کالاپن ڈیجیٹل لائبریری آف ساؤتھ ایشیا کا تعارف
سیاہی سے روشنی تک کا سفر
یہ کہانی گزشتہ بیس سال کی شب و روز کی آہ و زاری کی داستانِ غم ہے۔ یہ گزشتہ دس سال کی شامِ غریباں کی مرثیہ خوانی کا نتیجہ ہے
یہ گزشتہ پانچ سال کی مسلسل بیداری سے تیار کردہ وہ کشتہ حیات ہے، جو گزشتہ دو صدیوں کے زخم کا مرہم ہے
بیس سال سے ایک فکر مند درویش رو رہا ہے ان کتابوں کے لیے جو مر رہی تھیں۔ دس سال تک اس درویش نے ان کتابوں اور نادر قیمتی نسخوں کی لاشوں پر نوحہ پڑھا، ایک ایک ورق کو تلاش کیا اور محفوظ بنانے کی کوشش کی
گزشتہ پانچ سال سے مسلسل وہ جاگ رہا ہے، تاکہ اس مرہم کو تیار کرسکے جو آج آپ کی سکرین پر رکھا ہے۔ تاکہ یہ مرہم گزشتہ دو صدیوں کے زخموں پر رکھاجا سکے، ان زخموں پر جو جہالت نے ہر سو وائرس کی طرح پھیلا رکھے ہیں
ہماری قوم نے خود ان نایاب کتابوں کو ردی کہہ کر قبرستانوں میں دفنا دیا ہے۔ تبرک سمجھ کر دریاؤں اور سمندروں میں ڈبو دیا ہے۔ فالتو کے کاغذات سمجھ کر ان میں پکوڑے سموسے ڈال کر کھا لیے ہیں۔ جنہیں گزشتہ دو صدیوں سے دیمک کی فوج کے حوالے کر دیا ہے، تاکہ وہ ہمارے اس علمی ورثے کی لاشوں کو نوچ نوچ کر کھا جائے اور وقت کی گدھیں ان کی ہڈیاں تک چوس جائیں، تاکہ علم و دانش کی روشنی کا آخری شمع بھی بجھ جائے۔
برصغیر کی وہ نایاب کتابیں اور قلمی نسخے جو دیمک کی خوراک بن رہے ہیں، جو ردی کے ڈھیر میں پھینکے جا رہے ہیں، جو بارش میں گل رہے ہیں، انہیں تلاش کرنا، ان کی مرمت کرنا، انہیں بین الاقوامی معیار پر ڈیجیٹائز کرنا، اور دنیا کے ہر محقق، ہر طالب علم، ہر اسکول، ہر یونیورسٹی تک پہنچانا
یہ صرف کتابیں محفوظ کرنا نہیں ہے۔ یہ تہذیب کا جنازہ کندھوں پر اٹھانا اور دفنانا ہے
سفر کے مشکل مراحل
1۔ پھٹی ہوئی کتابیں، بکھیرے ہوئے اوراق کی تلاش
یہ نسخے کسی شاہی کتب خانے سے نہیں ملتے۔ یہ ملتے ہیں لاہور کے اردو بازار کی تاریک دکان میں ردی کے ڈھیر تلے، ملتان کی پرانی حویلی کے صندوق میں جہاں دیمک نے محل بنا لیا ہو، ماضی کی ویران خانقاہوں میں، کسی قدیم مدرسے کے اندھیرے سٹور روم میں، قصہ خوانی بازار کے کباڑیے کے پاس، کسی مرحوم عالم دین کے حجرے میں، کسی درویش کی چھت پر کسی کونے میں
پنجاب کی جھلسا دینے والی لو میں، سرحد کے برف پوش پہاڑوں میں، سندھ کے تپتے صحراؤں میں، بلوچستان کے سنگلاخ ویرانوں میں۔ اٹھارہ سال تک شہر در شہر، نگر نگر کی خاک چھانی گئی
ان کی حالت کیا ہوتی ہے؟ کسی کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے، اوراق ایسے بکھرے ہیں جیسے شہید کے اعضاء جنگ میں بکھر جائیں۔ کوئی آدھا بارش میں گل چکا ہے، کسی پر کیڑوں نے اپنا نشان چھوڑا ہے۔ یہ کتاب نہیں، یہ یتیم تاریخ ہے۔ یہ کوڑے میں پھینکی گئی ہماری ماں کی وصیت ہے
