عراق: وارث فاؤنڈیشن کینسر میں مبتلا 22 فیصد بچوں کو مفت علاج فراہم کر رہی ہے
وارث انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال عراق بھر میں کینسر کے مرض میں مبتلا تشخیص شدہ بچوں میں سے تقریباً 22 فیصد کو اپنے مختلف طبی مراکز کے ذریعے مکمل اور مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے
فاؤنڈیشن نے اپنی طبی خدمات کو مزید وسعت دینے اور زیادہ سے زیادہ مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے
حرمِ امام حسینؑ کے شعبۂ صحت و طبی تعلیم کے سربراہ ڈاکٹر حیدر حمزہ العابدی نے بتایا کہ وارث فاؤنڈیشن رواں سال 2026ء کے دوران عراق بھر میں کینسر کے مرض میں مبتلا تشخیص شدہ بچوں میں سے تقریباً 22 فیصد تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جنہیں مکمل اور مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ علاج وارث انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے مختلف طبی مراکز، جن میں وارث ہسپتال، المجتبیٰؑ ہسپتال اور الثقلین ہسپتال شامل ہیں، کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن مریضوں کو طبی خدمات فراہم کرنے کی اپنی استعداد بڑھانے اور مزید علاقوں تک خدمات کو وسعت دینے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے
انہوں نے مزید بتایا کہ فاؤنڈیشن کا طبی عملہ عراق کے تمام صوبوں میں وزارتِ صحت کے زیرِ انتظام کینسر کے علاج کے مراکز میں اپنے ساتھی طبی عملے کو مسلسل معاونت اور تعاون فراہم کر رہا ہے۔ اس اقدام سے طبی اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کینسر میں مبتلا بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی نگہداشت کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مدد مل رہی ہے
ڈاکٹر حیدر حمزہ العابدی نے کہا کہ حرمِ امام حسینؑ مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی اپنی استعداد میں مسلسل اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عالمی معیار کے مطابق جدید ترین طبی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اقدامات کر رہا ہے، تاکہ عراقی خاندانوں پر علاج کے اخراجات کا بوجھ کم کیا جا سکے اور ملک کے اندر ہی انہیں جامع اور معیاری طبی خدمات فراہم کی جا سکیں



