی قوت و وسعت کے مطابق ہمیشہ بہتر کی تلاش میں رہتے ہیں کبھی بہتر گاڑی کبھی، کبھی بہتر گھراور کبھی بہتر علاقہ وغیرہ لیکن انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ دین پر عمل کے معاملے میں انسان بہتر راستے اور افضل فقہ کو تلاش نہ کرے۔ اگرکسی مسلمان کو بہترین فقہ اسلامی کی تلاش ہے تو وہ فقہ جعفری ہے کیونکہ اس کے بانی باقی مذاہب فقہ کے بانیوں کے استاد ہیں اور استاد کی مرتب کردہ فقہ اسلامی استاد ہی کی طرح شاگرد کی مرتب کردہ فقہ سے افضل اور برتر ہوتی ہے۔ (جاری ہے)

العودة إلى الأعلى