زینبؑ بنتِ علیؑ: یزید کے ایوانِ اقتدار میں حیدری للکار
ظلم جب اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اکثر ظالم یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب اس کے سامنے کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ اقتدار اس کے ہاتھ میں ہے، لشکر اس کے اشارے پر حرکت کرتے ہیں، خزانے اس کے حکم کے تابع ہیں، عدالتیں اس کی مرضی کی پابند ہیں اور زبانیں اس کے خوف سے خاموش ہیں۔ قانون، اخلاق، شریعت اور انسانی اقدار، سب گویا اس کے سامنے بے معنی ہو چکے ہیں
اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ حق وہی ہے جسے وہ حق قرار دے، باطل وہی ہے جسے وہ باطل کہے، اور تاریخ وہی لکھے گی جسے لکھوانے کے لیے وہ اپنے کاتبوں کو حکم دے گا۔ لیکن تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے: طاقت ہمیشہ حق کی دلیل نہیں ہوتی، غلبہ ہمیشہ کامیابی نہیں ہوتا، اور کسی کو شکست دے دینا اس کے نظریے کو شکست دے دینا نہیں ہوتا! یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے سے یزید عاجز تھا
کربلا کی سرزمین پر رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، جگرگوشۂ بتول، حضرت امام حسین علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا تھا۔ وہ حسینؑ جن سے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محبت فرمائی، جنہیں اپنے وجود کا حصہ قرار دیا، جن کے مقام و مرتبے کو امت کے سامنے بارہا بیان کیا۔ ان کے اہلِ بیتؑ اور اصحاب نے وفا، ایثار اور استقامت کی ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے
خیمے لٹ گئے، اہلِ حرم اسیر ہوئے، اور شہیدوں کے سر نیزوں پر بلند کر کے اس دربار کی طرف لے جائے گئے جہاں اقتدار کے نشے میں مست ایک حکمران اپنی فتح کا جشن منانے بیٹھا تھا
یزید کے سامنے امام حسینؑ کا سرِ مبارک رکھا تھا۔ وہ سر جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محبت سے بوسے دیے تھے، اب ایک تشت میں تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر یزید نے اپنی فتح پر اتراتے ہوئے وہ اشعار پڑھے جن میں بدر کے مقتول مشرک سرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے آباؤ اجداد کی انتقامی تسکین کا اظہار کیا گیا:
1. لَیتَ أَشْیاخِی بِبَدْرٍ شَہدُوا جَزَعَ الْخَزْرَجِ مِنْ وَقْعِ الْأَسَلْ
2. قَدْ قَتَلْنَا الْقَرْمَ مِنْ سَادَاتِکمْ وَعَدَلْنَا مَیلَ بَدْرٍ فَاعْتَدَلْ
3. فَأَہلُّوا وَاسْتَہلُّوا فَرَحًا ثُمَّ قَالُوا يَا یزِیدُ لَا تُشَلْ
4. لَسْتُ مِنْ خِنْدِفَ إِنْ لَمْ أَنْتَقِمْ مِنْ بَنِی أَحْمَدَ مَا كَانَ فَعَلْ
5. لَعِبَتْ ہاشِمُ بِالْمُلْک فَلَا خَبَرٌ جَاءَ وَلَا وَحْی نَزَلْ
۱۔ کاش! بدر میں میرے بزرگ موجود ہوتے تو دیکھتے کہ نیزوں کی ضربوں سے خزرج کس طرح چیخ و پکار کر رہا ہے
۲۔ ہم نے تمہارے سرداروں میں سے ایک عظیم سردار کو قتل کر دیا اور بدر میں ہونے والے نقصان کا بدلہ چکا دیا، یوں حساب برابر ہو گیا
۳۔ پس وہ خوشی سے نعرے لگانے لگے اور مسرت کا اظہار کرنے لگے۔ پھر انہوں نے کہا: اے یزید! تیرا ہاتھ شل نہ ہو، یعنی تیری قوت برقرار رہے
