شیخ کربلائی کا صحنِ امام حسن مجتبیٰؑ اور رکضۃِ طویریج کے راستے کا دورہ، کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار
مرجعِ دینیِ اعلیٰ کے نمائندے شیخ عبد المہدی کربلائی نے حرمِ امام حسینؑ کے سیکریٹری جنرل حسن رشید جواد العبایجی اور مختلف شعبہ جات کے سربراہان کے ہمراہ صحنِ امام حسن مجتبیٰؑ منصوبے کا فیلڈ وزٹ کیا
اس دوران بالخصوص رکضۃِ طویریج کے اس راستے کا جائزہ لیا گیا جہاں سے ہر سال دس محرم الحرام کو لاکھوں عزادار گزرتے ہیں۔ یہ میگا پراجیکٹ حرمِ حسینی کے شعبۂ توسیعی منصوبہ جات کی نگرانی میں جاری ہے اور اُن وسیع تر توسیعی اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد ملینیائی زیارات کے دوران لاکھوں زائرین کے لیے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو مزید بہتر بنانا ہے۔
دورے کے دوران منصوبے کے مختلف مراحل اور تعمیراتی پیش رفت کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ یہ منصوبہ حرمِ حسینی کے اہم اور اسٹریٹجک منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف حصوں میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور نمایاں پیش رفت کا مشاہدہ کیا گیا، خصوصاً اُس مخصوص راستے کا جو عزاداروں، زائرین اور ماتمی دستوں کی بڑی تعداد کے گزرنے کے لیے مختص کیا گیا ہے
حرمِ حسینی کے شعبۂ توسیعی منصوبہ جات کے سربراہ انجینئر حسین رضا مہدی نے بتایا کہ یہ دورہ صحنِ امام حسن مجتبیٰؑ منصوبے اور بالخصوص رکضۃِ طویریج کے راستے میں جاری کام کی رفتار اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا، تاکہ یومِ عاشوراء کے موقع پر یہاں سے گزرنے والے ماتمی دستوں اور زائرین کی سلامتی اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ صحنِ امام حسینؑ کی بڑی توسیع کا حصہ ہے، جس کا تعمیراتی رقبہ تقریباً 90 ہزار مربع میٹر ہے، جبکہ بیرونی سرنگ سمیت اس کا مجموعی رقبہ تقریباً ایک لاکھ مربع میٹر تک پہنچتا ہے
انہوں نے مزید بتایا کہ رکضۃِ طویریج کا راستہ تقریباً 14 ہزار مربع میٹر پر مشتمل ہے، جسے بڑی تعداد میں زائرین، عزاداروں اور حسینی مواکب کی آمدورفت کو سہل بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے
ان کے مطابق منصوبے میں تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور چھت کے 95 فیصد سے زائد کام مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی حصوں کی تکمیل بھی جلد متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے پر روزانہ 22 گھنٹے مسلسل شفٹوں میں کام جاری رکھا جا رہا ہے تاکہ اسے مقررہ مدت میں اعلیٰ فنی معیار کے ساتھ مکمل کیا جا سکے
انہوں نے مزید کہا کہ دورے کے دوران جاری ہدایات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تعمیراتی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے کام کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے، تاکہ زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں



