پاکستان: سکردو میں پہلی نہج البلاغہ کانفرنس، بیادِ محسنِ ملت، کا انعقاد
بلتستان میں منعقدہ پہلی نہج البلاغہ کانفرنس میں علما و دانشوروں کا اظہارِ خیال
سکردو: نہج البلاغہ کی علمی، فکری اور عملی عظمت کو اجاگر کرنے اور امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی تعلیمات کو معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل تک پہنچانے کے لیے بلتستان میں پہلی مرتبہ نہج البلاغہ کانفرنس، بیادِ محسنِ ملت کا انعقاد کیا گیا۔
مرکز افکارِ اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی یہ کانفرنس علامہ اقبال آڈیٹوریم، جامعۃ النجف سکردو میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کو مفسرِ قرآن محسنِ ملت علامہ شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس علمی کاوش میں انجمنِ امامیہ بلتستان، جامعۃ النجف سکردو، اسوہ ایجوکیشن سسٹم، جامعۃ الکوثر اسلام آباد اور دیگر علمی و دینی شخصیات نے تعاون کیا۔کانفرنس میں علما، محققین، دانشوروں، اساتذہ اور مختلف تعلیمی و دینی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جس کے بعد حفاظِ قرآن کے بچوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی شان میں توشیح پیش کی۔
مولانا لیاقت اعوان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہج البلاغہ توحید، معرفتِ الٰہی، عدل، اخلاق، سیاست اور معاشرت سمیت انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے مرکز افکارِ اسلامی کی علمی و تحقیقی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے نہج البلاغہ کے موضوع پر چالیس سے زائد کتابیں اور مختلف موضوعاتی تصانیف مرتب کی ہیں۔ انہوں نے نہج البلاغہ کے اردو تراجم اور مطبوعہ نسخوں کی علمی صحت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستند اور تحقیقی نسخوں کی تیاری ضروری ہے، تاکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا کلام درست صورت میں نئی نسل تک پہنچ سکے۔
معروف محقق و ادیب محمد حسن حسرت نے نہج البلاغہ اور سائنس کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائنس مشاہدے اور تجربے کے ذریعے کائنات کے حقائق کا مطالعہ کرتی ہے، جبکہ نہج البلاغہ انسان کو کائنات کی تخلیق، معرفتِ الٰہی اور اخلاقی و روحانی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
علامہ شیخ محمد علی توحیدی نے کہا کہ نہج البلاغہ کو کسی مسلک تک محدود کرنے کے بجائے پوری انسانیت کے مشترکہ علمی و اخلاقی سرمایہ کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے معیاری تراجم، عالمی جامعات سے روابط، تحقیقی منصوبوں اور جدید تعلیمی نصاب میں نہج البلاغہ کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا
اسوہ ایجوکیشن سسٹم کے نمائندے محمد نسیم نے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض معلومات اور اسناد حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان کی فکری صلاحیتوں، کردار اور عملی قابلیت کو پروان چڑھانا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے علامہ شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
معروف خطیبِ نہج البلاغہ حجۃ الاسلام مولانا ڈاکٹر پروفیسر عابد حسین نے نہج البلاغہ کی روشنی میں قیادت اور ادارہ جاتی نظم و نسق کے اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ سربراہی محض عہدہ یا اختیار نہیں، بلکہ ایک امانت ہے جس کے بارے میں جواب دہی ضروری ہے انہوں نے عدل، میرٹ، شفافیت، اہل افراد کے انتخاب اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں دیانت داری کو مؤثر قیادت کے بنیادی اصول قرار دیا۔
مرکز افکارِ اسلامی کے سرپرست علامہ مقبول حسین علوی نے نہج البلاغہ کے فروغ کے لیے علمی شخصیات اور محققین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خواتین اور طالبات میں نہج البلاغہ کے مطالعے کو فروغ دینے اور سیرتِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ذریعے بصیرت، حق گوئی، جرأت اور استقامت جیسی صفات پروان چڑھانے کی اہمیت بیان کی۔
داعیِ وحدت علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے نہج البلاغہ کی علمی و ادبی عظمت اور اس میں موجود انسانی مساوات و عدل کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے مکتوبِ مالک اشتر کے اس فرمان کا حوالہ دیا:
فانہم صنفان اما اخ لک فی الدین و اما اخ لک فی اخلق یعنی لوگ دو قسم کے ہیں، یا وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے انسان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ فرمان مذہب، نسل اور دیگر امتیازات سے بالاتر ہوکر انسانی مساوات، احترام، عدل اور رواداری کا درس دیتا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ نہج البلاغہ کو محض خطابات اور تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی طور پر نافذ کیا جائے۔
کانفرنس کے مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کو مسلکی حدود سے آگے بڑھا کر پوری انسانیت تک پہنچایا جائے انہوں نے نہج البلاغہ کے مطالعے، اس پر عمل، مستند تراجم کی تیاری اور اس کے آفاقی پیغام کے فروغ کے لیے علمی و تحقیقی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کانفرنس کے اختتام پر شہدائے اسلام، بالخصوص شہدائے بلتستان، مرحوم مراجعِ عظام اور محسنِ ملت علامہ شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔



