عراقی اور فرانسیسی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ذی قار میں تین نئے تاریخی ٹیلے دریافت کر لیے
عراقی اور فرانسیسی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی مشترکہ ٹیم نے صوبہ ذی قار کے علاقے صلیبیات میں تین نئے آثارِ قدیمہ کے ٹیلے دریافت کیے ہیں
اس کے علاوہ، دریائے فرات کے قدیم راستے اور ایک ایسی عمارت کے آثار بھی ملے ہیں، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ قدیم زمانے میں کشتیوں کی گزرگاہ یا بندرگاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی
عراقی مشترکہ ٹیم کے رکن کاظم حسون نے بتایا کہ فرانسیسی جامعہ اسٹراسبرگ کے محققین پر مشتمل ٹیم نے علاقے صلیبیات میں اپنے دوسرے تحقیقی سیزن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد قدیم تاریخی تہوں کا مطالعہ کرنا اور زمین کی سطح پر بکھرے ہوئے آثار و نوادرات کو جمع کرنا ہے
کاظم حسون کے مطابق، تحقیق کے دوران بغیر پائلٹ کے طیاروں، زمینی سروے اور جدید ارضی طبیعیاتی آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ زمین کے نیچے موجود قدیم عمارتوں اور دیگر تعمیرات کا پتا لگایا جا سکے
انہوں نے بتایا کہ سروے کے لیے تقریباً 10 ہزار مربع میٹر کا رقبہ مختص کیا گیا ہے، جس کا سروے آئندہ سیزن میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عراقی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور انہیں جدید آلات و ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ آثارِ قدیمہ کے سروے کے نتیجے میں تین نئے تاریخی ٹیلے دریافت ہوئے ہیں، جو تل صلیبیات، جسے تل الحزم بھی کہا جاتا ہے، اور تل مزید کے درمیان واقع ہیں۔ اس کے علاوہ، گزشتہ سیزن کے دوران دریائے فرات کے قدیم راستے اور ایک ایسی عمارت کے آثار بھی دریافت ہوئے تھے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ قدیم زمانے میں کشتیوں کی بندرگاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی
کاظم حسون نے وضاحت کی کہ مقامِ صلیبیات کی اہمیت اس اعتبار سے بھی نمایاں ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ باقاعدہ کھدائی سے قبل آثارِ قدیمہ کا منظم سروے کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبہ ذی قار کے متعدد دیگر مقامات پر انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران کھدائی کا کام ہو چکا ہے
ان کے مطابق، دریافت ہونے والے نوادرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے میں انسانی آبادی کے آثار چھٹی ہزار سال قبل مسیح تک پہنچتے ہیں
اس کے بعد بھی یہ علاقہ مختلف تاریخی ادوار میں آباد رہا، جن میں ابتدائی شاہی دور، تیسری سلطنتِ اور، قدیم بابلی دور، کِشی دور اور جدید بابلی دور شامل ہیں
انہوں نے مزید بتایا کہ بعض نوادرات ایسے آثار کی نشاندہی کرتے ہیں جن کا تعلق سمندری سرزمین کے دور سے ہو سکتا ہے۔ اس سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخ کے کسی مرحلے میں یہ علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور ممکن ہے کہ یہ قدیم سومری دلدلی علاقوں کا حصہ رہا ہو یا کسی قدیم طوفان سے اس کا تعلق ہو تاہم، ان مفروضوں کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق اور آثارِ قدیمہ کے شواہد کا مطالعہ ضروری ہے
دوسری جانب، فرانسیسی آثارِ قدیمہ کی ٹیم کے سربراہ فلپ کینی نے بتایا کہ مشترکہ ٹیم دوسرے تحقیقی سیزن میں دریائے فرات کے قدیم راستے کے قریب اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے
اس مقصد کے لیے زمین میں چھوٹے چھوٹے آزمائشی گڑھے کھودے گئے ہیں، تاکہ زمینی تہوں کا مطالعہ کیا جا سکے اور اس مقام کے مختلف تاریخی ادوار کا تعین کیا جا سکے
انہوں نے کہا کہ یہ پہلی آثارِ قدیمہ کی ٹیم ہے جو اس علاقے میں دریائے فرات کے قدیم راستے کے مطالعے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اب تک دریافت ہونے والے نوادرات تقریباً 6000 قبل مسیح سے 500 قبل مسیح تک کے مختلف ادوار سے تعلق رکھتے ہیں
فلپ کینی نے مزید بتایا کہ مقام کی تاریخ کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے سروے اور کھدائی کا کام جاری ہے۔ گزشتہ سیزن کے دوران ملنے والے اہم آثار کا تعلق دوسری ہزار سالہ قبل مسیح سے ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس دور میں یہاں وسیع پیمانے پر انسانی آبادیاں موجود تھیں
فرانسیسی آثارِ قدیمہ کی ٹیم کی رکن جیرالدین ماستیلی نے بتایا کہ تحقیقی ٹیم میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ارضی طبیعیات کے ماہرین شامل ہیں، جو مقام سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کر رہے ہیں اور تاریخی تہوں کی مزید جانچ کے لیے نئے آزمائشی گڑھے کھود رہے ہیں
انہوں نے وضاحت کی کہ تحقیق کا بنیادی مقصد قدیم باشندوں کی روزمرہ زندگی، ان کے رہن سہن، خوراک اور سماجی تعلقات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ دریائے فرات کے قدیم راستے اور شہر کے باہمی تعلق کا جائزہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ جاننے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ قدیم زمانے میں دریائے فرات نے اس شہر اور دیگر شہروں کے درمیان رابطے اور آمدورفت میں کیا کردار ادا کیا تھا
جیرالدین ماستیلی کے مطابق، گزشتہ سیزن میں قدیم دیواروں کے آثار بھی دریافت ہوئے تھے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کشتیوں کی بندرگاہ کا حصہ تھے یا ممکنہ طور پر شہر کی فصیل سے تعلق رکھتے تھے
انہوں نے کہا کہ ان تعمیرات کی اصل نوعیت اور تاریخی حیثیت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔ اس لیے آئندہ سیزن میں ان آثار کی مزید کھدائی اور تحقیق کو ترجیح دی جائے گی، تاکہ ان کی نوعیت، مقصد اور تاریخی اہمیت کے بارے میں زیادہ مستند معلومات حاصل کی جا سکیں


