22 ملین زائرین، حرم امام حسینؑ کی توسیعی منصوبہ ایک وقت میں اتنے بڑے اجتماع کو کیسے سموئے گا؟
عام طور پر کربلا میں ملینز زیارات کے حوالے سے جب اعداد و شمار بیان کیے جاتے ہیں تو ان کے مفہوم میں فرق ہوتا ہے، کیونکہ زیارت کے دوران آنے والے مجموعی زائرین کی تعداد اور ایک ہی وقت میں کسی ایک مقام پر موجود افراد کی تعداد ایک جیسی نہیں ہوتی
اس سال زیارتِ اربعین کے دوران کربلا کے گورنر نے اعلان کیا کہ 22 ملین سے زائد افراد صوبہ کربلا میں داخل ہوئے، جن میں 172 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 لاکھ غیر ملکی زائرین بھی شامل تھے
اسی طرح حکومت کے میڈیا سیل کے سربراہ نے اعلان کیا کہ زیارتِ اربعین کے دوران 2 لاکھ 26 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار نے خدمات انجام دیں
دوسری جانب حرم امام حسینؑ کی انتظامیہ نے حرم کے گرد جاری عظیم توسیعی منصوبے کے بارے میں بتایا ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اس میں ایک وقت میں 10 لاکھ سے زائد زائرین کی گنجائش ہوگی
ان دونوں اعداد کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ زیارت کے پورے عرصے کے دوران آنے والے زائرین کی مجموعی تعداد اور کسی مخصوص مقام پر ایک ہی وقت میں موجود افراد کی گنجائش دو الگ تصورات ہیں۔
22 ملین زائرین سے مراد وہ افراد ہیں جو زیارت کے دوران ایک مخصوص مدت میں صوبہ کربلا میں داخل ہوئے، جبکہ توسیعی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ایک ہی وقت میں 10 لاکھ سے زائد زائرین کو سمو سکے گا۔
گنجائش کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
ریش میں انجینئرنگ کے شعبے کسی مقام کی گنجائش کا تعین صرف اس کے رقبے کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا، بلکہ اس بات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے کہ افراد کو وہاں کس طرح تقسیم کیا جائے گا اور وہ کس رفتار سے حرکت کریں گے
اس سلسلے میں ہجوم کی کثافت ایک اہم معیار ہے، یعنی فی مربع میٹر موجود افراد کی تعداد۔ اس کے ساتھ ساتھ گزرگاہوں، داخلی اور خارجی راستوں سے افراد کے گزرنے کی رفتار بھی ایک اہم معیار سمجھی جاتی ہے
برطانوی صحت و سلامتی کے ادارے کی ہدایات میں اس بات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کہ افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ اس وقت سے لیا جائے جب وہ مقام پر پہنچتے اور داخل ہوتے ہیں، پھر وہاں ان کی نقل و حرکت سے لے کر ان کے خروج تک پورے عمل کا جائزہ لیا جائے
اسی طرح ان ہدایات میں داخلی و خارجی راستوں، قطاروں، گزرگاہوں اور ہجوم کی منتقلی کے مقامات کی مسلسل نگرانی کی سفارش کی گئی ہے، تاکہ آمدورفت کو حالات کے مطابق منظم کیا جا سکے
10 لاکھ زائرین کی گنجائش سے کیا مراد ہے؟
حرم امام حسینؑ کی انتظامیہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق توسیعی منصوبہ حرم کے گرد چار بڑے صحنوں پر مشتمل ہے اور اس کا مجموعی رقبہ تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر ہے
اس میں تقریباً 5 لاکھ مربع میٹر عبادت کے لیے مختص ہے، جبکہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر رقبہ خدمات کے لیے رکھا گیا ہے
حرم کی انتظامیہ کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے کے بعد حرم کی حدود میں ایک وقت میں 10 لاکھ سے زائد زائرین کو سمویا جا سکے گا
نظری حساب کے مطابق اگر 5 لاکھ مربع میٹر کے عبادتی رقبے میں 10 لاکھ افراد موجود ہوں تو اوسطاً ہر مربع میٹر میں تقریباً دو افراد ہوں گے
جبکہ 7 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر کے مجموعی رقبے کو شمار کیا جائے تو اوسط تقریباً 1.3 افراد فی مربع میٹر بنتا ہے
یہ حسابات افراد کی تعداد اور رقبے کے درمیان تعلق کا ایک عمومی تصور پیش کرتے ہیں، تاہم یہ منصوبے کے اندر زائرین کی حقیقی تقسیم کی عکاسی نہیں کرتے، کیونکہ داخلی راستوں، گزرگاہوں، خدمات اور اجتماع کے مقامات کے لحاظ سے مختلف علاقوں میں زائرین کی کثافت اور نقل و حرکت مختلف ہوتی ہے