2۔ کتابوں کا ہسپتال
اسکیننگ سے پہلے کالاپن کو ایک پورا ہسپتال کھولنا پڑا۔ ہر بوسیدہ ورق کو کانپتے ہاتھوں پر رکھ کر، روتے ہوئے سیدھا کیا جاتا ہے، صاف کیا جاتا ہے، جوڑا جاتا ہے۔ ایک کتاب کے سو صفحے ہوتے ہیں، پچاس ایک شہر سے ملتے ہیں، بیس دوسرے صوبے سے، تیس برسوں کی تلاش کے بعد ملتے ہیں
بوسیدہ صحفات کو نہایت ھی احتیاط سے اسکین کیا جاتا ہے، تاکہ صحفات کی سرجری نہایت احتیاط ہوسکے ایک غلط حرکت سے صدیوں کا نسخہ خاک ہو سکتا ہے
3۔ سکیننگ کے کٹھن مراحل
دس سال اسی مرحلے میں لگے۔ میز پر جدید اوور ہیڈ سکینر نصب ہے۔ نیچے پرانا نسخہ کھول کر رکھا جاتا ہے، ہاتھ سے دبائے بغیر۔ سکینر کی نیلی روشنی سے صفحہ سکین ہوتا ہے اور فوراً Acer مانیٹر پر اس کی صاف ترین تصویر نمودار ہوتی ہے۔ لیپ ٹاپ پورے عمل کو کنٹرول کرتا ہے
ہر صفحے کی اصل خطاطی، اس کی سرخ اور سیاہ سیاہی، اس کا حاشیہ اور نقش و نگار بالکل ویسا ہی محفوظ ہوتا ہے جیسا اصل میں ہے۔ یہ فوٹو کاپی نہیں، یہ اصل کا ڈیجیٹل عکس ہے
4۔ میٹا ڈیٹا کا صحرا
اسکیننگ کے بعد اصل قیامت شروع ہوتی ہے، جسے میٹا ڈیٹا کہتے ہیں۔ پچاس کتابوں کے MARC ریکارڈ بناتے بناتے انسان کی روح مدہوش ہو جاتی ہے۔ یہ گرمی دماغ کو جھلسا دیتی ہے۔ اسی لیے کالاپن نے اس شعبے کو اپنی ریڑھ کی ہڈی مانا ہے۔ عربی، فارسی، اردو، ہندی، پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی، ہر رسم الخط کے زخم دل پر سہے گئے ہیں۔
5۔ مرمت، جلد سازی اور ڈیٹا بیس
ڈیجیٹائز ہونے کے بعد نسخے کو یوں نہیں چھوڑا جاتا۔ اس کی مرمت کی جاتی ہے، دوبارہ بائنڈ کیا جاتا ہے، جیسے شہید کو غسل دے کر کفن پہنا کر دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہو۔ اب یہ دو شکلوں میں محفوظ ہے، اصل شکل میں اور ڈیجیٹل شکل میں
آج کالاپن کہاں ہے؟
کئی سال کی محنت سے http://www.kalapan.org کی شکل میں ایک عالمی معیار کی ریسرچ سائٹ تیار ہوئی ہے
آج اس ڈیٹا بیس میں 20,000 سے زیادہ نایاب کتابیں موجود ہیں،جو ابھی ابتدائی طور پر اپلوڈ کردی گی اور ھزاروں کی تعداد میں قیمتی و نادر ترین مطبوعات مخطوطات اپلوڈ ہونے کے لیے اخری مراحل میں داخل ہوچکے ھے اور کچھ ہونے والے ھے ۔ بنیادی مضامین کی تعداد چھیاسٹھ ھے اور ضمنی ایک لاکھ پچاس ہزار موضوعات پر مشتمل ہے۔ جن کے صفحات کی تعداد ساٹھ لاکھ کے قریب ہے اور اتنی ہی بڑی تعداد پر سکیننگ، کراپنگ اور میٹا ڈیٹا کا کام جاری و ساری ہے۔ اردو، عربی، فارسی، پنجابی، پشتو، سندھی، ہندی، انگریزی زبان پر مشتمل ہے۔
عنوانات کی ترتیب
شعبہ علومِ اسلامیہ: قرآنیات، تفسیر، حدیث، سیرت، فقہ، فتاویٰ جات، تصوف، درسیات، اسلامی فلسفہ و اخلاق، جنرل اسلامیات، سوانح عمری، عقائد و نظریات، اوراد و وظائف، مسلم خواتین، تقابلِ ادیان، سیاہی سے روشنی تک کا سفر
شعبہ لٹریچر: ناول و ڈرامہ،
دیوان، نعت، قصہ خوانی، تنقید، غزلیات، مرثیہ خوانی، قصائد، مثنویات، عربی شاعری، فارسی شاعری، پنجابی شاعری، اردو شاعری، اقبالیات، جنرل شاعری و نظم، نثر نگاری، ادبی جرائد و رسائل
شعبہ ایجوکیشن: جنرل ایجوکیشن، لغات، فلسفہ، قدیمی ٹیکسٹ کتب و گرائمر
شعبہ تاریخ: جنرل تاریخ، اسلامی تاریخ، عرب تاریخ، مغلیہ تاریخ، انڈین تاریخ، یورپین تاریخ، پاکستانی تاریخ، سوانح عمری و شخصیات، سیاسیات
شعبہ میڈیسن و طب: جنرل میڈیسن و طب، اسلامی طب، آیورویدک طب، ایلوپیتھک، ہومیوپیتھک، یونانی طب، طبی رسائل و جرائد
شعبہ سوشل سائنس: آسٹرولوجی، جنرل جرائد و رسائل
شعبہ تقابلِ ادیان:تقابلِ ادیان، ہندومت
شعبہ آرکائیو برائے مخطوطات و دستاویزات: عربی مخطوطات، فارسی مخطوطات، پنجابی مخطوطات، اردو مخطوطات، قلمی بیاضات، انفرادی کلیکشن، خطوط و دستاویزات
شعبہ انٹرٹینمنٹ: پاکستانی فلمی بک لٹ، پاکستانی فلمی پوسٹر
یہ صرف ایک مقامی خزانہ نہیں رہا۔ یہ اب کئی عالمی اداروں کے ساؤتھ ایشیا ڈیٹا بیس کا حصہ ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی اپنے ریسرچ گائیڈ میں اس کے تقریباً 6,000 عنوانات کو شامل کر چکی ہے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی، برکلے یونیورسٹی، لاس اینجلس یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پنسلوانیا اور بے شمار عالمی ریسرچ سینٹر اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ وہ نادر مطبوعات جو کبھی ردی کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے تھے اج کئ عالمی یونیورسٹیوں کی جنوبی ایشیا ریسرچ پروگرام کا حصہ بنتے جارھے ھے اور آج کراچی ہو یا لاہور، دہلی ہو یا ڈھاکہ، ہر طالب علم کی سکرین پر ایک کلک کی دوری پر حاضر ہے
اب سوال یہ ہے
شاہ جہاں نے تاج محل پتھروں سے بنایا تھا۔ کالاپن ڈیجیٹل لائبریری نے تاج محل بوسیدہ کاغذات سے بنایا ہے۔ ایک نے پتھروں کو امر کیا، دوسرے نے لفظوں کو
ہم نے اپنے حصے کی شمع جلا دی ہے۔ صحراؤں کی خاک چھانی ہے، برف سہی ہے، برساتی نالوں میں بہے ہیں۔ لیکن یاد رکھے، ایک شمع سے اندھیرا ختم نہیں ہوتا
آئیں ہم سب مل کر اپنے حصے کی شمع روشن کریں، اس سے پہلے کہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کوسیں کہ تم نے ہماری وراثت کو ردی میں بکنے دیا
خادمِ علم و تہذیب
محمد عثمان رضوی
منتظم، کالاپن ڈیجیٹل لائبریری آف ساؤتھ ایشیا
www.kalapan.org


