بھارت: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں یومِ حسینؑ کا انعقاد
بھارت کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بیت الصلوٰۃ میں یومِ حسینؑ کے عنوان سے ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا
جس میں امام حسینؑ کی سیرت، کربلا کے پیغامِ حق و عدل اور اس کی عالمگیر معنویت پر علماء، اساتذہ، شعراء اور طلبہ نے فکر انگیز گفتگو کی اور بارگاہِ حسینیؑ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا
تقریب کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگلش کے ڈاکٹر سدھارتھ چکرورتی نے کی
ان کی صدارت میں منعقد ہونے والی یہ محفل گویا کربلا کے اس چراغ کی تجدید تھی، جو صدیوں پہلے نیزوں کے سائے میں روشن کیا گیا اور جس کی لو آج بھی انسانی ضمیر کے اندھیروں کو منور کر رہی ہے
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد طلبہ نے قصائد پیش کیے اور بارگاہِ حسینیؑ میں اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کیے
بعد ازاں شعراء نے اپنے اپنے انداز میں امام حسینؑ اور کربلا کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا
شعراء کے کلام میں کربلا کہیں صبر و استقامت کی علامت بن کر ابھری، کہیں امام حسینؑ حق کے آسمان کا وہ روشن ستارہ قرار پائے جس کی روشنی ظلمتوں کے صحراؤں میں بھی رہنمائی کرتی ہے، کہیں شہادت کو گلستانِ وفا کی خوشبو سے تعبیر کیا گیا اور کہیں حسینیت کو ایسا دریا قرار دیا گیا جو خونِ شہداء سے گزرتا ہوا انسانیت کے سمندر تک پہنچتا ہے
تقریب سے ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی، چیئرمین شعبۂ دینیاتِ شیعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ڈاکٹر رضا عباس، ڈاکٹر حیدر حسینی، ڈاکٹر شاہ محمد عباس وسیم اور ڈاکٹر طیب رضا نقوی نے خطاب کیا۔ مقررین نے حضرت امام حسینؑ کی شخصیت، سیرت و کردار اور قیامِ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر مؤثر اور فکر انگیز گفتگو کی
ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی نے امام حسینؑ کی شخصیت کو حق، صداقت، شجاعت اور انسانی عظمت کا آئینہ قرار دیتے ہوئے کربلا کے پیغام کی معنویت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کربلا کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ضمیر کی ایسی آواز قرار دیا جو ہر دور کے انسان سے یہ سوال کرتی ہے کہ جب حق و باطل آمنے سامنے ہوں تو انسان کس جانب کھڑا ہوگا
دیگر مقررین نے بھی اپنے اپنے انداز میں امام حسینؑ کے کردار اور کربلا کے پیغام کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کے خطابات میں کہیں کربلا استقامت کا پہاڑ تھی، کہیں آزادی کی صبح اور کہیں انسانی شرف کے دفاع کی آخری حد
محفل کی ایک خصوصی اور نمایاں جہت ڈاکٹر سدھارتھ چکرورتی کا خطاب تھا
انہوں نے کربلا کے حوالے سے نہایت مؤثر اور فکر انگیز گفتگو کی۔ ان کی گفتگو میں کربلا مذہبی تاریخ کے ایک واقعے سے آگے بڑھ کر انسانی ضمیر کے استعارے کے طور پر سامنے آئی۔ انہوں نے کربلا کو ایسے آئینے سے تعبیر کیا جس میں ہر عہد اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے اور جہاں ظلم کے مقابلے میں خاموشی اور حق کے لیے استقامت کے درمیان انسان کو اپنا موقف متعین کرنا پڑتا ہے
محفل میں حسینیت کے مختلف پہلو نمایاں ہوئے۔ کسی نے امام حسینؑ کو حق کی وہ اذان قرار دیا جو صدیوں سے باطل کے ایوانوں میں گونج رہی ہے، کسی نے انہیں وفا کے آسمان کا ماہتاب کہا، جبکہ کسی نے کربلا کو صبر و استقامت کی ایسی بھٹی قرار دیا جہاں انسانیت کا کردار کندن بن کر نکھرا
تقریب کے اختتام پر پروفیسر طیب رضا نقوی نے تمام مقررین، شعراء، طلبہ، اساتذہ اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کی
تقریب کے اختتام پر شرکائے محفل کے لیے عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا، جس کے ساتھ یہ پُروقار اور یادگار محفل اختتام پذیر ہوئی



