امام حسینؑ کے گنبد پر پرچم کو کیوں تبدیل کیا جاتا ہے؟
2026-06-16 15:25
امام حسینؑ کے گنبدِ مبارک پر نصب سرخ پرچم کو اتار کر اس کی جگہ سیاہ پرچم نصب کرنا دراصل غم و سوگ کی علامت اور ماہِ محرم الحرام کے آغاز کا اعلان ہے، کیونکہ اسی ماہ میں امام حسینؑ، آپؑ کے اہلِ بیتؑ اور وفادار اصحاب نے کربلا میں جامِ شہادت نوش کیا
عرب معاشرے کی قدیم روایت کے مطابق کسی ایسے مقتول کی قبر پر سرخ جھنڈا نصب کیا جاتا تھا جس کا انتقام لینا ابھی باقی ہو۔ اسی مناسبت سے امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضوں پر سرخ پرچم بلند کیا جاتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کے خونِ ناحق کا انتقام لینا ابھی باقی ہے

تاریخ میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اہلِ بیتؑ کے عمامے سبز رنگ کے ہوتے تھے، لیکن واقعۂ کربلا کے بعد اپنے جدِ امجد کے سوگ کے اظہار کرتے ہوئے سیاہ رنگ پہننا شروع کیا۔ اس روایت کو بعد میں ان سادات نے اپنایا جن کی نسبت اہلِ بیتؑ سے ہے

تاریخ کے مطابق امیرالمؤمنین امام علیؑ کے قاتل سے قصاص لیا گیا، اس لیے آپؑ کے گنبدِ مبارک پر سرخ علم بلند نہیں کیا جاتا، جبکہ امام حسینؑ کے خون کا انتقام لینا ابھی تک باقی ہے، لہٰذا آپؑ کے روضۂ مبارک پر سرخ پرچم بلند رہتا ہے۔ محرم الحرام کے ایام میں اسے عارضی طور پر سیاہ پرچم سے تبدیل کیا جاتا ہے، جو عزاداری اور سوگ کی علامت ہے، اور یہ سلسلہ حضرت امام مہدیؑ کے ظہور تک جاری رہے گا