توسیع کی اہمیت صرف زائرین کے لیے نئی جگہ کے اضافے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں آمدورفت اور خدمات کے ایک جامع نظام کی ترقی بھی شامل ہے
اس توسیع میں عبادت اور خدمات کے لیے جگہوں کے ساتھ ساتھ داخلے اور خروج کی نقل و حرکت کو منظم کرنے، طبی، سکیورٹی اور دیگر ضروری خدمات کا انتظام بھی شامل ہے
اس نوعیت کی منصوبہ بندی میں زائر کی نقل و حرکت کو منصوبے کے ڈیزائن کا بنیادی حصہ بنایا جاتا ہے؛ یعنی علاقے تک پہنچنے، داخل ہونے، اندر نقل و حرکت کرنے، عبادت گاہوں اور خدمات تک پہنچنے اور پھر وہاں سے باہر نکلنے تک تمام مراحل کو مدنظر رکھا جاتا ہے
بین الاقوامی ہجوم مینجمنٹ کے معیارات کے مطابق داخلی و خارجی راستوں اور آمدورفت کے راستوں کا ڈیزائن کسی بھی ایسے مقام کی عملی صلاحیت کا بنیادی حصہ ہے جہاں بڑی تعداد میں افراد آتے ہوں
لاکھوں زائرین کی آمدو رفت سڑکوں، پلوں، پیدل گزرگاہوں، گاڑیوں کی پارکنگ اور شہر کے مرکز کی جانب جانے والے داخلی راستوں کے وسیع نیٹ ورک سے منسلک ہے
اسی لیے کربلا میں ہجوم مینجمنٹ، ٹریفک، سکیورٹی اور خدمات کے منصوبوں کے ساتھ مربوط ہے
گزشتہ زیارتِ اربعین کے دوران جنرل ٹریفک ڈائریکٹوریٹ نے اعلان کیا کہ زیارت کے خصوصی ٹریفک منصوبے میں 16 ہزار افسران اور اہلکار شریک ہوئے، جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے نگرانی کے ذرائع اور کیمروں کا استعمال بھی کیا گیا
اس طرح ہجوم مینجمنٹ ایک مربوط عمل بن جاتا ہے، جس میں آمدورفت، سڑکیں، پیدل گزرگاہیں، داخلی راستے، صحن، خدمات اور نگرانی کے مراکز شامل ہوتے ہیں
نگرانی اور آمدورفت کا انتظام
بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ بڑے ہجوم کے انتظام کے لیے زائرین کی آمدورفت کی مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے۔
زیارتِ اربعین کے دوران وزیراعظم نے شہر کی نقل و حرکت کی نگرانی کے نظام کے تحت کربلا پولیس ڈائریکٹوریٹ کے کیمروں، انتظامیہ اور کنٹرول شعبے کے کام کا جائزہ لیا
بین الاقوامی ہجوم مینجمنٹ کے رہنما اصول مسلسل نگرانی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف افراد کی مجموعی تعداد معلوم کرنا نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ لوگ کہاں جمع ہو رہے ہیں، کس سمت میں حرکت کر رہے ہیں اور ان کی آمدورفت کی رفتار کیا ہے
اس نوعیت کی نگرانی متعلقہ اداروں کو داخلی و خارجی راستوں کا انتظام کرنے اور زیارت کے اوقات میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق زائرین کی نقل و حرکت کو منظم کرنے میں مدد دیتی ہے
تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل اور ایک وقت میں 10 لاکھ سے زائد زائرین کی گنجائش رکھنے والے منصوبے کے ساتھ حرم امام حسینؑ کی توسیع دنیا کے بڑے ترین انسانی اجتماعات میں سے ایک کے انتظام کے وسیع تر نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہاں انجینئرنگ کا چیلنج صرف رقبے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے سڑکوں، داخلی و خارجی راستوں اور خدمات کے نیٹ ورک سے کس طرح مربوط کیا جائے اور منصوبے کے اندر اور باہر زائرین کی آمدورفت کو کس طرح منظم کیا جائے
اس طرح توسیعی منصوبے کو محض جگہ میں اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ بنیادی ڈھانچے، خدمات اور زائرین کی آمدورفت کے نظام کی ترقی کی نمائندگی کرتا ہے، جو لاکھوں کی تعداد میں ہونے والی زیارتوں میں شریک افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق ہے
منصوبے کی مسلسل ترقی کے ساتھ رقبہ، گنجائش، گزرگاہوں کی چوڑائی، داخلی و خارجی راستوں کی گنجائش، آمدورفت کی رفتار، نگرانی اور خدمات ایسے باہم مربوط عناصر بن جاتے ہیں، جن کے ذریعے شہر اور مذہبی مقامات کی بڑی تعداد میں آنے والے زائرین کو قبول کرنے اور ان کی آمدورفت کو منظم کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے


