حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت میں تواضع اور انکساری کا پہلو

حصہ دوئم ۔۔۔۔ مادی دنیا میں ظاہرا بڑے لوگ عموما ایسا لباس پسند کرتے ہیں جس میں وہ دیگر انسانوں سے منفرد اور نمایاں دکھائی دیں اورآ ج کی ماڈرن دنیا میں بڑے لوگ (Brand conscious) ہوتے ہیں اور وہ مخصوص برانڈ کے ملبوسات کو ہی پہننا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ وہ دیگر لوگوں سے نمایاں اور منفرد نظر آئیں

لیکن تمام انسانوں سے افضل انسان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت یہ تھی کہ آپ کو جو بھی لباس میسرآتاآپ زیب تن فرما لیا کرتے تھے البتہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لباس کی صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ غربت اور تنگدستی کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے بلکہ اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اگر چاہتے تو دیبا ج و ریشم کے لباس پہن سکتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ کوئی ایسا لباس سے نہیں پہنا کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم دیگر اصحاب سے الگ تھلگ دکھائی دیں

 سواری کے انتخاب میں عاجزی:

شاندار سواری کو شان و شوکت کا مظہر جانا جاتا ہے اور ہر دور میں بادشاہوں کی سواری عام لوگوں کی سواریوں سے یکسر مختلف اور نمایاں ہوتی تھی۔ آج بھی ظاہرا بڑے لوگ اچھی سواری کے انتخاب پے خصوصی توجہ دیتے ہیں اور جدید سے جدید ٹیکنالوجی کی حامل گاڑیوں کو پسند کرتے ہیں اور اپنے مال کا ایک بڑا حصہ اچھی سے اچھی گاڑی کو خریدنے پر صرف کر دیتے ہیں۔ ممکن ہے بہت اچھی گاڑی کا انتخاب بعض لوگوں کی سفری ضرورت کے عین مطابق ہو لیکن عموما بہت قیمتی سواریوں کا انتخاب محض لوگوں کی توجہ حاصل کرنےکے لیے ہی ہوتا ہے تاکہ لوگ ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور لوگوں پر رعب و دبدبہ کی کیفیت تاریک کی جا سکے لیکن یہ رویہ قطعا غیر اسلامی طرز عمل ہے رسول خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ صاحب عزت انسان کون ہو سکتا ہے اس کے باوجود آپ اپنی ضرورت کے مطابق انتہائی عاجزانہ سواری کا انتخاب فرمایا کرتے تھے تاکہ عزت و عظمت کے اس مادی معیار کو تبدیل کیا جا سکے آپ کی سیرت کے مطابق بڑا انسان وہ نہیں ہے جس کے پاس گاڑی بڑی ہے بلکہ بڑا انسان وہ ہے جس کا اخلاق اور تقوی سب سے بڑھ کر ہے ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہو ئے جس پر ایک کجاوا تھا اور اس کا جاوے پر فدق کی بنی ہوئی نرم ونازک چادر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیاصحيح البخاري 5964

 آپ کے زمانے میں طرح طرح کے نسلی گھوڑے بہترین سواری شمار ہوتے تھے اور صاحب ثروت عرب اپنی سواری کے انتخاب میں بہت مال خرچ کیا کرتے تھے اور گدھے اور خچر اس دور کی معمولی سواری شمار کیے جاتے تھے اور پسندیدہ سواری نہیں سمجھے جاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عجز اور انکساری کا عالم یہ تھا کہ مال ہونے کے باوجود آپ کی قیمتی نسلی گھوڑوں کے بجائے عام سواری گدھے یا خچر پہ سفر کیا کرتے تھے۔

 گھر کے ماحول میں عاجزانہ طرز عمل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے گھر میں بالکل ایک عام انسان کی مانند زندگی گزارتے تھے گھر کے بہت سے کام خود انجام دیا کرتے تھے اہل خانہ کی خدمت میں بھی وقت صرف فرماتے تھے آپ سلطان الانبیاء ہونے کے باوجود بھی گھر کے ماحول میں اپنے اہل و عیال میں یوں رس بس جاتے تھے کہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کائنات کے سب سے بڑے نبی ہیں یا ایک عام انسان ۔ ایک روایت میں منقول ہے کہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک بیوی سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کیا کرتے ہیں تو جواب ملا کہ( كان يكونُ في مِهْنَةِ أهلِهِ ، فإذا حضرتِ الصَّلاةُ خرجَ۔۔۔) صحيح البخاري676

 ترجمہ :آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے اہل خانہ کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں اورجب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لیے نکل جایا کرتے تھے اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک شاہانہ زندگی گزارنے کےبجاے انتہائی عاجزانہ زندگی گزارا کرتے تھے اور اس کو فوقیت دیا کرتے تھے۔

