قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی کامیاب زندگی کا حقیقی اصول ہے: شیخ عبدالمہدی کربلائی

2026-06-12 08:05

کربلا: مرجعِ دینیِ اعلیٰ کے نمائندے، شیخ عبدالمہدی کربلائی نے کہا ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت، تجوید، ترتیل اور حفظ بے شک نہایت اہم اور قابلِ قدر اعمال ہیں، تاہم قرآن کا اصل مقصد اس کے مفاہیم کو سمجھنا، ان پر عمل کرنا اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے

یہ بات انہوں نے حرمِ امام حسینؑ کے زیرِ اہتمام منعقدہ بین الاقوامی ہفتۂ قرآن میں شریک مختلف ممالک کے قراء، حفاظ اور قرآنی وفود سے ملاقات کے دوران کہی

انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم انسانیت کے لیے ہدایت کا کامل سرچشمہ ہے اور اس کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک زندگی میں مقصدیت اور ہدف کا تعین ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے اہداف کو واضح کرے اور قرآنی اقدار و اصولوں کی روشنی میں اپنی راہ کا انتخاب کرے

شیخ کربلائی نے مزید کہا کہ خوش الحان قراء اور دلنشین اندازِ تلاوت یقیناً لوگوں کے دلوں کو قرآن کی جانب متوجہ کرتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انسان کے دل و روح میں پاکیزگی پیدا ہو اور قرآنی تعلیمات اس کے کردار، اخلاق اور طرزِ عمل میں نمایاں ہوں۔ قرآنِ کریم کا مقصد محض تلاوت نہیں بلکہ صالح انسان اور باشعور معاشرے کی تشکیل ہے

انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں قرآنی مقابلوں کا دائرہ صرف قراءت اور حفظ تک محدود نہ رہے بلکہ تفسیر، تدبر، فہمِ قرآن اور آیاتِ الٰہی کے عملی اطلاق جیسے شعبوں کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ شرکاء قرآن کے معانی و مفاہیم کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کر سکیں

شیخ عبدالمہدی کربلائی نے کہا کہ مختلف اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے قراء اور حفاظ کا روضۂ مبارک امام حسینؑ کے زیرِ سایہ جمع ہونا اسلامی اخوت، اتحاد اور وحدت کا ایک روشن پیغام ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان قرآنی تعاون اور تبادلۂ تجربات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قرآنی اقدار کی بنیاد پر امتِ مسلمہ کے دلوں کو قریب لانے میں مدد ملے گی

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ قرآنی صلاحیتوں کی سرپرستی، تربیت اور مسلسل حوصلہ افزائی ایک باشعور اور قرآنی نسل کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ساتھ ہی ان حفاظ اور قراء کی خصوصی حمایت بھی ضروری ہے جنہوں نے مشکل حالات اور بے شمار چیلنجز کے باوجود قرآنِ کریم کی تعلیم اور حفظ کا سفر جاری رکھا

العودة إلى الأعلى