زائر امام حسینؑ کی عظمت و فضیلت
دنیا میں بے شمار مسافر ایسے ہوتے ہیں جو تجارت، سیاحت یا ذاتی ضروریات کے لیے سفر کرتے ہیں، مگر کچھ ایسے خوش نصیب بھی ہیں جن کا سفر زمین سے آسمان تک عزت و عظمت کی ایک لازوال داستان بن جاتا ہے
یہ وہ عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام ہیں جو شوقِ امام حسینؑ میں کربلا کا رخ کرتے ہیں
ان میں سب سے بلند مقام اس زائر کا ہے جو معرفتِ حق کے ساتھ، امام حسینؑ کی امامت، ولایت اور عظمت کو دل کی گہرائیوں سے پہچانتے ہوئے بارگاہِ حسینی میں حاضر ہوتا ہے
ایسے زائر کے قدم صرف خاکِ کربلا پر نہیں پڑتے بلکہ رحمتِ الٰہی کے دروازے کھول دیتے ہیں
اس کی منزل صرف کربلا نہیں بلکہ رضائے الٰہی ہوتی ہے، اور اس کا سفر محض چند میلوں کا سفر نہیں رہتا بلکہ جنت کی ابدی نعمتوں تک پہنچنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ خوش نصیب مسافر ہے جس کے بارے میں ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے بشارت دی ہے کہ اس کا اجر جنت ہے، اس کے رزق میں وسعت عطا کی جاتی ہے، اس کی مشکلات جلد آسان کر دی جاتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے اس کے سفرِ زیارت میں اس کے رفیق بنتے ہیں، یہاں تک کہ اسے بحفاظت اس کے گھر تک پہنچاتے ہیں
اہل بیت علیہم السلام کی نورانی احادیث میں زائرِ امام حسینؑ کی ایسی عظمت بیان ہوئی ہے کہ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے
یہ زیارت محض ایک مستحب عمل نہیں بلکہ عشق، وفاداری، معرفت اور بندگیِ خدا کا ایسا عظیم مظہر ہے جس پر خود اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب عاشقانِ حسینؑ زیارت کے لیے روانہ ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ حاملانِ عرش اور اپنے مقرب فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے: أَ مَا تَرَوْنَ زُوَّارَ قَبْرِ اَلْحُسَینِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ ، أَتَوْهُ شَوْقاً إِلَيْهِ وَ إِلَى فَاطِمَةَ ، وَ عِزَّتِی وَ جَلاَلِی وَ عَظَمَتِی لَأُوجِبَنَّ لَهُمْ كَرَامَتِی(وَ لَأُحِبَّنَّهُمْ لِمَحَبَّتِی)
میرے ان بندوں کو دیکھو! یہ میرے محبوب حسینؑ اور ان کی مادرِ گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی محبت اور اشتیاق میں ان کی قبر کی زیارت کے لیے آئے ہیں۔پس مجھے اپنی عزت، جلال اور عظمت کی قسم! میں ضرور ان پر اپنی خاص کرامت واجب کر دوں گا، اور ان کی اس محبت کی وجہ سے یقیناً انہیں اپنا محبوب بنا لوں گا۔ وسائل الشیعة , ج ۱۴ , ص ۴۹۷
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آسمان بھی ان زائرین کی عظمت کا گواہ بنتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت، محبت اور کرامت ان کے شاملِ حال فرما دیتا ہے
روایات اہل بیت علیہم السلام بتاتی ہیں کہ زائرِ امام حسینؑ قیامت کے دن عام لوگوں کی صف میں نہیں ہوگا، بلکہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے پرچم کے سائے میں کھڑا ہوگا
وہ اپنے مولا کے ساتھ میدانِ محشر سے گزرے گا، ان کی شفاعت سے فیض یاب ہوگا اور آخرکار انہی کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔ اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان قیامت کے ہولناک دن امامِ مظلوم کی معیت نصیب کرے؟
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ: مَنْ أَتَى قَبْرَ اَلْحُسَيْنِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ شَوْقاً إِلَيْهِ كَانَ مِنْ عِبَادِ اَللَّهِ اَلْمُكْرَمِينَ وَ كَانَ تَحْتَ لِوَاءِ اَلْحُسَيْنِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ ، حَتَّى يُدْخِلَهُمَا اَلْجَنَّةَ جَمِيعاً. وسائل الشیعة ج ۱۴، ص ۴۹۷
جو شخص شوق و محبت کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے آپؑ کی قبرِ مبارک پر حاضر ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے معزز اور مکرم بندوں میں شمار ہوتا ہے، اور قیامت کے دن امام حسین علیہ السلام کے پرچم (لواءِ حسینی) کے زیرِ سایہ رہے گا، یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام اسے اپنے ساتھ جنت میں داخل فرمائیں گے
امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں ادا کی جانے والی ہر عبادت کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ: مَنْ أَتَاهُ وَ زَارَهُ وَ صَلَّى عِنْدَهُ رَكْعَتَيْنِ كُتِبَ لَهُ حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ فَإِنْ صَلَّى عِنْدَهُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كُتِبَتْ لَهُ حَجَّةٌ وَ عُمْرَةٌ تهذيب الأحکام , ج ۶ , ص ۷۹
جو شخص روضۂ اقدس پر زیارت آئے اور زیارت کرے اور دو رکعت نماز ادا کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک مقبول حج کا ثواب لکھ دیتا ہے، اور اگر چار رکعت نماز ادا کرے تو ایک حج اور ایک عمرہ اس کے نامۂ اعمال میں ثبت کر دیے جاتے ہیں
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کربلا صرف اشک و ماتم کی سرزمین نہیں بلکہ عبادت، قربِ الٰہی اور قبولیتِ اعمال کا مرکز بھی ہے۔
کتنی حیرت انگیز حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارک پر چار ہزار فرشتے مقرر فرمائے ہیں جو مسلسل گریہ کرتے رہتے ہیں
یہی فرشتے زائرِ حسینؑ کے استقبال کے لیے حاضر ہوتے ہیں، اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور جب وہ واپس روانہ ہوتا ہے تو اس کے گھر پہنچنے تک اس کے ہم سفر رہتے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی روایت کے الفاظ یہ ہیں : زُورُوا قَبْرَ اَلْحُسَيْنِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ وَ لَوْ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَحَقّاً إِنَّ مَنْ يَذْهَبُ إِلَى قَبْرِهِ عَارِفاً حَقَّهُ لَيْسَ لَهُ عِوَضٌ غَيْرَ اَلْجَنَّةِ، وَ يُرْزَقُ رِزْقاً وَاسِعاً وَ آتَاهُ اَللَّهُ فَرَجاً قَرِيباً، فَإِنَّ اَللَّهَ وَكَّلَ بِقَبْرِ اَلْحُسَيْنِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ أَرْبَعَةَ آلاَفِ مَلَكٍ يَبْكُونَهُ وَ یشَیعُونَ زَائِرَهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِنْ مَرِضَ عَادُوهُ، وَ إِنْ مَاتَ حَضَرُوا جَنَازَتَهُ بِالاِسْتِغْفَارِ لَهُ وَ اَلتَّرَحُّمِ عَلَيْهِ . زاد المعاد , جلد۱ , صفحه
امام حسین علیہ السلام کی قبرِ مبارک کی زیارت کیا کرو، اگرچہ سال میں ایک مرتبہ ہی سہی۔ بے شک جو شخص آپؑ کی بارگاہ میں اس حال میں حاضر ہوتا ہے کہ وہ آپؑ کے حق اور مقامِ امامت کی معرفت رکھتا ہو، اس کے لیے جنت کے سوا کوئی اور بدلہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے فراخ روزی عطا فرماتا ہے، اس کی مشکلات کے حل اور کشادگی کا جلد سامان مہیا فرماتا ہے۔
اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے امام حسین علیہ السلام کی قبرِ اقدس پر چار ہزار فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں، جو آپؑ پر گریہ کرتے رہتے ہیں اور زائر کو اس کے گھر واپس پہنچنے تک رخصت کرتے اور اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اگر وہ زائر بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرتے ہیں، اور اگر اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازے میں حاضر ہوتے ہیں، اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت نازل ہونے کی التجا کرتے ہیں
امام حسین علیہ السلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نورِ نظر اور دینِ اسلام کے محافظ ہیں۔ اسی لیے روایات میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرتا ہے، گویا اس نے خود رسولِ خداؐ کی زیارت کی ہے۔
روایت کے الفاظ یہ ہیں:إِنَّ زَائِرَ اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ زَائِرُ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ
مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل , جلد۱۰ , صفحه۲۵۳
یہی وجہ ہے کہ ائمۂ اہل بیت علیہم السلام نے اس زیارت کو عظیم ترین عبادات اور بہترین قربات میں شمار فرمایا
جو شخص معرفت، محبت اور شوق کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے مکرم بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کی نماز قبول ہوتی ہے، اس کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں، اس کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں، اس کے رزق میں وسعت عطا کی جاتی ہے، مشکلات آسان ہوتی ہیں، اور دنیا و آخرت میں اس کے لیے خیر و برکت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
یہ صرف ایک زیارت نہیں بلکہ انسان کی روحانی زندگی کا نیا آغاز ہے
زیارتِ امام حسین علیہ السلام عشق، معرفت، وفاداری اور بندگیِ خدا کا ایسا روشن مینار ہے جس کی روشنی قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں بار بار کربلا کی حاضری نصیب ہوتی ہے، اور سعادت مند ہیں وہ دل جو ہمیشہ "لبیک یا حسینؑ" کی صدا سے دھڑکتے رہتے ہیں
آئیے! ہم بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دستِ دعا بلند کریں
پروردگار! ہمیں دنیا میں بار بار خلوص، معرفت اور محبت کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت نصیب فرما، ہمارے دلوں کو عشقِ اہل بیت علیہم السلام سے آباد رکھ، اور روزِ قیامت ہمیں سید الشہداء علیہ السلام کے پرچم تلے جگہ عطا فرما، تاکہ ہم ان کی شفاعت کے سائے میں جنت الفردوس میں داخل ہوں۔ آمین یا رب العالمین