 اپنی تعریف کو سن کر انکساری کا اظہار:

 یہ بات تو طے شدہ ہے کہ اس دنیا میں تمام انسان ایک ہی طرح کی فضیلت اور عظمت کے حامل نہیں ہیں بلکہ انبیاء جو انسان کامل ہیں اور باقی عام تمام انسانوں سے افضل ہیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں اس کے باوجود بھی جب بھی کوئی شخص آپ کے فضائل کو ذکر کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کی نسبت دیگر انبیاء کی طرف دے دیا کرتے تھے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ (ما يَنْبَغِي لأحَدٍ أنْ يَكونَ خَيْرًا مِن يُونُسَ بنِ مَتَّى) صحيح البخاري4804

 ترجمہ: کسی بندے کے لیے یہ سزاوا نہیں ہے کہ وہ (میرے بارے میں) کہے کہ میں حضرت یونس ع سے افضل ہوں جبکہ اس بات میں تو شک نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت یونس ع سے افضل تھے لیکن پھر بھی آپ پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کی فضیلت کا اظہار کیا جائے اور اس کی وجہ ایک الگ چیز ہے اور وہ یہ کہ حامل فضیلت ہونا ایک اور چیز ہے اور اپنی کسی فضیلت کو سن کر خوش ہونا ایک جدا شی ہے اور انسان کامل ایسے طرز عمل سے بہت بلند ہوتا ہے راہی سفر کمال کو بھی ایسے رویوں سے گریزہ رہنا چاہیے ایک اور روایت نے منقول ہے کہ (أنه جاء رجلٌ إلى رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فقال : يا خيرَ البريَّةِ ! فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ذاك إبراهيمُ عليه السلامُ) مسلم (2369)

 ترجمہ :یعنی ایک دفعہ کسی شخص نے آپ کو خیر البریہ یعنی تمام خشکی پر رہنے والی مخلوق سے بہتر کہہ کر پکارا تو رسول خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میں خیرالبریہ نہیں بلکہ وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے آپ کا یہ عاجزانہ رویہ غیر معمولی حد تک متاثر کن ہے اور یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی وہ شخص جو منصف مزاج ہو، آپ کے اخلاق کی خوشبو سے اشنا ہو آپ کی ذات گرامی کا دیوانہ ہو ئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ قبول دعوت میں انکساری: عام طور پہ خود کو بڑا انسان تصور کرنے والے لوگ غریبوں کی دعوت قبول نہیں کرتے کیونکہ ان کے خیال میں ان کا معیار کسی بھی غریب انسان کے معیار سے بلند ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کا غریب کا کوئی تحفہ قابل قبول سمجھا جاتا ہے بلکہ آ ج کل کے نام نہاد خطباء اور مذہبی رہنما بھی غریب عقیدت مندوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں اور قبول دعوت میں امیر غریب کے فرق کو ملحوظ رکھا جاتا ہے لیکن اس کائنات کے سب سے عظیم انسان ہوتے ہو ئے بھی رسول خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کبھی کسی بھی غریب کی نہ تو دعوت ٹھکراتے تھے اور نہ ہی کسی غریب کے کسی تحفے کو رد فرمایا کرتے تھے اس بارے میں اس بارے میں یہ روایت ملاحظہ ہو کہ لَوْ دُعِيتُ إلى كُراعٍ لَأَجَبْتُ، ولو أُهْدِيَ إلَيَّ كُراعٌ لَقَبِلْتُ. صحيح البخاري5178  

ترجمہ: اگر مجھے کُراع (بکری یا گائے کے پچھلے پاؤں کا گوشت) پر بھی بلایا جائے تو میں ضرور لبیک کہوں گا، اور اگر مجھے کُراع ہی بطور ہدیہ بھیجا جائے تو میں اسے بھی قبول کر لوں گا

بلکہ آ پ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انسانیت کی تربیت کی خاطر تمام انسانوں کو دعوت دیا کرتے تھے کہ )إِذَا دُعِيتُمْ إلى كُرَاعٍ، فأجِيبُوا(مسلم (1429)

ترجمہ: جب تمہیں کُراع (یعنی بکری یا گائے کے پچھلے پاؤں کا گوشت) پر بلایا جائے تو دعوت قبول کرو۔

 یہ تحریر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت کے صرف ایک پہلو یعنی انکساری کے بعض زاویوں کو پیش کرنے کی ایک حقیر سی کوشش تھی دعا ہے خداوند کریم ہم سب کو انسان کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت پر عمل کر کے دنیا و آخرت میں عظمتوں کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے الہی امین

العودة إلى الأعلى