زیارتِ اربعین: حکومت نے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے
زیارتِ اربعین کے پُرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے عراقی حکومت نے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں
وفاقی پولیس کے کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل محمد قاسم الفہد نے کہا ہے کہ زیارتِ اربعین کی سکیورٹی پر مامور تمام سکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مؤثر رابطہ برقرار ہے
انہوں نے ہدایت کی کہ انٹیلی جنس سرگرمیوں کو مزید فعال بنایا جائے، تلاشی کے عمل کو مؤثر اور سخت کیا جائے، جبکہ کربلائے مقدسہ جانے والے تمام راستوں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے
انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی منصوبے کے تحت نگرانی اور مانیٹرنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید کیمروں کے علاوہ موبائل سکیورٹی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں، جو چوبیس گھنٹے شاہراہوں اور زائرین کی آمد و رفت کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز نے تھرمل کیمروں سے لیس موبائل گاڑیاں بھی تعینات کی ہیں، جو سڑکوں کے اطراف کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ فضائی نگرانی اور سرویلنس کے لیے ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ K9 یونٹس (تربیت یافتہ پولیس کتوں) کے ذریعے تلاشی اور سرچ آپریشنز بھی مزید تیز کر دیے گئے ہیں
دوسری جانب، زیاراتِ میلیونیہ کی اعلیٰ سکیورٹی کمیٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشتبہ شخص یا مشکوک شے کی فوری اطلاع دیں، تاکہ زائرین کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور پُرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے اور وہ مکمل اطمینان اور سہولت کے ساتھ زیارتِ اربعین کی سعادت حاصل کر سکیں۔