۴۔ اگر میں نے احمد (رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد سے انتقام نہ لیا تو میرا خندف قبیلے سے ہونا ہی بے معنی ہے
۵۔ بنو ہاشم نے تو حکومت کے ساتھ ایک کھیل کھیلا تھا؛ حقیقت یہ ہے کہ نہ کوئی خبر آئی تھی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی تھی
وہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے حسینؑ کو قتل کر کے حسینؑ کے پیغام کو بھی قتل کر دیا ہے۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ جس سر کو نیزے پر بلند کر دیا جائے، اس کے ساتھ اس کا نظریہ بھی سربریدہ ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ جس خاندان کو قید کر لیا جائے، اس کی عزت، اس کی قوت اور اس کی آواز بھی قید ہو جاتی ہے
لیکن وہ بھول گیا تھا کہ حسینؑ کا سر قلم کیا جا سکتا ہے، حسینؑ کے مشن کو سر بریدہ نہیں کیا جا سکتا؛ حسینؑ کے اہلِ بیتؑ کو اسیر کیا جا سکتا ہے، ان کے حوصلے کو نہیں؛ حسینؑ کے خیموں کو جلایا جا سکتا ہے، ان کے چراغِ ہدایت کو نہیں!
اور اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کے دربار میں ایک ایسی خاتون کھڑی ہے جس کے الفاظ اس کے تمام غرور پر بجلی بن کر گرنے والے ہیں۔
وہ خاتون کون تھی؟
وہ زینبؑ تھی!
علی مرتضیٰ علیہ السلام کی بیٹی، فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی لختِ جگر، امام حسنؑ ، امام حسینؑ اور غازی عباس علمدار کی بہن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کی تربیت یافتہ، شجاعتِ حیدری اور صبرِ فاطمی کی وارث!
آپ کی آنکھوں نے کربلا کا وہ منظر دیکھا تھا جسے دیکھ کر پہاڑ بھی لرز اٹھیں۔ آپ نے اپنے بھائی حسینؑ کو تنہا زخموں سے چور نرغہ اعدا میں کھڑےدیکھا تھا۔ آپ نے اپنے بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں اور خاندان کے دیگر عزیزوں کی شہادت کا صدمہ سہا تھا۔ آپ نے بچوں کی پیاس، خیموں کی بے حرمتی اور اہلِ حرم کی اسیری دیکھی تھی۔وہ مدینہ کی ایک باوقار خاتون تھی، لیکن اب کوفہ و شام کے راستوں سے گزرتی ہوئی ایک اسیر کے طور پر یزید کے دربار میں کھڑی تھی۔ ظاہری نگاہ سے دیکھیے تو منظر یزید کے حق میں تھا
تخت اس کا، دربار اس کا، لشکر اس کا، اقتدار اس کا، اور سامنے کھڑی خواتین و بچوں کی جماعت اس کے حکم کے نتیجے میں اسیر تھی۔
مگر تاریخ کے فیصلے ظاہری مناظر سے نہیں ہوتے!
یزید کے پاس تخت تھا، زینبؑ کے پاس حق تھا
یزید کے پاس اقتدار تھا، زینبؑ کے پاس کردار تھا
یزید کے پاس لشکر تھا، زینبؑ کے پاس ایمان تھا
یزید کے پاس تلوار تھی، زینبؑ کے پاس کلمۂ حق کی وہ قوت تھی جس کے سامنے باطل کی تمام صف آرائیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اور پھر اسیر زینبؑ نے بولنا شروع کیا!
یہ کسی شکست خوردہ خاتون کی فریاد نہیں تھی
یہ کسی مجبور قیدی کی درخواست نہیں تھی
یہ کسی مظلوم کی وہ التجا نہیں تھی جو ظالم کے دل میں رحم پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہے
یہ علیؑ کی بیٹی کا خطاب تھا!
