ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد
غٖیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک ایسے نظام کو نافذ کیا ہے جو "ٹول ٹیکس پوائنٹ" سے مشابہ ہے، جہاں وہ دوست ممالک کے جہازوں کو فیس وصول کر کے گزرنے کی اجازت دینگے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہازوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت اور مال برداری (کارگو) کی تفصیلات ایسے درمیانی افراد کے ذریعے فراہم کریں جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہوتے ہیں۔ اس کے بعد سیکیورٹی جانچ کی جاتی ہے اور فیس مقرر کی جاتی ہے، جو تیل بردار جہازوں کے لیے تقریباً ایک ڈالر فی بیرل سے شروع ہوتی ہے لیا جائے گا
مزید یہ بھی کہا گیا کہ ادائیگیاں چینی کرنسی یوآن یا مستحکم ڈیجیٹل کرنسیوں (اسٹیبل کوائنز) میں کی جاتی ہیں۔ فیس ادا کرنے کے بعد جہازوں کو گزرنے کی اجازت اور بحری حفاظت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ بعض جہازوں سے عارضی طور پر اپنا پرچم تبدیل کرنے کا بھی کہا جا سکتا ہے تاکہ آسانی سے گزر سکیں
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ اقدام اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے ان جہازوں کی نقل و حرکت متاثر کی ہے جنہیں وہ اپنے مخالفین یا ان کے اتحادیوں سے منسلک قرار دیتا ہے
دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت ایران ان ممالک پر سمندری پابندیاں عائد کرسکے گا جنہوں نے اس پر پابندیاں لگا رکھی ہیں



