کربلا: اوپن ہارٹ سرجری کے بغیر دل کی بند شریان کھول کر مریض کی جان بچا لی گئی

2026-03-17 13:02

حرمِ امام حسینؑ سے وابستہ امام زین العابدینؑ ٹیچنگ ہسپتال کی کارڈیک کیتھیٹرائزیشن ٹیم نے بائیں مرکزی کورونری شریان کے ابتدائی حصے میں ایک نایاب اور انتہائی خطرناک رکاوٹ کے شکار مریض کا بغیر اوپن ہارٹ سرجری کامیاب علاج کر لیا

ہسپتال کے میڈیا آفیسر مصطفیٰ الموسوی کے مطابق طبی ٹیم نے شدید رکاوٹ میں مبتلا مریض پر ہنگامی بنیادوں پر کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کا عمل انجام دیا، جو عالمی سطح پر ایک پیچیدہ اور غیر معمولی حالت سمجھی جاتی ہے

انہوں نے بتایا کہ مریض کی حالت اچانک بگڑ گئی تھی، جس کے باعث دل کی دھڑکن رک گئی۔ طبی ٹیم نے فوری طور پر سی پی آر (CPR) کیا اور اس کے بعد فوری مداخلتی کیتھیٹرائزیشن کے ذریعے علاج مکمل کیا، یوں اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت پیش نہ آئی

طبی ٹیم نے ایک خصوصی بیلون کے ذریعے بند شریان کو دوبارہ کھولا اور "فلئیر" تکنیک کے تحت دوا خارج کرنے والا اسٹنٹ نصب کیا۔ اس تکنیک میں اسٹنٹ کو معمولی طور پر شہ رگ (آورٹا) کی جانب بڑھایا جاتا ہے تاکہ وہ درست مقام پر مؤثر طریقے سے نصب ہو سکے۔ یہ مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا گیا

بعد ازاں مریض کو مزید نگرانی اور علاج کے لیے کارڈیک آئی سی یو منتقل کیا گیا۔ دو دن کی مسلسل نگرانی کے بعد مریض کی حالت بہتر ہو گئی اور اسے صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

اس کیس کی نگرانی ماہرِ امراضِ قلب اور کارڈیک کیتھیٹرائزیشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہدف عصام العبیدی نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ میڈیکل ٹیکنیشنز احمد الشمری، کرار جبار اور ابراہیم السروان نے معاونت فراہم کی

یہ کامیابی حرمِ امام حسینؑ سے وابستہ طبی اداروں کی مسلسل کاوشوں کا مظہر ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معیاری طبی سہولیات فراہم کرتے ہوئے انسانی جانوں کے تحفظ اور شعبۂ صحت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں

العودة إلى الأعلى