سفیر ہسپتال نے نیمۂ شعبان کی زیارت کے لیے جامع طبی منصوبہ تیار کر لیا

2026-02-02 14:11

سفیر امام حسینؑ سرجیکل ہسپتال نے نیمۂ شعبان، یومِ ولادتِ امام مہدی منتظرؑ کی مناسبت سے دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط طبی منصوبے کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عراق اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والی ماہر میڈیکل ٹیمیں شریک ہوں گی

سفیر ہسپتال کے انتظامی ڈائریکٹر انجینئر عباس عبد علی نے بتایا کہ حرمِ امام حسینؑ کے متولیِ شرعی کی ہدایات پر اس خصوصی طبی منصوبے کو حتمی شکل دی گئی ہے، جو تین بنیادی یونٹس پر مشتمل ہے

انہوں نے وضاحت کی کہ پہلا یونٹ زیاراتِ میلیونیہ کے مرکزی طبی مرکز سے متعلق ہے، جس میں سفیر ہسپتال کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس یونٹ کے تحت ہسپتال میں 100 بستروں کے ساتھ 4 آپریشن تھیٹرز اور جدید ایمرجنسی وارڈز دستیاب ہوں گے۔ زیارت کے دوران عام وارڈز کو بھی ہنگامی مریضوں کے لیے مخصوص کر دیا جائے گا، تاکہ ہسپتال مکمل طور پر ایک ایمرجنسی ہسپتال کی حیثیت اختیار کر لے

انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے یونٹ کے تحت صحنِ عقیلہ زینبؑ میں 60 بستروں پر مشتمل ایک جدید فیلڈ ہسپتال قائم کیا جائے گا، جو جدید ترین طبی آلات، ادویات اور ضروری سازوسامان سے مکمل طور پر لیس ہوگا

اس کے علاوہ صحنِ حسینیؑ کے اندر دو ایمرجنسی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے، جن میں ایک خواتین اور دوسرا مردوں کے لیے مخصوص ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقل اور موبائل میڈیکل ٹیمیں اور تربیت یافتہ عملے کے ساتھ ایمبولینسز اہم مقامات پر تعینات کی جائیں گی

انہوں نے بتایا کہ تیسرے یونٹ میں مریضوں کے انخلاء اور ایمبولینسز کی نقل و حرکت کا تفصیلی منصوبہ شامل ہے، جس کے تحت 25 چھوٹی الیکٹرک اسٹریچر اور بڑی ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں جبکہ چھوٹی ایمبولینسز کا کام ہنگامی مریضوں کو ایمرجنسی مراکز، فیلڈ ہسپتالوں اور سفیر ہسپتال منتقل کرنا ہوگا، جبکہ بڑی ایمبولینسز اُن مریضوں کو شہر کے قدیم علاقے کے پہلے سیکیورٹی حصار سے باہر منتقل کریں گی جنہیں آئی سی یو یا دیگر سرجیکل خدمات درکار ہوں

انہوں نے مزید کہا کہ سفیر امام حسینؑ ہسپتال نے تمام فیلڈ ہسپتالوں، ایمرجنسی مراکز اور طبی ٹیموں کو زندگی بچانے والی ادویات اور ضروری طبی سازوسامان سے لیس کر دیا ہے، جبکہ ان تمام مراکز میں ماہر ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور معاون عملہ تعینات کیا گیا ہے

انہوں نے بتایا کہ اس طبی منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 200 بستر فراہم کیے گئے ہیں، جن میں 100 بستر سفیر ہسپتال میں جبکہ باقی بستر فیلڈ ہسپتالوں، ایمرجنسی مراکز اور طبی یونٹس میں صحنِ حسینیؑ کے اندر اور اس کے اطراف میں تقسیم کیے گئے ہیں

انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت تین اداروں کے مشترکہ تعاون سے اس کا نفاذ ہے، جن میں سفیر امام حسینؑ ہسپتال، امام زین العابدینؑ سرجیکل ہسپتال اور خدیجۃ الکبریٰؑ تخصصی برائے خواتین ہسپتال شامل ہیں

انہوں نے بتایا کہ طبی منصوبے کا آغاز 13 شعبان المعظم سے ہوگا اور یہ 15 شعبان کی فجر تک جاری رہے گا۔ اس دوران بڑی تعداد میں تربیت یافتہ موبائل طبی عملہ سفیر ہسپتال کی نگرانی میں ہنگامی مریضوں کو طبی امداد اور منتقلی کی خدمات انجام دے گا، جبکہ الوارث اسکاؤٹس کے رضاکاروں کے تعاون سے مریضوں کی بروقت منتقلی اور طبی ٹیموں کے قریب مخصوص مقامات پر تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔

آخر میں انہوں نے تصدیق کی کہ 400 سے زائد ملازمین اس طبی منصوبے میں شریک ہوں گے، جن میں ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، اینستھیزیا ماہرین، لیبارٹری ٹیکنیشنز، فارماسسٹ، ریڈیولوجی ماہرین، فنی، انتظامی، خدماتی اور معاون عملہ شامل ہے، جبکہ عراق اور بیرونِ ملک سے 300 رضاکار ڈاکٹرز اور طبی ماہرین بھی شریک ہوں گے۔ اس طرح مجموعی طور پر اس طبی مشن میں شریک افراد کی تعداد تقریباً 900 تک پہنچ جائے گی

المرفقات

العودة إلى الأعلى