یہ اس گھرانے کی آواز تھی جس نے حق کے لیے جان دینا سیکھا تھا، حق سے دست بردار ہونا نہیں!
خطبے کا ایک ایک لفظ ذولفقار ہی کی دھار کی طرح کاٹ دار اور شہ رگ باطل پر کاری وار ہے مگر ان جملوں پر زرا توجہ کریں
زینبؑ نے یزید کے غرور کو للکارتے ہوئے فرمایا: (وَہلْ رَأْیک إِلَّا فَنَدٌ، وَأَیامُک إِلَّا عَدَدٌ، وَجَمْعُک إِلَّا بَدَدٌ)
کیا تیری رائے باطل اور کمزور تدبیر کے سوا کچھ ہے؟
کیا تیری حکومت کے دن گنتی کے چند دنوں کے سوا کچھ ہیں؟
اور کیا تیرا لشکر آخرکار بکھر جانے کے سوا کچھ ہے؟
ذرا اس منظر کا تصور کیجیے!
ایک طرف وہ حکمران ہے جو اپنے لشکر کی تعداد پر نازاں ہے، جسے اپنے اقتدار کی وسعت پر غرور ہے، جو سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے دشمنوں کو مٹا دیا اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنا لیا ہے
دوسری طرف ایک اسیر خاتون ہے جو اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے اقتدار کی حقیقت بیان کر رہی ہے!
وہ کہہ رہی ہے:اے یزید! تو اپنے لشکر کو دیکھ کر دھوکے میں مبتلا نہ ہو۔ اپنے اقتدار کو دیکھ کر خود کو ناقابلِ شکست نہ سمجھ۔ اپنی نام نہاد کامیابی کو ابدی فتح نہ سمجھ ۔ تیرے یہ دن گنتی کے ہیں، تیری یہ صفیں منتشر ہونے والی ہیں، اور تیری یہ تدبیریں تجھے اس انجام سے نہیں بچا سکتیں جو ظلم کا مقدر ہے!
یہ الفاظ محض چند جملے نہیں تھے؛ یہ اقتدار کے نشے میں چور ہر حکمران کے لیے ایک ابدی پیغام تھا۔ ظالم کی سب سے بڑی کمزوری ہی یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو دائمی اور مظلوم کی کمزوری کو ابدی سمجھ بیٹھتا ہے
وہ بھول جاتا ہے کہ
وقت بدلتا ہے
تخت الٹتے ہیں
لشکر بکھرتے ہیں
نام مٹتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے کبھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں
یزید سمجھتا تھا کہ کربلا میں حسینؑ کو شہید کر کے اس نے اپنی حکومت کو مضبوط کیا ہے۔ زینبؑ نے بتا دیا کہ اس نے اپنی حکومت کی بنیادوں میں ایسی دراڑ ڈال دی ہے جسے وقت مزید گہرا کرتا جائے گا
زینبؑ نے ہمدردی نہیں مانگی، تاریخ کو گواہ بنایا!
یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے!
اگر کوئی عام انسان اس مقام پر ہوتا تو شاید اپنے دکھوں کا ذکر کرتا، اپنے پیاروں کی جدائی پر روتا، اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی فہرست بیان کرتا اور ظالم سے رحم کی درخواست کرتا
لیکن زینبؑ کا انداز مختلف تھا
وہ اپنے غم کی اسیر نہ تھیں۔ وہ اپنے غم کو حق کی گواہی بنا رہی تھیں
وہ اپنی مصیبت کو ایک ایسے پیغام میں تبدیل کر رہی تھیں جو دربار کی دیواروں سے نکل کر نسل در نسل انسانیت تک پہنچنے والا تھا
آپ کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں تھا کہ ان پر ظلم ہوا ہے، بلکہ آپ کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ ظلم کرنے والا کبھی حق پر نہیں ہوتا، خواہ اس کے پاس کتنی ہی طاقت کیوں نہ ہو!
زینب یزید سے ہمدردی کی بھیک نہیں مانگ رہی تھیں۔ وہ اس کے اقتدار کی اخلاقی بنیادوں کو بے نقاب کر رہی تھیں
وہ اپنے بھائی کی شہادت پر صرف نوحہ نہیں کر رہی تھیں؛ وہ دنیا کو بتا رہی تھیں کہ حسینؑ نے کیوں قربانی دی، کس مقصد کے لیے قربانی دی، اور اس قربانی کے بعد اس کے پیغام کو زندہ رکھنا کیوں ضروری ہے۔
یہی زینبؑ کا عظیم کارنامہ ہے:
انہوں نے مصیبت کو خاموشی نہیں بننے دیا
اسیری کو بے بسی نہیں بننے دیا ،
اور آنسوؤں کو حق کی آواز پر غالب نہیں آنے دیا
اور پھر وہ تاریخی للکار جس میں عزمِ حیدری کی پوری شان نمایاں ہے:
کدْ كَیدَک، وَاسْعَ سَعیكَ، فَوَاللّٰهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا
اے یزید! اپنی چالیں چل لے، اپنی پوری کوشش کر لے؛ خدا کی قسم! تو ہمارا ذکر مٹا نہیں سکے گا!
یہ ایک ایسی خاتون کے الفاظ ہیں جس کے خاندان کے افراد شہید کیے جا چکے ہیں، جس کے سامنے اس کے بھائی کا سرِ مبارک رکھا ہے، جسے اپنے وطن سے دور اسیر بنا کر لایا گیا ہے، اور جس کے سامنے بظاہر اس کے دشمن کی تمام قوتیں موجود ہیں۔
مگر اس کے لہجے میں شکست نہیں!
اس کی آواز میں خوف نہیں!
اس کے الفاظ میں مصلحت کے نام پر حق سے دست برداری نہیں!
وہ یزید کو چیلنج کر رہی ہے کہ تو اپنی ساری تدبیریں آزما لے، اپنی ساری قوت صرف کر لے، اپنے تمام وسائل استعمال کر لے، مگر تو ہمیں تاریخ سے مٹا نہیں سکے گا!
کیوں؟
اس لیے کہ ذکر صرف نام کا نہیں ہوتا؛ ذکر کردار کا بھی ہوتا ہے۔ تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے تخت پر بیٹھنا ضروری نہیں، کبھی کبھی تخت کے سامنے کھڑے ہو کر حق کہنا زیادہ بڑی کامیابی بن جاتا ہے۔نام کو زندہ رکھنے کے لیے لشکر درکار نہیں، کبھی کبھی ایک سچی آواز کافی ہوتی ہے۔ نظریے کو باقی رکھنے کے لیے اقتدار ضروری نہیں، کبھی کبھی ایک عظیم قربانی اسے زمانوں کے دلوں میں ثبت کر دیتی ہے
یزید حسینؑ کے سر کو تشت میں رکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے حسینؑ کی آواز ختم کر دی ہے
زینبؑ نے اسے بتا دیا کہ حسینؑ کا سر خاموش تمہارے سامنے ہے، مگر حسینؑ کا پیغام اب پوری قوت کے ساتھ تمہارےاپنے دربار میں گونج رہا ہے!
یہ لہجہ حیدری تھا!
زینبؑ کی اس للکار میں ہمیں علی مرتضیٰ علیہ السلام کے خطبات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ وہی گھرانہ ہے جس نے میدانِ جنگ میں بھی حق کا پرچم بلند رکھا اور محرابِ عبادت میں بھی، جس نے طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کے لیے قربانی کو ترجیح دی
علیؑ کی بیٹی نے اپنے والد کی شجاعت کو صرف تلوار کی صورت میں نہیں پایا تھا؛ اس نے اسے کلمۂ حق کہنے کی جرأت، باطل کے سامنے استقامت، اور مصیبت کے وقت ب صبر و صیرت کی صورت میں بھی ورثے میں پایا تھا
حیدرؑ کی شجاعت صرف میدانِ جنگ میں دشمن کو زیر کرنے کا نام نہیں؛ شجاعت یہ بھی ہے کہ جب دنیا کی تمام ظاہری قوتیں ایک طرف ہوں اور حق کا علم اٹھانے والا بظاہر تنہا ہو، تب بھی انسان اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹے
فاطمہؑ کی بیٹی نے کربلا میں صبر کیا، مگر ان کا صبر خاموشی نہیں تھا۔ آپ نے مصیبت برداشت کی، مگر ظلم کے مقابلے میں سکوت اختیار نہ کیا ۔ آپ نے اسیری قبول کی، مگر اپنے ضمیر کو کسی کے اقتدار کے حوالے نہیں کیا
اس نے ہمیں سکھایا کہ صبر، ظلم کے سامنے سر جھکانے کا نام نہیں؛ صبر، حق پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے
زینبؑ کربلا میں موجود تھیں تو حسینؑ کے مشن کی گواہ تھیں؛ کوفہ و شام میں خطبے دے رہی تھیں تو اسی مشن کی ترجمان تھیں۔ ان کی اسیری ظاہری تھی، مگر ان کی فکر آزاد تھی۔ ان کے گرد پہرے تھے، مگر ان کی آواز پر پہرا نہیں لگایا جا سکتا تھا
آج تاریخ کے صفحات کھولیے!
یزید کا نام آتا ہے تو اس کے ساتھ ظلم، جبر اور ستم کا تذکرہ ہوتا ہے۔ امام حسینؑ کا نام آتا ہے تو اس کے ساتھ حق، قربانی، آزادی اور حریت کا چراغ روشن ہو جاتا ہے
یہی وہ فرق ہے جو نام نہاد غلبے اور حقیقی کامیابی کے درمیان ہے
یزید کے پاس اقتدار تھا، مگر وہ اپنے کردار کو تاریخ کے فیصلے سے نہ بچا سکا۔ حسینؑ کے پاس دنیاوی حکومت نہ تھی، مگر ان کا پیغام دنیا کے ضمیر میں زندہ رہا۔ زینبؑ اسیر تھیں، مگر ان کی آواز آزاد نسلوں تک پہنچ گئی۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ زینبؑ نے یزید کے دربار میں جرأت کا مظاہرہ کیا؛ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس دربار کے تصورِ فتح کو ہی تبدیل کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ فتح یہ نہیں کہ آپ کے دشمن کے جسم پر غلبہ حاصل کر لیا جائے؛ فتح یہ ہے کہ آپ حق کے اصول کو مٹنے نہ دیں۔ کامیابی یہ نہیں کہ آپ اپنے مخالف کو خاموش کر دیں؛ کامیابی یہ ہے کہ آپ کی خاموش کرائی گئی آواز بھی آنے والی نسلوں کے ضمیر میں گونجتی رہے۔ یزید حسینؑ کو قتل کر سکتا تھا، مگر حسینؑ کی حقانیت کو قتل نہیں کر سکتا تھا۔ وہ زینبؑ کو اسیر بنا سکتا تھا، مگر زینبؑ کی زبان سے نکلنے والے پیغام کو اسیر نہیں بنا سکتا تھا۔
آج کے یزیدوں کے نام زینبؑ کا پیغام
یہ داستان صرف ماضی کی ایک تاریخ نہیں؛ یہ ہر زمانے کے ظالموں کے لیے ایک آئینہ ہے
آج بھی دنیا میں ایسے حکمران، ادارے اور طاقت کے مراکز موجود ہو ہیں جو اپنے اقتدار کو ہر قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، جو مخالف آوازوں کو دبانے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وسائل پر قبضہ کر لینے سے حقیقت پر بھی قبضہ ہو جاتا ہے
وہ سمجھتے ہیں کہ خوف کے ذریعے لوگوں کو خاموش کر کے حق کو مٹا دیں گے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر سچ بولنے والے کمزور دکھائی دیں، اگر ان کے پاس حکومت نہ ہو، اگر ان کے ساتھ ظاہری وسائل نہ ہوں، تو ان کی بات بھی بے وزن ہو جائے گی۔
مگر زینبؑ کی آواز آج بھی ان کے سامنے سوال بن کر کھڑی ہے:
تمہاری تدبیر کتنی دیر باقی رہے گی؟
تمہارا اقتدار کتنا پائیدار ہے؟
تمہارے لشکر، تمہارے وسائل اور تمہاری قوتیں کب تک تمہارے ساتھ رہیں گی؟
کیا تم سمجھتے ہو کہ لوگوں کو خاموش کر کے ان کے ضمیر بھی خاموش کر دو گے؟
کیا تم سمجھتے ہو کہ تاریخ کے صفحات پر اپنے حق میں فیصلے لکھوا کر حقیقت کو بدل دو گے؟
کیا تم سمجھتے ہو کہ کسی سچائی کو دبانے سے وہ سچائی ختم ہو جائے گی؟
نہیں!
تاریخ کا فیصلہ محض طاقت کے بل پر نہیں ہوتا۔ انسانی ضمیر، اخلاقی اصول اور حق و باطل کے درمیان امتیاز وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہو تا جاتا ہے۔ ظلم کی عمر کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اسے حق کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
اور جو لوگ حق کی خاطر قربانی دیتے ہیں، ان کی عظمت کا پیمانہ ان کے پاس موجود وسائل نہیں، بلکہ ان کے مقصد کی صداقت ہوتی ہے۔
زینبؑ کا نام مٹانے والے خود مٹ گئے!
اے زینبؑ!
آپ نے ہمیں بتایا کہ مظلوم ہونا شکست خوردہ ہونا نہیں، اسیر ہونا بے اختیار ہونا نہیں، اور اقتدار سے محروم ہونا بے وقعت ہونا نہیں۔
اے علی کی شیر دل بیٹی !
آپ نے ہمیں بتایا کہ کبھی کبھی ایک خطاب ہزاروں تلواروں سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے؛ ایک سچی گواہی پورے دربار کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیتی ہے؛ اور ایک بے خوف جملہ ظلم کے غرور کو خاکستر بنا دیتا ہے۔
اے ثانی زہراٗ !
آپ نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ اپنے عزیزوں کی قربانی کے بعد صرف آنسو بہانا کافی نہیں؛ ان کے مقصد کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ شہیدوں کے خون کی گواہی دینا، ان کے پیغام کو زندہ رکھنا اور ظلم کے سامنے حق کہنا بھی وفاداری کا حصہ ہے
اے منبر سلونی کے تنہا مالک کی وارث !
آپ کے اس جملے پر ہماری جانیں کڑورں بار قربان، کہ جب آپ نے فرمایا : (كِدْ كَیدَكَ، وَاسْعَ سَعیكَ، فَوَاللّٰہ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا)
اے یزید! اپنی چالیں چل لے، اپنی ساری کوشش کر لے؛ خدا کی قسم! تو ہمارا ذکر مٹا نہیں سکے گا!
یہ زینبؑ کی للکار تھی، یہ حریت کا اعلان تھا، یہ حق کی فتح کا یقین تھا!
اور تاریخ آج بھی گواہی دے رہی ہے: تخت بدل گئے، تاج مٹی میں مل گئے، لشکر منتشر ہو گئے؛ مگر حسینؑ کا نام باقی ہے، زینبؑ کا پیغام باقی ہے، اور حق و حریت کی وہ صدا آج بھی زندہ ہے جو دربارِ یزید میں بلند ہوئی تھی! اشرف اخوندزادہ جامعہ الکوثر اسلام آباد بمناسبت ۵ جمادی الاول ، ولادت باسعادت صدیقہ صغری زینب کبری سلام اللہ علیہا



