حرم امام حسینؑ اور اقوام متحدہ کے درمیان زرعی شعبے کی ترقی اور مقامی پیداوار کے فروغ پر تبادلہ خیال
کربلا: حرم امام حسینؑ نے عراق میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کا استقبال کیا، جس کے دوران زرعی شعبے کی ترقی، مقامی پیداوار میں اضافے، فنی مہارتوں اور بین الاقوامی تجربات کے تبادلے سمیت باہمی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا
حرم امام حسینؑ کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن اور زرعی ادارے کے سربراہ رزاق الطائی نے کربلا انٹرنیشنل نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی اور مقامی پیداوار میں اضافے کے لیے بین الاقوامی اداروں، بالخصوص عراق میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم بنانا انتہائی اہمیت رکھتا ہے
انہوں نے کہا کہ اس تعاون کے ذریعے عالمی تجربات اور جدید فنی مہارتوں سے استفادہ کرتے ہوئے عراقی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے، ملکی ذرائع آمدن میں تنوع پیدا کیا جا سکتا ہے اور تیل پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ حرم امام حسینؑ کو ترقیاتی، انسانی اور خدماتی منصوبوں پر عمل درآمد کا ایک نمایاں تجربہ حاصل ہے، جن کا بنیادی مقصد معاشرے کی خدمت اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے
رزاق الطائی کے مطابق ملاقات کے دوران حرم امام حسینؑ کے زیرِ انتظام جاری اہم منصوبوں کا تعارف پیش کیا گیا اور ان کے طریقۂ کار اور حاصل ہونے والے نتائج پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کے علاوہ زرعی شعبے میں مشترکہ تعاون، تجربات کے تبادلے اور زرعی پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا
انہوں نے بالخصوص کھجور سمیت اہم اسٹریٹجک زرعی فصلوں کی پیداوار کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی ترقی قومی معیشت کو مستحکم کرنے، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور زرعی پیداوار و سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ حرم امام حسینؑ بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے ساتھ ہر اس تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے جس کے ذریعے ملکی تجربات اور عالمی فنی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ایسے ترقیاتی منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچائے جا سکیں جن کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچیں
دوسری جانب عراق میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مقیم نمائندے تیتون مترا نے حرم امام حسینؑ کے زیرِ انتظام جاری منصوبوں کو سراہتے ہوئے ان کے معاشرے پر مثبت اثرات کی تعریف کی
انہوں نے بھی زرعی شعبے کی ترقی کو عراقی معیشت میں تنوع پیدا کرنے اور تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا



