پاکستان: بین الاقوامی سیرت النبی(ص) کانفرنس، بعنوان ’’نسل نو کا تحفظ، تعمیر اور کردار، سیرت النبی کی روشنی میں‘‘

2026-08-27 08:35

اسلام آباد: ولادتِ رسولِ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت سے جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس منعقد ہوئی۔

اسلام آباد: ولادتِ رسولِ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت سے جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’نسلِ نو کا تحفظ، تعمیر اور کردار، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں‘‘ تھا۔

کانفرنس کے مہمانِ خصوصی وزیراعظم پاکستان محترم میاں محمد شہباز شریف تھے، جبکہ وفاقی وزیرِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کانفرنس کے منتظمِ اعلیٰ کی حیثیت سے انتظامات کی نگرانی کی۔ کانفرنس میں سیرتِ طیبہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مختلف پہلوؤں، بالخصوص نسلِ نو کی فکری، اخلاقی اور معاشرتی تربیت، کردار سازی اور انہیں اسلامی اقدار سے وابستہ رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس عظیم الشان کانفرنس میں ملک بھر سے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علمائے کرام، مشائخِ عظام، مذہبی و علمی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی سیرتِ مبارکہ نسلِ نو کی تربیت، اخلاقی اصلاح اور ایک پُرامن و صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

کانفرنس سے چیئرمین مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان، خطیب و امام بادشاہی مسجد لاہور مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سیرتِ نبوی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی روشنی میں نوجوان نسل کی تربیت، اتحادِ امت، بین المذاہب ہم آہنگی اور معاشرے میں امن و رواداری کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

تقریب میں وفاقی وزراء طارق فضل چوہدری، رانا ثناء اللہ خان، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری تنویر حسین، وزارتِ مذہبی امور کے سیکرٹری ابرار احمد مرزا سمیت مختلف سرکاری حکام، سفارت کاروں، علمائے کرام، مشائخ، سماجی شخصیات اور دیگر معزز مہمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل کو مختلف فکری، اخلاقی اور معاشرتی چیلنجز کا سامنا ہے، جن کا مؤثر مقابلہ سیرتِ رسولِ اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کو عملی زندگی کا حصہ بنا کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی حیاتِ مبارکہ انسانیت کے لیے عدل، رحمت، محبت، برداشت، رواداری، اخوت اور حسنِ کردار کا کامل نمونہ ہے۔

کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ نسلِ نو کی بہتر تربیت، ان کے اخلاق و کردار کی تعمیر اور انہیں معاشرتی و قومی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لیے سیرتِ نبوی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی تعلیمات کو عام کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے علماء، تعلیمی اداروں، والدین، مذہبی و سماجی تنظیموں اور ریاستی اداروں کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

بین الاقوامی سیرت النبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کانفرنس نے اس پیغام کو اجاگر کیا کہ رسولِ اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی سیرت صرف ایک تاریخی موضوع نہیں بلکہ عصرِ حاضر میں فرد، خاندان، معاشرے اور ریاست کی اخلاقی و اجتماعی تعمیر کے لیے ایک جامع اور عملی ضابطۂ حیات ہے۔ نسلِ نو کو سیرتِ طیبہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے جوڑ کر ایک باکردار، پُرامن، متحد اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد مضبوط کی جاسکتی ہے۔

المرفقات

العودة إلى الأعلى