حرمِ امام حسینؑ نے سال کی پہلی ششماہی میں کینسر کے مریضوں کے علاج پر 30 ارب عراقی دینار خرچ کیے
حرمِ امام حسینؑ کے ادارۂ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران عراق بھر میں کینسر اور خون کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو مفت اور رعایتی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 30 ارب عراقی دینار خرچ کیے گئے
ادارۂ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے سربراہ، ڈاکٹر حیدر حمزہ العابدی نے بتایا کہ یہ معاونت حرمِ امام حسینؑ کے انسانی فلاح و بہبود کے طبی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد بالخصوص کینسر اور خون کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو مفت یا رعایتی علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے
انہوں نے کہا کہ یہ فنڈز ادارے کے زیرِ انتظام تین خصوصی طبی مراکز کے لیے مختص کیے گئے
ان میں الوارث انٹرنیشنل اسپتال برائے علاجِ سرطان شامل ہے، جہاں 15 سال سے کم عمر بچوں کا مکمل علاج بلا معاوضہ کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر عمر کے مریضوں کو رعایتی طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں
اسی طرح امام مجتبیٰؑ اسپتال برائے امراضِ خون و بون میرو ٹرانسپلانٹ عراق بھر سے آنے والے مریضوں کو جدید طبی سہولیات، پیچیدہ جراحی، اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کی خصوصی خدمات فراہم کر رہا ہے
علاوہ ازیں الثقلین اسپتال برائے علاجِ سرطان، بصرہ میں جنوبی عراق کے مریضوں کو علاج کی معیاری سہولیات مہیا کر رہا ہے، جس کے باعث انہیں علاج کی غرض سے دور دراز شہروں کا سفر کرنے کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا
ڈاکٹر حیدر حمزہ العابدی نے کہا کہ یہ معاونت حرمِ امام حسینؑ کے مریضوں کی خدمت اور عراق کے شعبۂ صحت کی مضبوطی کے عزم کا عملی مظہر ہے
انہوں نے مزید کہا کہ اس بڑے پیمانے پر کیے گئے اخراجات نے طبی شعبے میں سماجی یکجہتی اور فلاحی خدمات کے تصور کو مزید مستحکم کیا ہے، جو خصوصی طبی اداروں کے قیام و توسیع اور شہریوں کو مفت یا رعایتی علاج کی فراہمی کے ذریعے عملی شکل اختیار کر رہا ہے


