خوف ہار جائے گا، عشقِ امام حسینؑ جیت جائے گا

2026-07-30 11:58

دشمن یہ گمان کرتے ہیں کہ حملے ، بارود کی گھن گرج، دھمکیوں کی گونج اور خوف کی فضا زائرینِ امام حسین علیہ السلام کے قدم روک دے گی

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر راستے بند کر دیے جائیں، سرحدوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں اور دلوں میں دہشت بٹھا دی جائے تو اربعین کا یہ عظیم قافلہ منتشر ہو جائے گا

مگر وہ شاید تاریخِ کربلا کو نہیں جانتے، وہ عشقِ امام حسین علیہ السلام کی حقیقت سے ناواقف ہیں

امام حسین علیہ السلام کا راستہ کبھی آسان نہیں تھا۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چلنے والوں نے اپنے سروں کے نذرانے پیش کیے، اپنے جوانوں کی قربانی دی، اپنے بچوں کے لاشے اٹھائے، لیکن حق کا پرچم جھکنے نہیں دیا

جب نیزوں کی انیوں پر سر بلند تھا، جب تلواریں برس رہی تھیں، تب بھی امام حسین علیہ السلام نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ پھر ان کے عاشق خوف سے کیسے رک سکتے ہیں؟

اربعین محض ایک پیدل سفر نہیں، بلکہ یہ وفا، محبت، ایثار اور استقامت کا اعلان ہے۔ یہ وہ سفر ہے جس میں ہر قدم گویا یہ صدا دیتا ہے کہ "یا حسینؑ! ہم آج بھی آپ کے ساتھ ہیں، ہم نے آپ کے مشن کو نہیں بھلایا، اور نہ کبھی بھولیں گے

تاریخ گواہ ہے کہ ظلم نے ہمیشہ چراغِ ہدایت کو بجھانے کی کوشش کی۔ کبھی روضۂ امام حسینؑ کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی، کبھی زیارت پر پابندیاں لگائی گئیں، کبھی زائرین کو شہید کیا گیا، مگر ہر ظلم کے بعد عاشقانِ حسین علیہ السلام کی تعداد پہلے سے زیادہ ہو گئی۔ خون نے راستے روکے نہیں، بلکہ عشق کی نئی راہیں کھول دیں

آج بھی جنگ کی صدائیں بلند ہیں ، دشمن حملے کر کے خوف پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، تب بھی عشقِ حسینؑ کے مسافر رکنے والے نہیں۔ کیونکہ یہ سفر جسم سے پہلے روح کا سفر ہے، اور روح کو نہ گولی زخمی کر سکتی ہے، نہ دھمکیاں قید کر سکتی ہیں

عاشقِ حسین علیہ السلام جانتا ہے کہ اربعین کا ہر قدم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے صبر کی یاد دلاتا ہے، غازی عباس علمدار علیہ السلام کی وفاداری کا درس دیتا ہے، شہزادہ علی اکبر علیہ السلام کی قربانی کی خوشبو بکھیرتا ہے اور شہزادہ قاسم علیہ السلام کی جوانمردی کا پیغام سناتا ہے۔ ایسے سفر کو خوف کے ہتھیاروں سے نہیں روکا جا سکتا

دشمن سن لے! اگر دنیا میں صرف ایک ہی عاشقِ امام حسین علیہ السلام باقی رہ جائے، تب بھی اربعین کا سفر ختم نہیں ہوگا۔ وہ ایک عاشق تنہا ہی نجف سے کربلا تک قدم بڑھائے گا، ہر قدم پر لبیک یا حسینؑ کی صدا بلند کرے گا، اور دنیا کو بتا دے گا کہ عشق نہ تلوار سے مرتا ہے، نہ گولی سے، نہ جنگ سے، نہ دھمکیوں سے

اربعین ایک تحریک ہے، ایک زندہ پیغام ہے، ایک ایسا دریا ہے جسے کوئی بند نہیں باندھ سکتا۔ جتنی آندھیاں آئیں گی، یہ چراغ اتنا ہی روشن ہوگا۔ جتنی آزمائشیں بڑھیں گی، اتنے ہی قدم کربلا کی طرف اٹھیں گے

آؤ عہد کریں کہ حالات جیسے بھی ہوں، دل کی سمت ہمیشہ کربلا ہی رہے گی۔ اگر قدم چل سکتے ہیں تو ہم پیدل چلیں گے، اگر قدم رک جائیں تو دل چلتا رہے گا، اور اگر زبان خاموش ہو جائے تب بھی روح کی ہر دھڑکن یہی پکارے گی

لبیک یا حسینؑ

لبیک یا حسینؑ

لبیک یا حسینؑ

المرفقات

العودة إلى الأعلى